امریکی پابندیوں اور عالمی وبا کے باعث ایران کیلئے مشکل ترین سال ہے، حسن روحانی

اپ ڈیٹ 28 جون 2020

ای میل

ایرانی صدر کے مطابق  2018 میں شروع ہونے والے معاشی دباؤ کو بڑھا دیا گیا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
ایرانی صدر کے مطابق 2018 میں شروع ہونے والے معاشی دباؤ کو بڑھا دیا گیا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث ان کا ملک مشکل ترین سال سے گزار رہا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بحران نے ایران کے معاشی مسائل میں اضافہ کردیا ہے جو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور دوبارہ پابندیاں نافذ کرنے کے بعد بدتر ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 22 جون کو ایرانی ریال کی قدر امریکا ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر چلی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران میں 100 میٹر دور سے کورونا کے مریض کو پہچاننے والا آلہ متعارف

ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تقریر میں حسن روحانی نے کہا کہ 'دشمن کے معاشی دباؤ اور عالمی وبا کے باعث یہ مشکل ترین سال ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں شروع ہونے والے معاشی دباؤ کو بڑھادیا گیا ہے اور اب ہمارے پیارے ملک پر سخت ترین دباؤ ہے۔

ایران میں اپریل کے وسط سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق نافذ کی گئی پابندیاں بتدریج ہٹانے کے بعد وبا کے کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہاں تک کہ حال ہی میں گزشتہ 2 ماہ میں پہلی مرتبہ ایران میں اموات کی تعداد 100سے تجاوز بھی کرگئی تھی۔

ایرانی وزارت صحت کی ترجمان سیما سادات لاری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار 489 کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار 669 ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں مزید 144 افراد کی موت کے بعد وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار 508 ہوگئی۔

علاوہ ازیں حسن روحانی نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے ایران میں 'پُر ہجوم مقامات' جنہیں 'ریڈ اسپاٹس' تصور کیا جاتا ہے، میں 2 ہفتے کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

خیال رہے کہ سینئر عہدیداران کی جانب سے روزانہ خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر انفیکشنز میں اضافے کو روکنے کے لیے صحت کے قوانین جیسا کہ سماجی فاصلہ اختیار کرنے پر عمل نہیں کیا گیا تو پابندیاں دوبارہ نافذ کردی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھین: ایران میں کورونا سے ہلاکتوں میں کمی، تہران کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

گزشتہ روز ایران نے عوام کو ماسک کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے ایک مہم کا آغاز بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایران نے کہا تھاکہ اگر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ نہیں رکا تو ملک کے معاشی مسائل مزید خراب ہوجائیں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ 'یہ کہنا درست ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی معاشی پریشانیوں کی روک تھام کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے'۔

انہوں نے عدلیہ کے عہدیداروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا کہ اس بیماری میں غفلت اور نمایاں پھیلاؤ کی صورت میں معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔