معمول کی ویکسینیشن میں کمی کے سنگین اثرات سامنے آسکتے ہیں، اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

اس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی اور خدمات میں رکاوٹ بتائی گئی—فائل فوٹو: اے پی
اس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی اور خدمات میں رکاوٹ بتائی گئی—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) نے دنیا بھر میں جان بچانے والی ویکسین لینے والے بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی پر خبر دار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کمی کی وجہ کورونا وائرس کے باعث حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی اور خدمات میں رکاوٹ بتائی گئی۔

مزید یہ کہ تقریباً ایک دہائی سے ہی ویکسین کی کوریج 85 فیصد تک رک گئی ہے اور ہر سال ایک کروڑ 40 لاکھ شیر خوار بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی کمپنی کی کورونا ویکسین مطلوبہ مدافعتی ردعمل فراہم کرنے میں کامیاب

اقوام متحدہ کی دونوں تنظیموں کا مزید کہنا تھا کہ معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچوں کی وجہ سے احتراز کے قابل مصائب اور اموات کورونا وائرس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق ان رکاوٹوں کی وجہ سے سخت کامیابی سے حاصل کی گئی پیشرفت کے پلٹنے کا خطرہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک بیان کے مطابق 2019 کے لیے ویکسین کی کوریج کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 106 ممالک کے لیے ایچ پی وی (ہیومن پاپیلوما وائرس) ویکسین پہنچانا اور مزید بیماریوں کے خلاف بچوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے جیسی پیش رفت کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

مثال کے طور پر 2020 کے پہلے چار مہینوں کے ابتدائی اعداد و شمار میں ڈِفتھیریا، ٹیٹنس اور پرٹیوسس (ڈی ٹی پی 3) کے خلاف ویکسین کی تین خوراک پوری کرنے والے بچوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کی نشاندہی کی گئی جبکہ 28 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب دنیا نے ڈی ٹی پی 3 کی کوریج میں کمی دیکھی۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس ادہانوم کا کہنا تھا کہ 'صحت عامہ کی تاریخ میں ویکسین ایک سب سے طاقتور ہتھیار ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں، تاہم وبائی امراض نے ان فوائد کو خطرے میں ڈال دیا ہے، معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچوں کی وجہ سے احتراز کے قابل مصائب اور اموات کورونا وائرس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں، وبائی بیماری کے دوران ویکسین محفوظ طریقے سے فراہم کی جاسکتی ہیں اور ہم ممالک سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ زندگی کو بچانے کے یہ ضروری پروگرام جاری رکھیں'۔

کورونا رکاوٹیں

علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وجہ سے کم از کم 30 خسرہ بچاؤ ویکسین پلانے والی مہمات منسوخ ہونے کا خطرہ ہے جس کے نتیجے میں 2020 میں اور اس کے بعد مزید وبا پھیل سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مرکزی اعصابی نظام بھی کورونا وائرس کا ہدف قرار

یونیسف، ڈبلیو ایچ او نے امریکی بیماریوں کے کنٹرول کے مراکز، سابین ویکسین انسٹی ٹیوٹ اور جان ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے اشتراک سے کئے گئے سروے میں مئی 2020 تک حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں 82 ممالک کے تین چوتھائی حصے نے کورونا وائرس سے متعلقہ رکاوٹوں کا بتایا۔

خدمات میں رکاوٹوں کی وجوہات مختلف بتائی گئیں یہاں تک کہ جب انہیں پیش کیا گیا تو لوگ گھروں سے نکلنے میں ہچکچاہٹ، نقل و حمل میں رکاوٹیں، معاشی مشکلات، نقل و حرکت پر پابندی یا کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے آنے کے خوف کے باعث ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہے۔