صوبوں میں پانی کی تقسیم کا معاملہ ایک ماہ میں حل کرنے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 07 اگست 2020

ای میل

مشترکہ مفادات کونسل کا 42 واں اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہوا —تصویر: اے پی پی
مشترکہ مفادات کونسل کا 42 واں اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہوا —تصویر: اے پی پی

اسلام آباد: مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے جس میں صوبوں کے درمیان 1991 کے پانی معاہدے پر 30 سال پرانے تنازعات کو آبی وسائل کی متفقہ تقسیم سے ایک ماہ میں حل کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل کا 42 واں اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہوا جس میں واٹر اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی واپڈا کے چیئرمین کے تقرر کا معاملہ وفاقی کابینہ کو ارسال کردیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی فیصلہ سازی میں صوبوں کی آواز بھی سنی جائے۔

سی سی آئی نے متفقہ طور پر قابل تجدید توانائی پالیسی 2019 کی منظوری دی، اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 22-2021 میں ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی ہدایت

علاوہ ازیں اجلاس میں گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس حوالے سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق اجلاس میں پانی کے 1991 کے معاہدے کے بارے میں اٹارنی جنرل فار پاکستان کی سفارشات کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران کونسل کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبوں کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاملے کو دیکھے گی، مشترکہ مفادات کونسل نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ 1991 سے سندھ اور پنجاب کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر اختلافات ہیں کیوں کہ سندھ معاہدے کے پیراگراف نمبر ٹو کے تحت پانی کی تقسیم چاہتا ہے جس سے پنجاب کا حصہ 40 سے 50 لاکھ ایکڑ فیٹ تک کٹ جائے گا جبکہ پنجاب کا اصرار ہے کہ پانی کی تقسیم پیراگراف نمبر 14 کے تحت ہو۔

پیراگراف 14 میں کہا گیا کہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر ہونے تک صوبے اسی تناسب سے پانی حاصل کرتے رہیں گے جس سے 1991 سے قبل کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: مراد علی شاہ کا صوبے کے اہم مسائل پر وزیراعظم کو خط

ذرائع نے کہا کہ سندھ نے پانی کی تقسیم کا فارمولا 1991 سے قبول نہیں کیا اور کونسل کے اکثریتی فیصلے کو اختلافی نوٹ کے ساتھ قبول کرتا رہا ہے۔

اجلاس کو ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری آرڈیننس 2002 میں تجویز کردہ ترمیم کا جائزہ لیا گیا۔

سی سی آئی نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ صوبوں کو ریگولیٹری باڈی کے حوالے سے اپنا ان پٹ دینے کے لیے موزوں میکانزم کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری

اجلاس میں حکومت پنجاب کی جانب سے چشمہ رائٹ بینک کینال کے زیریں حصے کا کنٹرول واپڈا سے لے کر حکومت پنجاب کے حوالے کرنے کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔

جس پر کونسل نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی، حکومت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی جو اس ضمن میں طریقہ کار اور دو صوبوں کے درمیان دوطرفہ معاہدے کو حتمی شکل دے گی۔

اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی اور بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کے مستقبل میں کردار اور افعال پر غور کیا گیا۔

جس پر اصولی فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزارت تعلیم کے تحت چلنے والے اسکولوں کو متعلقہ صوبوں و علاقوں کے محکمہ تعلیم کو منتقل کر دیا جائے۔