پی ٹی اے کا 'پب جی' پر پابندی کا فیصلہ کالعدم، عدالت کا آن لائن گیم کھولنے کا حکم

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2020

ای میل

پب جی کے پلے اسٹور پر
پب جی کے پلے اسٹور پر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے آن لائن گیم پلیئرز ان نان بیٹل گراؤنڈ (پب جی) پر پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے گیم کو فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے پب جی پر پابندی کے خلاف درخواست پر 15 جولائی کو محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سنایا۔

ہائیکورٹ نے مختصر فیصلے میں پی ٹی اے کی عائد کردہ پابندی کو کالعدم قرار دیا اور گیم کو فوری بحال کرنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پب جی گیم کنٹرول کرنے والی کمپنی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی اے کا بغیر سماعت اور آرڈر گیم بند کرنا خلاف قانون ہے، قانون کے مطابق پی ٹی اے حکام متاثرہ فریق کو سنے بغیر گیم بند نہیں کرسکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی اے نے اجلاس بلا کر پریس ریلیز کے ذریعے پب جی بند کرنے کا اعلان کیا، پیکا قانون کے بعد پی ٹی اے کو نئے رولز بنانے کے عدالتی حکم پر بھی عمل نہ کیا گیا، لہٰذا متاثرہ فریق کو سنے بغیر پب جی گیم معطل کرنے کا پی ٹی اے فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت کا فیصلے میں کہنا تھا کہ پی ٹی اے تمام متاثرہ فریقین کو سن کر پب جی گیم کا فیصلہ کرے اور گیم پر پابندی کی پیکا قانون کی دفعہ 37 کے تحت وجوہات بھی جاری کرے جس کے مطابق اسلام، ریاست، افواج اور عدلیہ مخالف مواد بلاک کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں آن لائن گیم 'پب جی' پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ یکم جولائی کو پی ٹی اے نے 'معاشرے کے مختلف طبقات سے شکایات موصول ہونے' کے بعد پب جی گیم پر عارضی پابندی عائد کردی تھی۔

پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی اے کو اس گیم کے خلاف لاتعداد شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ یہ گیم اپنا عادی بنادیتا ہے، وقت کا ضیاع اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر سنگین منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق پب جی گیم کے حوالے سے خودکشی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی اے کو شکایت کرنے والوں سے بات کرکے اس معاملے کو دیکھنے اور فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران پب جی کھیلنے کے عادی 3 نوجوانوں کے خودکشی کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

آن لائن گیم پب جی پر پابندی کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے بھی اس پر آواز اٹھائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر پر 'وزیر آئی ٹی مستعفی ہو'، 'پب جی ان پاکستان'، 'ان بین پب جی پاکستان' جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے تھے۔

بعد ازاں پاکستان میں پب جی کنٹرول کرنے والی کمپنی نے پی ٹی اے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

کمپنی کے وکیل نے 15 جولائی کو عدالت میں سماعت میں کہا تھا کہ پی ٹی اے نے کمپنی کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس نے معطلی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں آن لائن گیم پب جی پر پابندی

تاہم یہاں یہ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے کچھ گھنٹے قبل ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی اے کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق پی ٹی اے نے گیم کی انتظامیہ سے پب جی کے سیشنز، اس کو پاکستان میں استعمال کرنے والوں کی اور کمپنی کی طرف سے نافذ کردہ کنٹرولز کی تفصیلات طلب کی تھیں، تاہم پب جی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لہٰذا پی ٹی اے نے فیصلہ کیا تھا کہ آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رہے گی۔

ساتھ ہی بتایا گیا تھا کہ اتھارٹی نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت کی روشنی میں 9 جولائی کو کی گئی تفصیلی سماعت کے بعد کیا، مذکورہ سماعت میں دلچسپی کی حامل دیگر پارٹیوں نے بھی شرکت کی۔

تاہم اب عدالت نے پی ٹی اے کی جانب سے پب جی پر لگائی گئی پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔