وزیراعظم کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتیوں کو ڈومیسائل جاری کرنے پر عالمی رہنماؤں سے رابطہ

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

عمران خان کے مطابق بھارت کی اس نا قابلِ قبول پیش قدمی کو روکنا ضروری ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ فائل فوٹو:دفتر وزیر اعظم
عمران خان کے مطابق بھارت کی اس نا قابلِ قبول پیش قدمی کو روکنا ضروری ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ فائل فوٹو:دفتر وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شہریوں کو 25 ہزار ڈومیسائل کے اجرا کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے رابطہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا ہے اور میں دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی بات کر رہا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کی اس نا قابلِ قبول پیش قدمی کو روکنا ضروری ہے، اس سے کشمیریوں کے قانونی اور بین الاقوامی طور پر ضمانت شدہ حقوق پر مزید زد پڑتی ہے اور جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچتا ہے‘۔

ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمانے کی بھارتی کوشش اور اب 25 ہزار بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا سمیت مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب بدلنے کے تمام بھارتی حربے سراسر غیرقانونی اور چوتھے جینیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں‘۔

واضح رہے کہ اناطولو نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 مئی سے اب تک مسلم اکثریتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریبا 25 ہزار غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں جسے مقامی سیاست دانوں نے علاقے کے آبادیاتی پروفائل کو خراب کرنے کے اقدام کا آغاز قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ شہریت سے متعلق یہ ایک قسم کا سرٹیفکیٹ ہے جو کسی شخص کو علاقے میں رہائش اور سرکاری ملازمت کا اہل بناتا ہے جو گزشتہ سال تک صرف مقامی آبادی کے لیے مختص تھا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر برائے اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے بھی عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔

ترکی کی استنبول یونیورسٹی کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر کی علاقائی اور عالمی توجیہات کے موضوع پر آن لائن کانفرنس کےلیے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے متعلقہ معاہدوں کے تحت ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون مسترد کردیا

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب اور ضلعی شناخت کو تبدیل کرنے سے بھارت کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول تک کشمیری عوام کی حالت زار کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کورونا وائرس کی عالمی وبا کی آڑ میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔

کورونا لاک ڈاؤن کے باوجود نئے قانون کا نفاذ

جب بھارت نے گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو کالعدم قرار دیا تھا تو اس نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35-اے کے تحت ضمانت دیے گئے خصوصی شہریت کے قانون کو بھی ختم کردیا تھا۔

اس قانون سے آبادی کے تناسب کو برقرار رکھتے ہوئے غیر مقامیوں کو علاقے میں آباد ہونے، سرکاری ملازمتوں پر دعویٰ کرنے سے روکا گیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ نوین کمار چودھری کو جاری کردہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اپریل کے مہینے میں جاری کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے درمیان بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے لیے ڈومیسائل قوانین کو نوٹی فائی کیا تھا جس کے تحت غیر اعلانیہ تعداد میں بیرونی افراد کو رہائش اور ملازمت کا اہل بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: '5 اگست سے پہلے پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر کریں گے'

نئے قانون کے مطابق کوئی بھی شخص جو اس خطے میں 15 سال سے مقیم ہے یا اس نے وہاں 7 سال تعلیم حاصل کی ہے اور اس نے اپنی کلاس 10 یا کلاس 12 کا امتحان پاس کیا ہے وہ ڈومیسائل کا اہل ہے۔

مقامی شہریت کا دعویٰ کرنے کے اہل بھارت کے سرکاری ملازمین کے بچے بھی ہیں جنہوں نے اس خطے میں 10 سال یا اس سے زیادہ خدمات انجام دیں۔

مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاستدانوں نے کہا کہ خصوصی شہریت کے حق کے خاتمے کا مقصد خطے کی مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اناطولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ 18 مئی کو جب قانون کو نوٹی فائی کیا گیا تھا، اس وقت سے اب تک 33 ہزار افراد نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 25 ہزار افراد کو شہریت کے حقوق دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندو اکثریتی علاقے جموں کے 10 اضلاع سے تقریباً 32 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جہاں تقریباً 96.4 فیصد مسلمان رہتے ہیں، اب تک کل 720 درخواستوں میں سے 435 سرٹیفکیٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔