پیراں غائب رینٹل ریفرنس: راجا پرویز اشرف سمیت 8 ملزمان بری

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف سمیت 8 ملزمان کو پیراں غائب رینٹل پاور ریفرنس میں بھی بری کردیا۔

وفاقی دارالحکومت میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے راجا پرویز اشرف کی بریت کی درخواست پر سماعت کی اور اسے منظور کرلیا۔

عدالت نے راجا پرویز اشرف سمیت 8 ملزمان کو پیراں غائب رینٹل ریفرنس میں بری کیا۔

خیال رہے کہ راجا پرویز اشرف کے ساتھ جن ملزمان کو بری کرنے کا کہا گیا ان میں اسمٰعیل قریشی، شاہد رفیع، شوکت ترین، طاہر بشارت چیمہ، محمد سلیم عارف، چوہدری عبدالقدیر اور اقبال علی شاہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ساہیوال رینٹل پاور ریفرنس: راجا پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان بری

واضح رہے کہ پیراں غائب ریفرنس نیب راولپنڈی کی جانب سے 2014 میں دائر کیا گیا تھا۔

مذکورہ منصوبے میں 192 میگا واٹ کا رینٹل پاور پلانٹ ملتان کے علاقے پیراں غائب میں لگایا گیا تھا تاہم ریفرنس میں راجا پرویز اشرف پر بطور وزیر پانی و بجلی کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 25 جون کو احتساب عدالت نے ساہیوال رینٹل پاور ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچا اس لیے ریفرنس نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ 22 ارب روپے مالیت کے رینٹل پاور منصوبوں سے متعلق کیسز میں 11 ریفرنسز قائم کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف بری

بعدازاں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے رینٹل پاور منصوبوں سے متعلق 2 ریفرنسز میں جون 2014 میں راجا پرویز اشرف سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی، ساتھ ہی عدالت نے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین اور اسمٰعیل قریشی کی بریت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

تاہم رواں سال جنوری میں قومی احتساب بیورو کے ریفرنسز کا سامنا کرنے والے ملزمان کی جانب سے نیب قوانین میں کی گئی حالیہ ترمیم کے تحت ریلیف لینے کی کوشش پر ادارے نے واضح کیا تھا کہ ترمیم کا اطلاق پہلے سے دائر کیسز پر نہیں ہوگا۔

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے بھی رینٹل پاور پروجیکٹس کیس میں اپنی فردِ جرم کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ (ترمیمی) آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ان کے خلاف ضوابط کی بے قاعدگیوں کا ٹرائل نہیں کیا جاسکتا۔