ہانک کانگ: جمہوریت کے حامی مصنفین کی کتابیں لائبریریوں سے ہٹا دی گئیں

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو: آصف نورانی
—فوٹو: آصف نورانی

جمہوریت کے حامی ہانگ کانگ کے مصنفین کی تحریر کردہ تمام کتابیں شہر بھر کی لائبریریوں سے غائب کردی گئیں۔

دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق آن لائن ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی کے متنازع قانون کے نفاذ کے بعد جمہوریت کے حامی سماجی رضا کاروں کی جانب سے لکھی جانے والی کتابیں لائبریری سے ہٹا دی گئیں۔

مزید پڑھیں: چین نے ہانگ کانگ کیلئے متنازع قومی سلامتی کے قانون کی منظوری دے دی

ہانگ کانگ میں جن مصنفین کی کتاب لائبریری سے ہٹادی گئی ان میں شہر کے مشہور نوجوان رضا کار جوشوا وانگ اور جمہوریت کے حامی قانون ساز تانیا چن بھی شامل ہیں۔

جوشوا وانگ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ کتابوں کو ہٹانے کا عمل سیکیورٹی قانون کے تحت کیا گیا۔

انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ ’دہشت گردی پھیل رہی ہے اور نیشنل سیکیورٹی قانون بنیادی طور پر ایک آلہ ہے‘۔

عوامی لائبریری کی ویب سائٹ پر کی جانے والی تلاش سے معلوم ہوا کہ تین مصنفین وانگ، چان اور مقامی اسکالر چن وان کی تحریر کردہ کتابیں شہر کی درجن بھر پبلک لائبریری میں موجود نہیں ہے۔

اس ضمن میں خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے رپورٹر کو ضلع وانگ تائی سین میں عوامی لائبریری میں جمہوریت سے متعلق کتابیں نہیں مل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون کے خلاف خاموش احتجاج

خیال رہے کہ 30 جون کو چین نے متنازع قومی سلامتی کے قانون کی منظوری دے دی تھی جس کے تحت چینی حکام کو ہانگ کانگ میں تخریبی اور علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کی اجازت ہوگی۔

قومی پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ نے قومی سلامتی کے قانون کے صدارتی حکم پر دستخط کردیے۔

مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد ہانگ کانگ میں ہزاروں شہریوں نے نیشنل سیکیورٹی قانون کے خلاف شہر کی سڑکوں میں خاموش مارچ کیا۔

دوسری جانب برطانیہ نے ہانگ کانگ کے لیے چین کے نئے سیکیورٹی قانون کو اپنی سابقہ سرزمین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

برطانیہ نے ہانگ کانگ کے رہائشیوں کے امیگریشن حقوق میں توسیع کردی ہے۔

چین کے اس قانون کو مغربی ممالک نے مسترد کردیا ہے جہاں برطانیہ کی سابق کالونی پر اس قانون کو منگل کو لاگو کردیا گیا تھا۔

برطانیہ کی یہ نئی پیشکش کا اطلاق ہانگ کانگ کے 30 لاکھ باسیوں پر ہوگا لیکن سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے اس پیشکش کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا امریکی اقدام کے جواب میں 4 میڈیا اداروں کو تفصیلات جمع کرنے کا حکم

ہانگ کانگ برطانوی سامراج کا حصہ تھا لیکن 1997 میں اسے اس شرط کے ساتھ چین کے سپرد کیا گیا تھا کہ چین 50 سال تک اس شہر کے عدالتی اور قانونی خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔

البتہ ناقدین کا کہنا تھا کہ چین کی پارلیمنٹ کی جانب سے رواں ہفتے منظور کیا گیا نیا سیکیورٹی قانون دراصل 'ایک ملک، دو نظام' معاہدے کی حدود کا امتحان ہے جو 1984 میں باضابطہ طور پر عالمی قانون بن گیا تھا۔

ہانگ کانگ میں شہر کی لائبریریوں کے انتظام و انصرام چلانے والے محکمہ ثقافتی خدمات نے کہا کہ کتابیں ہٹا دی گئیں جبکہ یہ طے کیا گیا ہے کہ آیا وہ قومی سلامتی کے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں یا نہیں۔

محکمہ کی جانب سے کہا گیا کہ جائزہ لینے والے مراحل میں کتابیں مطالعے یا حوالہ جات کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔