سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

سید علی گیلانی 1993 میں حریت کانفرنس کے قیام کے وقت سے اس کے رکن تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
سید علی گیلانی 1993 میں حریت کانفرنس کے قیام کے وقت سے اس کے رکن تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

ایک انتہائی حیرت انگیز پیش رفت میں کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سید علی گیلانی نے عبداللہ گیلانی کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔

ایک دہائی کے دوران بڑا عرصہ اپنے گھر میں نظر بند رہنے والے 90 سالہ بیمار بزرگ کشمیری رہنما نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ: ’میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنے آپ کو مکمل طور پر حریت کانفرنس کی قیادت سے الگ کرتا ہوں اور ایک تفصیلی خط کے ذریعے اس فورم کے تمام حلقوں کو میرے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا جاچکا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سید علی گیلانی کا 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان، پاکستان سے مدد کی اپیل

ان کے اس فیصلے کی بنیادی وجہ حریت کانفرنس آزاد کشمیر کی جانب سے کیے گئے کچھ فیصلے معلوم ہوتے ہیں جس کا خط میں بھی ذکر کیا گیا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ (آزاد کشمیر) چیپٹر صرف پاکستان میں حریت کی نمائندگی کرتا ہے اور خود سے فیصلے کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں موجود اراکین کے حوالے سے مالی بے ضابطگیوں، اپنی خود نمائی اور باہمی اختلافات کی شکایات بھی ہیں لیکن ان شکایات پر انکوائری ہونے سے قبل اراکین نے اس چیپٹر کو ہی ختم کردیا اور ایک ایڈہاک باڈی کو منتخب کرلیا۔

مراسلے میں اراکین پر آزاد کشمیر چیپٹر کے کنوینر عبداللہ گیلانی کے خلاف مذموم مہم شروع کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا، عبداللہ گیلانی کو گزشتہ برس اس وقت عہدہ دیا گیا تھا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کشمیری روازنہ کربلا جیسے حالات کا سامنا کرتے ہیں، سید علی گیلانی

بھارت کی جانب سے آئین میں کشمیر سے متعلق آرٹیکل کو ختم کرنے کے لیے آزادی کی حمایت کرنے والے سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے کر مقبوضہ کشمیر سے باہر مختلف بھارتی شہروں کی جیلوں میں پہنچا دیا گیا تھا۔

تاہم وادی میں کچھ رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا اور کچھ کو بالکل بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔

ان رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ ’5 اگست کے بعد جن رہنماؤں کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا ان سے عوام کی رہنمائی اور انہیں امید دلانے کی توقع تھی لیکن نظر بندی اور حکومت کی پابندیوں کے باوجود میں نے آپ کو تلاش کرنے، رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی، پیغامات ارسال کیے لیکن آپ دستیاب نہیں ہوئے میں اپنی صحت اور حراست کے باعث اس سے زیادہ کچھ نہ کرسکا‘۔

سید علی گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن آپ کے پاس اجلاس منعقد کرنے اور اسے اپنے پسندیدہ نشریاتی اداروں سے اس کی تشیر کا وقت تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں؛ مقبوضہ کشمیر: سید علی گیلانی کا 27 اکتوبر کو مکمل ہڑتال کا اعلان

دوسری جانب عبداللہ گیلانی نے تصدیق کی کہ سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی ہے لیکن مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ سید علی گیلانی، بھارت مخالف سیاسی تنظیم کی حیثیت سے 1993 میں حریت کانفرنس کے قیام کے وقت سے اس کے رکن تھے اور 2003 میں اس کے تاحیات چیئرمین منتخب ہوئے۔

حریت کانفرنس (گیلانی) میں 24 آئین ساز جماعتیں شامل ہیں جن میں سے کچھ جماعتوں میں صرف چند اراکین ہیں۔

حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق ہیں جو گزشتہ برس 5 اگست سے گھر میں نظر بند ہیں۔

دونوں حریت فورمز کی جانب سے باقاعدگی سے بیانات اور احتجاجی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا تھا تاہم گزشتہ برس بھارت کے جابرانہ اقدام کے بعد سے دونوں کی سرگرمیاں موقوف ہیں۔