وزیراعظم کا ریئل اسٹیٹ ریگولیٹر ادارے کے قیام کا حکم

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2020

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے تعمیرات کے شعبے کے لیے جو مراعاتی پیکیج دیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی — فائل فوٹو: عرفان احسن
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے تعمیرات کے شعبے کے لیے جو مراعاتی پیکیج دیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی — فائل فوٹو: عرفان احسن

وزیراعظم عمران خان نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے کے قیام کا حکم دیتے ہوئے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ تعمیرات اور رہائشی منصوبوں کی آن لائن منظوری اور ون ونڈو فیسیلٹی کے لیے ایک روڈ میپ تیار کریں۔

قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ون ونڈو فیسیلٹی اور اجازت ناموں، فیسوں کی ادائیگی اور ہاؤسنگ سیکٹر سے متعلق تمام شعبہ جات کے دیگر کاموں کی آن لائن منظوری کے لیے ایک ہفتے میں روڈ میپ جمع کروانے کا حکم دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے حکم دیا کہ ’تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) اور دیگر کی منظوری مقررہ وقت میں کی جائے اور اس سلسلے میں غفلت دکھانے والے یا غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے زراعت، ہاؤسنگ کے لیے 49 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ملک کے ریئل اسٹیٹ ٹائیکونز اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز، معاونینِ خصوصی ملک امین اسلم، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر شبہاز گل، چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری ہاﺅسنگ، چیف سیکریٹری پنجاب، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ سندھ، بلوچستان کے صوبائی چیف سیکریٹریز، آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، صدر نیشنل بینک، صدر بینک آف خیبر و دیگر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے تعمیرات کے شعبے کے لیے جو مراعاتی پیکیج دیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، اس کا مقصد معاشی عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ تعمیرات کے شعبے سے منسلک صنعتیں فروغ پائیں اور عام آدمی بالخصوص کم آمدن والے طبقے کو گھر اور رہائشی سہولت میسر آئے۔

مزید پڑھیں: تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے قومی سطح کی کمیٹی بنا دی ہے، شبلی فراز

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس سلسلے میں نظام کو آسان بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وزیرِ اعظم نے تعمیرات کے شعبے میں ہر سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی ہدایت کی تاکہ نظام کو تیز اور آسان ترین بنایا جا سکے۔

مزید برآں کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے گھروں کی تعمیر اور اس حوالے سے بینکوں کی جانب سے مارگیج کی سہولت کو فروغ دینے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ بینکوں کو سبسڈی فراہم کرنے کے عمل کو آسان ترین بنانے کے عمل کو بھی حتمی شکل دی جائے تاکہ بینکوں کے لیے رکاوٹیں دور ہوں۔

انٹرنیٹ سہولت

ایک علیحدہ اجلاس میں وزیراعظم نے ملک کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بہتر بنانے کی ہدایت کی تا کہ نوجوانوں کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔

دفتر وزیراعظم میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ کی فراہمی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے، ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کو ہدایت کی کہ اسکولوں میں انٹرنیٹ کی آسان اور سستی فراہمی کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

گوادر کے ذریعے افغان تجارت

وزارت بحری امور کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے ایک علیحدہ اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حکومت نے نو تعمیر شدہ گوادر بندرگاہ سے افغان تجارت شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوادر بندرگاہ کو تجارتی راہداری کے لیے کھول دیا گیا

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گوادر بندرگاہ کے تمام منصوبوں کو مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور کہا کہ جغرافیائی مقام کی وجہ سے یہ بندرگاہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے اجلاس کو وزارت کی گزشتہ 22 ماہ کی کارکردگی کے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت سے ملنے والے مسائل اور مشکلات کے باوجود کئی نئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

وزیر بحری امور نے بتایا کہ ملک میں 'بلیو اکانومی' کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود ماضی میں اس شعبہ کو نظر انداز کیا گیا اور موجودہ حکومت اس شعبہ کی ترقی کے لیے روڈمیپ وضع کر رہی ہے۔

مزید یہ کہ اس شعبے کی اہمیت اور صلاحیت کے پیش نظر وزیراعظم نے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا۔