مزید 30 پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھجوادیے گئے، غلام سرور خان

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 دہائی کے عرصے میں قومی ایئرلائن کے 11 چیف ایگزیکٹو افسران تبدیل ہوئے —فائل فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 دہائی کے عرصے میں قومی ایئرلائن کے 11 چیف ایگزیکٹو افسران تبدیل ہوئے —فائل فوٹو: ڈان نیوز

راولپنڈی: وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے مشتبہ پائلٹس کی اسکروٹنی کا عمل تیز کردیا ہے اور ایک انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کابینہ ان پائلٹس کی قسمت کا فیصلہ کرے گی اور پائلٹس کے کیسز کی الگ الگ سماعت بھی درست نقطہ ہے۔

یورپیئن یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) پر یورپی ممالک میں پروازوں کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے معطل ہوجانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نے 52 ملازمین کو فارغ کردیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے راولپنڈی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ’ایم ایم سی اے اے نے ہمیں اب تک پاکستانی پائلٹس کی کوئی فہرست نہیں دی لیکن ہم ملائیشیا ، امارات اور دیگر ایئرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کررہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پائلٹس کی تصدیق کا عمل ٹھوس بنیادوں پر کیا جائے گا اور جنہیں سرٹیفکیٹ ملے گا انہیں ہی جہاز اڑانے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 دہائی کے عرصے میں قومی ایئرلائن کے 11 چیف ایگزیکٹو افسران تبدیل ہوئے حتیٰ کہ ’یونین کی تجویز پر بھی سی ای اوز تبدیل ہوئے'۔

غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کی روشنی میں حکومت نے مشتبہ پائلٹوں اور ہوابازی کے دیگر عملے کی اسناد کی تصدیق کا عمل تیز کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: سول ایوی ایشن 262 مشکوک پائلٹس کو فوری شوکاز نوٹس جاری کرے، شاہد خاقان

ان کا کہنا تھا کہ ایک انکوائری بورڈ بنایا گیا ہے جس نے پائلٹ کے لائسنس کی اسکروٹنی کا آغاز کردیا ہے جبکہ ایک تضاد پایا گیا جس کی بعد میں فرانزک انکوائری کروائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’انکوائری بورڈ میں 850 مشتبہ پائلٹس سامنے آئے جس میں سے 262 مشتبہ لائسنس مشکوک پائے گئے‘۔

وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کردی گئی ہے جس کے بعد 28 پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹس بھیجے گئے اور انہیں ذاتی حیثیت میں سنوائی کا موقع دیا گیا اور 9 پائلٹس کی جانب سے مشکوک لائسنس کےا عتراف کے بعد انہیں معطل کردیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشتبہ لائسنس کے اجرا میں ملوث سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے عہدیداروں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا اور ان کے کیسز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوائے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے پہلے سی اے اے کما رہی تھی لیکن اب اسے ہر ہفتے 2 ارب روپے نقصان کا سامنا ہے اور مجموعی طور پر 20 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی آئی اے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے لیکن ایئرلائن نے اب تک اپنے ملازمین کو نہیں نکالا جبکہ انتظامیہ نے صرف جعلی ڈگری والوں کو برطرف کیا ہے۔

وزیر ہوا بازی نے دعویٰ کیا کہ 2006 سے پی آئی اے کے فلیٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ ایک جہاز ’چوری‘ کرلیا گیا، ہمیں پی آئی اے کی تنظیم نو کرنی ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی مدت ختم ہونے تک اس کا فلیٹ 45 تک بڑھانا ہے۔

خیال رہے کہ پی آئی اے کے جعلی یا مشکوک ڈگری کے حامل پائلٹس کے معاملے کا آغاز وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے دیے گئے اس بیان سے ہوا تھا کہ پی آئی اے کے 860 میں سے 262 یعنی تقریباً 30 فیصد پائلٹس ایسے ہیں جن کے لائسنسز جعلی ہیں جنہوں نے خود امتحان نہیں دیا یا ان کافلائنگ کا تجربہ ہی نہیں۔

بعدازاں خصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ادارے میں 28 پائلٹس کے جعلی لائسنس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اسی روز پی آئی اے انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا اور بعد میں ایک بیان سے واضح کیا تھا کہ جعلی یا مشکوک ڈگری کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں ہے۔

وفاقی وزیر کے بیان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی انتہائی توجہ حاصل ہوئی اور سب سے پہلے ویتنام کی سول ایوی ایشن نے مقامی ایئرلائنز میں کام کرنے والے تقریباً 20 پائلٹس کو معطل کردیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سب سے بڑا دھچکا قومی ایئرلائن کو اس وقت لگا جب یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔