لاک ڈاؤن کے ستائے شہریوں کے لیے’جعلی پروازوں‘ کا اہتمام

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

جعلی پرواز کے دوران مسافروں کی تلاشی بھی لی گئی—فوٹو: رائٹرز
جعلی پرواز کے دوران مسافروں کی تلاشی بھی لی گئی—فوٹو: رائٹرز

کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر میں گزشتہ 6 ماہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، وہیں دنیا کے تقریبا 200 ممالک کی جانب سے گزشتہ 4 ماہ سے فضائی سفر پر بھی پابندی عائد ہے۔

فضائی سفر پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے کئی ممالک کے ایسے شہری جو معمول کے مطابق ایک سے دوسرے ملک سفر کرنے کے عادی تھے وہ انتہائی بوریت کا شکار ہیں اور وہ کسی طرح بھی اب سفر کرنے کے خواہاں ہیں۔

تائیوان نے ایسے ہی بوریت کے شکار افراد کو خوش کرنے کے لیے ’جعلی پروازوں‘ کا اہتمام کیا ہے جو درحقیقت میں کہیں بھی نہیں جاتیں اور ان میں بٹھائے جانے والے افراد کچھ وقت پرواز میں بیٹھ کر واپس گھر لوٹ جاتے ہیں مگر وہ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے فضائی سفر کیا۔

جہاز میں بیٹھنے والے افراد کی حقیقی پرواز کی طرح میزبانی بھی کی گئی—فوٹو: رائٹرز
جہاز میں بیٹھنے والے افراد کی حقیقی پرواز کی طرح میزبانی بھی کی گئی—فوٹو: رائٹرز

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تائیوان حکومت کی جانب سے ’جعلی پروازوں‘ کے شروع کیے گئے منصوبے کا آغاز 2 جولائی کو کیا گیا جو آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا۔

منصوبے کے لیے سونگشن ایئرپورٹ کو استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں پر لوگوں کو جعلی بورڈنگ پاس اور جعلی فضائی ٹکٹس دے کر انہیں ایئرپورٹ پر کھڑے طیاروں پر مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔

طیارے میں سوار کیے گئے مسافرین کو بخوبی علم ہے کہ مذکورہ منصوبہ جعلی ہے اور پروازیں کہیں بھی جانے والی نہیں مگر وہ اپنی بوریت کو ختم کرنے اور فضائی سفر کرنے کے شوق کو پورا کرنے کے لیے جعلی پریکٹس کرکے خود کو بچوں کی طرح دھوکا دیتے ہیں کہ انہوں نے فضائی سفر کیا۔

جعلی پرواز کے موقع پر تمام لوگ خوش دکھائی دیے—فوٹو: رائٹرز
جعلی پرواز کے موقع پر تمام لوگ خوش دکھائی دیے—فوٹو: رائٹرز

رپورٹ کے مطابق منصوبے کے آغاز کے پہلے دن 60 مسافروں کو پرواز میں بٹھایا گیا، ان تمام مسافروں کو جعلی بورڈنگ پاس، ایئرپورٹ انٹری ٹکٹ اور فضائی ٹکٹ دیے گئے جب کہ ان سب کی تلاشی بھی لی گئی۔

حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد لوگوں کو تفریح فراہم کرنے سمیت انہیں وبا کے دوران ایئرپورٹس پر اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات سے باخبر رکھنا بھی تھا۔

’جعلی پروازوں‘ کے مذکورہ منصوبے کے لیے تائیوان کے 7 ہزار شہریوں نے درخواستیں دی تھیں جس سے حکام نے قرع اندازی کے بعد لوگوں کو شارٹ لسٹ کیا ہے۔

جہاز میں بیٹھنے والے افراد نے محسوس کیا کہ وہ بیرون ملک سفر کرکے واپس آئے ہیں—فوٹو: رائٹرز
جہاز میں بیٹھنے والے افراد نے محسوس کیا کہ وہ بیرون ملک سفر کرکے واپس آئے ہیں—فوٹو: رائٹرز

منصوبے کے تحت مسافروں کو ہر کام ویسے ہی کرنا پڑتا ہے جسے حقیقی فضائی سفر کرتے وقت کیا جاتا ہے اور پرواز میں سوار ہونے کے بعد انہیں ایسی ہی میزبانی فراہم کی جاتی ہے جو حقیقی فضائی سفر کے دوران دستیاب ہوتی ہے۔

لیکن بس فرق صرف اتنا ہے کہ مذکورہ پرواز کہیں نہیں جاتی اور مسافرین طیارے میں ایک خاص وقت تک بیٹھنے کے بعد اتر جاتے ہیں اور وہ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ وہ بیرون ملک سفر کرکے واپس آئے ہیں۔