سپریم کورٹ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا

اپ ڈیٹ 07 اگست 2020

ای میل

نیب نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
نیب نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

کراچی: سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرہ لوگوں کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق دیا گیا حکم معطل کردیا۔

اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اور انہوں نے مناسب معاوضے کی استدعا کی تھی۔

جس پر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی اور سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ کا 19 مئی کا حکم معطل کردیا، ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔

مزید پڑھیں: شہدا کیلئے منظور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا، نیب

دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل حسیب جمالی نے بتایا کہ درخواست گزاروں نے تقریباً 5 سال قبل اپنی رقم سے سرمایہ کاری کی تھی اور انہیں اصل رقم کے بجائے مارک اپ اور سود کے ساتھ معاوضہ دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ اپنے 19 مئی کے حکم میں سندھ ہائی کورٹ نے پاک فضائیہ اور بلڈرز کو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام معاملات کو حل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے الاٹیز کو 6 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کا کہا تھا۔

ساتھ ہی چیئرمین نیب کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ معاملے کی نگرانی کریں اور دونوں فریقین کی اپنے معاہدے کو پورا کرنے کے لیے معاونت کریں جبکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام متاثرہ لوگوں کو کم سے کم وقت میں مکمل ادائیگی ہو۔

سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے جیل حکام کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ وہ دونوں قید بلڈرز کو رہا کریں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکیں لیکن ساتھ ہی وزارت داخلہ کو ان لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ نیب نے اسکیم میں سرمایہ کاری کے ذریعے تقریباً 13 ارب روپے سے عوام کو مبینہ طور پر محروم کرنے پر جنوری میں میکسم پراپرٹیز کے بلڈر تنویر احمد اور بلال تنویر کو گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب سربراہ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ریفرنس پر دستخط کردیے

میکسم پراپرٹریز نے 2015 میں پاک فضائیہ کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا تھا تاکہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم تعمیر کی جائے اور اسی سلسلے میں لوگوں کو پلاٹس کے لیے اپلائی کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔

جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے ان پلاٹس کے حصول کے لیے اچھی خاصی رقم کی ادائیگی کی تھی۔

دودھ کی قیمتیں

سندھ ہائیکورٹ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریٹیلرز کو دودھ کی ہول سیل قیمت سے متعلق پیش رفت رپورٹ کے ساتھ پیش ہو اور یہ بتائیں کہ اگر دودھ مقرر کردہ قیمت سے زائد میں فروخت ہورہا ہے تو اس کے لیے اب تک کیا کارروائی کی گئی۔

عدالت عالیہ کے جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کمشنر کراچی کے نمائندے کو کہا کہ وہ 25 اگست تک رپورٹ جمع کرائے جس میں یہ واضح ہو کہ آیا دودھ کی قیمت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا گیا اور کیا اس مقصد کے لیے کوئی اجلاس منعقد ہوا۔

واضح رہے کہ ایک دودھ فروخت کرنے والوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وہ 120 فی لیٹر میں دودھ خرید رہا ہے اور وہ اسے کمشنر آفس سے مقرر کردہ 94 روپے فی لیٹر کی قیمت میں فروخت نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں: کراچی: تازہ دودھ، آٹے اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

اس معاملے پر جب عدالت میں سماعت ہوئی تو کمشنر کراچی کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک اسسٹنٹ کمشنر عدالت میں پیش ہوئیں انہوں نے پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت مانگا۔

جس پر بینچ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور ایک پیش رفت رپورٹ جمع کروائیں جس میں واضح کریں کہ دودھ کی ہول سیل قیمت کیا ہے اور اگر دودھ مقررہ قیمت پر فروخت نہیں ہورہا تو اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے اور آیا اس معاملے کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی اور کیا اس حوالے سے کوئی اجلاس منعقد ہوا۔


یہ خبر 07 اگست 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی