کراچی میں بجلی بحران برقرار، تمام اسٹیک ہولڈرز ذمہ داری لینے سے گریزاں

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

سی سی ای ای اجلاس میں کراچی میں بجلی کی صورتحال اور کے الیکٹرک کی خراب منصوبہ بندی پر کابینہ کے اراکین کے درمیان گرم مباحثہ ہوا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
سی سی ای ای اجلاس میں کراچی میں بجلی کی صورتحال اور کے الیکٹرک کی خراب منصوبہ بندی پر کابینہ کے اراکین کے درمیان گرم مباحثہ ہوا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: شدید گرمی میں جہاں کراچی کے صارفین مشکلات کا شکار ہیں وہیں بجلی کا بحران بلا روک ٹوک جاری ہے تاہم پبلک سیکٹر یا نجی یوٹیلیٹی میں کوئی اسٹیک ہولڈر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس اہم نقطے پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی ای ای) نے پیر کو بجلی کی موجودہ قلت کی وجوہات کا پتا لگانے کے لیے ایک اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور اس کی کس اسٹیک ہولڈر پر ذمہ داری ہے، اس کا پتا لگانے کے لیے وزارت قانون سے قانون اور کاروبار کے قواعد 1973 کے ذریعے وضاحت طلب کی۔

وزیر منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں کراچی میں قائم نجی یوٹیلیٹی، کے الیکٹرک اور وزارت توانائی کے درمیان ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر میں بجلی کے شارٹ فال کا حل ڈھونڈے بغیر عوام کے سامنے ایک دوسرے پر تنقید کی گئی۔

کابینہ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی بجلی کی صورتحال کی خراب منصوبہ بندی اور انتظامات پر کابینہ کے اراکین کے درمیان گرم مباحثہ ہوا۔

مزید پڑھیں: بجلی بحران: کے-الیکٹرک سسٹم اپ گریڈنگ میں ناکامی پر مسائل کا شکار ہے، وزارت توانائی

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا کہ کراچی کے لوگ ان کی گردن پر آگئے ہیں، ان کی پارٹی نے گزشتہ برسوں میں جو بھی خیر سگالی حاصل کی ہے یہ اس کو سنجیدگی سے متاثر کررہی ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے سے پہلے اس اجلاس کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بجلی اور پیٹرولیم ڈویژنز اور مالی امور کو اس کے صارفین کی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ بتایا۔

ایک سرکاری بیان میں ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے سسٹم کو اچانک بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا جو گزشتہ ہفتے کے اوائل میں 600 میگاواٹ تھا اور ایک روز قبل 150 میگاواٹ تک تھا اور اس قلت کو دور کرنے کے لیے کمپنی کی جانب سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

کچھ شرکا نے کے الیکٹرک کے حصے میں طلب کی تشخیص نہ کرنے اور پھر پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایندھن کے ناکافی انتظامات کا مشاہدہ کیا گیا۔

بجلی اور پیٹرولیم ڈویژن کے سربراہ، وزیر توانائی عمر ایوب خان نے زور دیا کہ دیگر بڑے شہروں کے شہریوں کا حصہ کم کرکے کے الیکٹرک کے لیے فیول کوٹہ بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن نے قومی گرڈ سے 500 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیش کش کی ہے جس سے ملک کے دوسرے حصوں کے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے جنہیں اب لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور اس سے زیادہ ان کی وزارت کچھ نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: کے-الیکٹرک کا گیس فراہمی میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے، سوئی سدرن

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزارت توانائی کراچی کے لوگوں کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے اپنی حدود سے آگے بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند لوگ عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے رہتے ہیں لیکن وزارت توانائی نے اس سے جو بھی مطالبہ کیا گیا وہ پورا کیا تھا، چاہے وہ ان کے فرائض سے بالاتر ہی کیوں نہ ہو۔

اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت نے کچھ اقدامات تو اٹھائے ہیں مگر انہوں نے ایندھن کی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ فرنس آئل اور گیس دونوں کے الیکٹرک کی توقعات سے کافی حد تک کم ہیں۔

اجلاس میں شریک رکن نے ڈان کو بتایا کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک اپنی قیمت پر زیادہ سے زیادہ ایل این جی لینے سے گریزاں ہے اور اس کے بجائے مقامی گیس کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اسے مستقبل کے پلانٹس کی نظیر نہ بنایا جاسکے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے نشاندہی کی کہ طویل اور صحتمند بات چیت کے باوجود ہم موجودہ بحران کی وجوہات کی شناخت نہیں کر سکے ہیں کیونکہ کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کررہا ہے۔

اسد عمر نے اتفاق کیا کہ کوئی اسٹیک ہولڈر ذمہ داری قبول نہیں کررہا ہے اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے اور ایسے ماحول میں لوگوں کے دکھوں کا حل نہیں مل سکا ہے۔

انہوں نے پیٹرولیم اور بجلی ڈویژنز اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ وہ وزارت قانون اور انصاف کے تعاون سے ذمہ داریوں کی نشاندہی اور شناخت اور تعریف کے ماضی اور مستقبل میں مطلوب ہر عمل کے ساتھ دو ہفتوں کے اندر پیش ہوں تاکہ کوئی اسٹیک ہولڈر متعلقہ ذمہ داری سے دور نہ رہ سکے۔

کمیٹی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے معدنی وسائل شہزاد قاسم کی زیر صدارت ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو ایک ہفتہ کے اندر وجوہات کا تعین کرے گی جس میں فیول سپلائی چین سے متعلق امور بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں بجلی کا موجودہ بحران پیدا ہوا۔

اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیر بحری امور علی زیدی، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے معدنی وسائل شہزاد قاسم اور مختلف ڈویژنز کے عہدیدار شریک تھے۔