بلوچستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 15 روز کی توسیع

اپ ڈیٹ 03 اگست 2020

ای میل

لاک ڈاؤن کے دوران مختلف کاروبار 24 گھنٹے تک کھولے جاسکتے ہیں—فائل فوٹو: اے پی پی
لاک ڈاؤن کے دوران مختلف کاروبار 24 گھنٹے تک کھولے جاسکتے ہیں—فائل فوٹو: اے پی پی

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 روز کی توسیع کردی۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 17 اگست تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت عوام مقامات پر 10 یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے، دھرنا دینے اور جلوس/ریلیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں عید الاضحیٰ کے موقع پر نافذ کردہ لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا

اس کے علاوہ صوبے میں تمام قسم کی سرکای یا نجی سماجی، مذہبی یا دیگر کسی قسم کی تقریبات پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

مزید برآں 3 فٹ سے زیادہ کے فاصلے کے بغیر سفر کی بھی اجازت نہیں ہوگی جبکہ خواتین، بچوں یا بزرگوں کے سوا ڈبل سواری پر بھی پابندی برقرار رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ عوامی مقامات پر جانے والے شخص کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں اسکولز، کالجز، تکنیکی اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، کوچنگ سینٹرز، مدارس سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

اس کے علاوہ سنیما ہالز، فارم ہاوسز، تفریحی مقامات، شادی اور بینکوئٹ ہالز، لان، جمز، کلب، سوئپنگ پولز، کھیلوں کے میدان، ہوٹلز، ہالز، بیوٹی پارلرز وغیرہ پر بھی پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مزاروں درگاہوں پر عوام کے جانے/ قیدیوں سے ملاقات پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

تاہم اسمارٹ لاک ڈاؤن میں شامنگ مالز، کاروباری مراکز ہفتے میں 6 روز تک صبح 9 سے شام 7 بجے تک کھولے جاسکیں گے۔

اس کے علاوہ تندور، ڈیری مصنوعات کی دکانیں، بلڈ بینکس، میڈیکل اسٹورز، کریانہ اسٹورز اور گوشت کی دکانیں ہفتے کے سات دن 24 گھنٹوں کے لیے کھولی جاسکیں گی۔

اس کے علاوہ ہوم ڈیلوری اور ٹیک آوے سروسز کے لیے ہوٹلز/ ریسٹورنٹس 24 گھنٹوں کے لیے کھولے جاسکیں گے۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن میں بین الصوبائی/ بین الاضلاعی اور بین الاضلاعی/ اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ چلانے کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ کے بعد کورونا کیسز میں اضافے کا امکان نہیں، ماہرین

واضح رہے کہ ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد مارچ کے مہینے میں مختلف صوبوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کو بعد ازاں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کردیا گیا۔

اگرچہ اس لاک ڈاؤن کے باعث ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کچھ حد تک کمی ہوئی تاہم اس کا معاشی اعتبار سے کافی برا اثر پڑا اور ہزاروں لوگ بیروزگار بھی ہوئے۔

ملک میں اس وقت کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال کو دیکھیں تو 3 اگست کی دوپہر تک 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد کیسز میں سے 2 لاکھ 48 ہزار سے زیادہ صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 984 افراد کا انتقال ہوا ہے۔

ان مجموعی کیسز میں سے بلوچستان میں 11 ہزار 774 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ وہاں 136 افراد زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔