ریلوے کی پہلی خاتون اسٹیشن منیجر کو چند گھنٹوں بعد ہی عہدے سے ہٹادیا گیا

08 اگست 2020

ای میل

خاتون منیجر کو مبینہ طور پر یونین کی مخالفت پر عہدے سے ہٹایا گیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
خاتون منیجر کو مبینہ طور پر یونین کی مخالفت پر عہدے سے ہٹایا گیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: سینٹرل سپیریئر سروس کے ریلوے گروپ کی ایک خاتون افسر لاہور اسٹیشن منیجر کا عہدہ ایک دن کے لیے بھی برقرار نہیں رکھ سکیں کیونکہ اسٹیشن ماسٹروں کی طاقتور یونین نے مبینہ طور پر ان کے تقرر پر سخت مزاحمت کی۔

ڈان کو پتا چلا کہ پاکستان ریلوے کی انتظامیہ نے یونین کے دباؤ میں پی آر کے لاہور ڈویژن میں اسسٹنٹ ٹرانسپورٹ آفیسر 1 (اے ٹی او 1) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اسٹیڈا منیجر کا چارج سیدہ مرزیہ زہرا کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے لیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا وہ ریلوے اسٹیشن جو تاریخ کا حصہ بن گیا

محکمے کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کے روز پی آر انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں زہرہ کو لاہور اسٹیشن منیجر کا چارج سونپا گیا، اس پر اسٹیشن ماسٹرز ایسوسی ایشن (سمپرس یونین) نے اسٹیشن منیجر کی نشست پر سی ایس ایس آفیسر کے تقرر کے فیصلے پر احتجاج کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ اسٹیشن ماسٹر کے عہدے کے برابر کسی عہدیدار کو عارضی طور پر یا مستقل طور پر اس عہدے پر تعینات کیا جائے، آخر کار وہ ایک دن تک بھی اپنا چارج برقرار نہیں رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور اسٹیشن منیجر کی حیثیت سے سی ایس ایس خاتون افسر کے تقرر اور سات سے آٹھ گھنٹوں میں اس سے چارج واپس لینا اس برصغیر میں ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، طاقتور اسٹیشن ماسٹرز یونین نے ایک دن تک بھی انہیں برداشت نہیں کیا اور آخر کار انتظامیہ نے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

ملک کے نمبر 1 ریلوے اسٹیشن، لاہور اسٹیشن کے منیجر(بی ایس 1) کا عہدہ اس وقت خالی ہوا تھا جب پی آر کے لاہور ڈویژن کی انتظامیہ نے یونس بھٹی کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور مرزیہ زہرہ کو ہدایت کی کہ وہ اگلے احکامات تک اس کی دیکھ بھال کریں، چونکہ پی آر کے پاس اسٹیشن منیجر کے صرف دو عہدے ہیں، ایک لاہور اور دوسرا کراچی میں ہے، اس لیے یہ کام مذکورہ بالا مصروف ترین اسٹیشنوں میں بھاری آپریشنل امور سے نمٹنے کے معاملے میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 10سال بعد کراچی سے لاہور کا سفر

سی ایس ایس کے ریلوے گروپ کے 44 ویں کامن سے تعلق رکھنے والی سیدہ مرزیہ زہرا نے ڈان کو بتایا کہ پی آر انتظامیہ نے جمعہ کی شام ان کے تقرر کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے، دراصل یونس بھٹی کو مختلف شکایات پر دفتر سے ہٹا دیا گیا تھا، اس کے بعد اسٹیشن منیجر کے طور پر میرے تقرر کا نوٹیفکیشن جمعہ کو جاری کیا گیا لیکن بعد میں اسی دن واپس لے لیا گیا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ قانون کے تحت پی آر لاہور ڈویژن کے اے ٹی او-1 کی حیثیت سے اسٹیشن منیجر کے دفتر کی نگرانی جاری رکھیں گی، اگرچہ میں اب اس نوٹیفیکیشن کے تحت اس پوسٹ کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا لیکن میں اے ٹی او ون ہونے کی وجہ سے اس عہدے کی نگرانی کے لیے اپنے اختیار کا استعمال کرسکتا ہوں اور میں ایسا کروں گی، لاہور کینٹ اسٹیشن ماسٹر کا دفتر بھی میری نگرانی میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یعقوب صاحب کو لاہور اسٹیشن منیجر مقرر کیا گیا ہے، اگرچہ انہوں نے کام شروع کردیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ان کی نگرانی نہیں کرسکتی ہوں۔

مزید پڑھیں: سال 2019: پاکستان ریلوے کے لیے بدترین ثابت، 100 سے زائد حادثات

دوسری طرف یونین نے سیدہ مرزیہ زہرہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گریڈ 17 کا افسر گریڈ 17 کے افسر کی نگرانی کیسے کرسکتا ہے، پی آر انتظامیہ کو غیر دانشمندانہ فیصلے کرنے کی عادت ہے، سمارس یونین کے صدر سجاد گجر نے ڈان کو بتایا کہ اسٹیشن ماسٹر کیڈر کے اس اہم عہدے پر پی آر کی جانب سے گارڈ کے تقرر کے بعد 2010 میں ہم نے ملک گیر ہڑتال شروع کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یونین کا موقف ہے کہ اسٹیشن منیجر (لاہور اور کراچی) کے دو عہدوں کو گریڈ 16 کے سینئر ترین ترین اسٹیشن ماسٹر کو پُر کرنا چاہیے، لیکن انہوں نے حیران کن طور پر یونس بھٹی کو عہدے سے ہٹا دیا اور پھر سی ایس ایس آفیسر کو عہدہ تفویض کیا، گریڈ 17 کا افسر گریڈ 17 کے افسر کے دفتر کی نگرانی کیسے کرسکتا ہے؟ اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیا یہ اہلکار گریڈ 16 میں ہے، یہ قانون کے تحت کیڈر کا معاملہ ہے۔ سجاد گجر نے مطالبہ کیا کہ اے ٹی او کے بجائے گریڈ 18 یا اس سے اوپر (ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن آفیسر - ڈی ٹی او) کے افسر کو اسٹیشن منیجر کے دفتر کی نگرانی کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 'کراچی اور لاہور کی جائیداد فروخت کر کے ریلوے کی حالت بہتر کرسکتے ہیں'

لیسکو: لیسکو کی متعدد ٹیموں نے بلال کالونی (لاہور) اور فاروق آباد (شیخوپورہ) کے علاقوں میں میگا سرچ آپریشن شروع کیا اور بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری کا پتا چلا، ایک ترجمان کے مطابق ٹیموں نے 60 سے زائد غیر قانونی کنکشن کی فراہمی منقطع کردی اور قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے بجلی چوروں پر 8لاکھ سے زائد یونٹ وصول کیے۔

یہ خبر 8اگست 2020 بروز ہفتہ ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔