حکومت کی عدالت کو این ایف سی کی تشکیل پر نظر ثانی کرنے کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 30 جون 2020

ای میل

درخواست گزار نے کمیشن کی تشکیل کے لیے 12 مئی کو جاری نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست گزار نے کمیشن کی تشکیل کے لیے 12 مئی کو جاری نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو 10ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی تشکیل پر نظر ثانی کرنے کی یقین دہانی کروائی اور وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو کمیشن سے ہٹانے کا عندیہ دیا کیوں کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اس معاملے کی مزید پیروی سے گریزاں نظر آئی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے 10ویں این ایف سی تشکیل کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور ان کی وکالت بیرسٹر محش شاہنواز رانجھا اور بیرسٹر عمر گیلانی نے کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس مینا گل حسن اورنگزیب نے جب سماعت شروع کی تو درخواست گزار اور نہ ہی ان کے وکیل عدالت میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے این ایف سی کی تشکیل عدالت میں چیلنج کردی

تاہم اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ این ایف سی کے رکن جاوید جبار پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں اور بلوچستان ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی تعیناتی کے خلاف حکم جاری کیا ہے۔

ساتھ ہی اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم کی مصدقہ نقول بھی پیش کیں۔

انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت درخواست گزار کی شکایت دور کرنے کے لیے این ایف سی کی تشکیل پر نظر ثانی کرے گی۔

مزید پڑھیں: عدالت نے این ایف سی کی تشکیل کیلئے ہونیوالی مشاورت کا ریکارڈ طلب کرلیا

یاد رہے کہ درخواست گزار نے کمیشن کی تشکیل کے لیے 12 مئی کو جاری نوٹیفکیشن اور مشیر خزانہ کے این ایف سی اجلاس کی سربراہی کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ آئین کے مطابق ہر 5 سال بعد این ایف سی تشکیل دیا جاتا ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے وزرا قانونی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ کمیشن میں ہر صوبے سے ایک غیر حکومتی رکن کی شمولیت بھی لازمی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق کی مجموعی آمدنی میں سے طے شدہ فارمولے کے تحت صوبوں کو ان کا حصہ دیا جاتا ہے۔

چنانچہ مئی میں صدر مملکت کی جانب سے ٹرم آف ریفرنسز (ٹی آر اوز) کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے 11 رکنی قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان ہائی کورٹ: حفیظ شیخ کی بطور این ایف سی رکن تعیناتی کالعدم قرار

نوٹیفکیشن میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو این ایف سی ایوارڈ کا چئیرمین جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ بطور اراکین کمیشن نامزد کیے گئے تھے۔

کمیشن کے دیگر اراکین میں پنجاب سے طارق باجوہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید، خیبر پختونخوا سے مشرف رسول سیاں اور بلوچستان سے جاوید جبار شامل تھے تاہم سیاسی مخالفت اور تنقید کے بعد جاوید جبار این ایف سی سے مستعفی ہوگئے تھے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی سیکریٹری خزانہ سرکاری طور پر ماہر کی حیثیت سے کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

صدر مملکت نے وزیر خزانہ کی عدم موجودگی میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات کو این ایف سی ایوارڈ کے اجلاسوں کی صدارت کا اختیار تفویض کیا تھا۔