مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2020

ای میل

ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے واقعے پر آبدیدہ ہوگئے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے واقعے پر آبدیدہ ہوگئے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے واقعے پر آبدیدہ ہوگئے۔

ویسٹ انڈیز کے 66 سالہ لیجنڈ کھلاڑی ساؤتھمپٹن میں ہونے والے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان میچ سے قبل عالمی سطح پر نسلی تعصب کے خلاف جدو جہد 'بلیک لائیوز میٹر' (سیاہ فام افراد کی زندگی کی اہمیت) پر نجی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

نجی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس لمحے انہیں کیسا لگا تھا تو ان کی آواز ٹوٹنے لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سچ کہوں تو یہ جذباتی لمحہ اس لیے پیش آیا کیونکہ میں اپنے والدین کے بارے میں سوچنے لگا تھا اور یہ خیال مجھے پھر سے آرہا ہے'۔

مزید پڑھیں: سیاہ فام کی ہلاکت پر امریکا بھر میں پرتشدد مظاہرے

وہ اپنی بات جاری رکھنے سے قبل ٹھہرے اور دم بھرا پھر کہا کہ 'مجھے معلوم ہے کہ میرے والدین پر کیا گزری ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میری والدہ کے گھر والوں نے ان سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دی تھی کہ ان کا شوہر بہت سیاہ تھا'۔

انہوں نے اپنے آنکھوں سے آنسو پوچھتے ہوئے کہا کہ 'میں جانتا ہوں کہ ان پر کیا گزری ہے اور پھر اس کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا تھا'۔

انہوں نے سالوں نسلی تعصب کا سامنا کرنے کے بارے میں بتایا کہ جس میں وہ اور ان کے سفید فام دوست کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جنوبی افریقہ میں ایک ساتھ ہوٹل میں بکنگ نہیں کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جب ہم اس طرح کے معاشرے میں نہیں رہتے ہیں تو ہم اس پر ہنستے ہیں اور کبھی کبھی میں اپنے دماغ میں خود کو برا تصور کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن میں ہمیشہ ہنستا، خود کو برا تصور کرتا اور آگے بڑھتا نہیں رہ سکتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب وقت آگیا ہے تبدیلی کا'۔

انہوں امید ظاہر کی کہ ادارہ جاتی نسلی تعصب کو 'پردے کے پیچھے چھپایا نہیں جائے گا' اور ایک بار پھر انہوں نے سیاہ تاریخ کے بارے میں بہتر تعلیم کے لیے زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شخص کا قتل، تشدد میں مزید اضافہ

انہوں نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ لوگ ٹھیک سے سمجھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور میں کہاں سے آرہا ہوں، میں 66 سال کا ہوں، میں نے یہ دیکھا ہے، میں اس سے گزر رہا ہوں اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی اس کا سامنا کرتے دیکھا ہے'۔

مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ 'یہ اس طرح جاری نہیں رہ سکتا، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دوسرے بھی انسان ہی ہیں'۔

ٹیسٹ کے پہلے روز بدھ کو بارش کی وجہ سے میچ تاخیر کا شکار ہوگیا تھا، جس دوران مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ وہ ’’بلیک لائیوز میٹرز‘‘ کے مظاہروں میں شریک ہوئے۔

انہوں نے ایمی کوپر کے کیس کا حوالہ دیا جس نے نیویارک کے سینٹرل پارک میں ایک سیاہ فام شخص سے بحث کے بعد پولیس کو طلب کرلیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'اس نے اس سیاہ فام شخص کو اپنی سفید رنگت کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ پولیس کو فون کرنے جارہی ہے اور انہیں بتائے گی کہ وہاں ایک سیاہ فام شخص نے اسے دھمکایا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جس معاشرے وہ رہ رہی تھی وہ اسے طاقت نہیں دیتی یا اسے یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں کرتی کہ وہ گورے ہونے کی طاقت رکھتی ہے اور کسی سیاہ فام آدمی کے لیے پولیس بلانے کے قابل ہے تو وہ یہ کام کبھی نہ کرتی'۔

واضح رہے کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور دنیا بھرمیں لوگ سیاہ فام افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے گزشتہ ماہ 25 مئی کو اس وقت شروع ہوئے جب امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر مینیا پولس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت ہوئی۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت پولیس کی جانب سے گرفتاری کے وقت اس وقت ہوئی جب ایک پولیس اہلکار نے 9 منٹوں تک جارج فلائیڈ کے گلے کو اپنے گھٹنے تلے دبائے رکھا۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد مذکورہ پولیس اہلکار سمیت 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا اور ان پر قتل کی فرد جرم بھی عائد کی گئی جب کہ سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔