پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے 48 ڈاکٹر مستعفی

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

نوٹی فکیشن میں ڈاکٹروں کے مستعفیٰ ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی—تصویر: فیس بک
نوٹی فکیشن میں ڈاکٹروں کے مستعفیٰ ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی—تصویر: فیس بک

پنجاب کے مختلف ٹیچنگ ہسپتالوں سے مجموعی طورپر 48 ڈاکٹروں نے استعفی دے دیا۔

دوسری جانب محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے ڈاکٹروں کا استعفیٰ منظور کیے جانے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

مزیدپڑھیں: پشاور میں ڈاکٹروں کا احتجاج، پولیس کی کارروائی، متعدد افراد زخمی

جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا کہ مستعفی ہونے والے ڈاکٹروں کا تعلق میو ہسپتال، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، ڈی جی خان ہسپتال، سول ہسپتال بہاولپور، شیخ زید رحیم یار خان، چلڈرن ہسپتال لاہور، گورنمنٹ نواز شریف یکی گیٹ ہسپتال، سروسز ہسپتال، لیڈی ایچی سن، لاہور جنرل ہسپتال، کوٹ خواجہ سعید ہسپتال، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال، گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال اور میاں منشی ہسپتال سے ہے۔

نوٹی فکیشن کا عکس
نوٹی فکیشن کا عکس

نوٹی فکیشن میں اعداد و شمار سے متعلق بتایا گیا کہ میو ہسپتال میں کام کرنے والے 14، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد سے 2 اور ڈی جی خان ہسپتال سے 4 ڈاکٹروں نے ملازمت سے استعفیٰ دیا۔

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کییئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے مطابق سول ہسپتال بہاولپور، شیخ زید رحیم یار خان سے 2 اور جناح ہپستال سے 7 ڈاکٹروں نے ملازمت چھوڑی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق گورنمنٹ نواز شریف یکی گیٹ ہسپتال سے 2، چلڈرن ہسپتال لاہور سے 6 ڈاکٹروں جبکہ سروسز ہسپتال، لیڈی ایچی سن سے 2-2 اور لاہور جنرل ہسپتال سے 3 ڈاکٹروں نے استعفیٰ دیا۔

علاوہ ازیں کوٹ خواجہ سعید ہسپتال، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال، گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال اور میاں منشی ہسپتال سے ایک ایک ڈاکٹر مستعفی ہوگئے۔

نوٹی فکیشن میں ڈاکٹروں کے مستعفیٰ ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: رہائی کے اعلان کے باوجود ڈاکٹرز کا حفاظتی کٹس ملنے تک تھانوں میں رہنے کا عزم

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے کیسز میں معمولی کمی آئی ہے، گزشتہ چند مہینوں میں متعدد مرتبہ ڈاکٹروں نے حکومتی پالیسی پر خفگی کا بھی اظہار کیا تھا۔

25 اپریل کو وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے پنجاب کے ڈاکٹرز اور نرسوں نے مناسب حفاظتی آلات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

محکمہ صحت کا عملہ کئی ہفتوں سے شکایات کر رہا تھا کہ ملک کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والوں کے لیے حفاظتی آلات کی کمی ہے اور رواں ماہ کے اوائل میں اسی سلسلے میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو کوئٹہ میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

اس سے قبل اپریل میں کوئٹہ پولیس نے کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی کٹس نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے تمام ڈاکٹروں کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا تھا تاہم ینگ ڈاکٹرز نے مطالبات کی منظوری تک تھانوں سے باہر نہ نکلنے کا عزم دہرایا تھا۔

واضح رہے کہ ملک میں اگرچہ یومیہ آنے والے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم اس کے باوجود اب تک 2 لاکھ 30 ہزار 969 مصدقہ کیسز اور 4 ہزار 745 اموات سامنے آچکی ہیں۔

یہ بھی ہڑھیں: سندھ میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا چوتھا روز، مریضوں کے اہلِ خانہ مشتعل

اگر پنجاب کی بات کی جائے تو صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 1020 اور 27 اموات کا اضافہ ہوا۔

سرکاری اعداد و شمار بتانے والے پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں مزید 1020 لوگ متاثر ہوئے جس سے یہ تعداد 81 ہزار 317 تک پہنچ گئی۔

اس کے علاوہ مزید 27 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، یوں مجموی طور پر انتقال کرنے والوں کی تعداد 1871 تک پہنچ گئی۔