سی اے اے کے چیف کے تقرر میں ناکامی پر عدالت کا اظہار برہمی

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

سی اے اے ڈی جی کا عہدہ دو سال سے خالی ہونے پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
سی اے اے ڈی جی کا عہدہ دو سال سے خالی ہونے پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے مستقل ڈائریکٹر جنرل کے تقرر میں حکومت کی ناکامی نے کمرشل پائلٹس کے لائسنسز کے معاملے کو متنازع بنا دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطرف کیے گئے پائلٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ سی اے اے ڈی جی کا عہدہ دو سال سے کیوں خالی پڑا ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے سیکشن آفیسر محسن علی عدالت میں پیش ہوئے تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر تسلی بخش وضاحت نہیں دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسکرونٹی کے بعد سی اے اے نے 193 پائلٹس کو نوٹسز جاری کردیے

وہ یہ واضح نہیں کرسکے کہ یہ معاملہ سی اے اے کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کو کیوں سونپا گیا جب کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے 5 دسمبر 2019 کے حکم میں ایوی ایشن ڈویژن کے سیکریٹری کو ان اعتراضات پر غور کرنے اور اسپیکنگ آرڈر پاس کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹ کیا کہ سیکشن آفیسر گزشتہ دو سالوں سے مستقل بنیادوں پر کسی اہل اور قابل شخص کو سی اے اے کا ڈی جی مقرر کرنے میں حکومت کی ناکامی پر کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دے سکے ہیں۔

سیکشن آفیسر محسن علی نے بتایا کہ اخبارات میں دو بار اشتہارات شائع کیے گئے تھے لیکن اس سے کسی مناسب شخص کی نشاندہی نہیں کی ہوسکی۔

جسٹس من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے خلاف اہل اور قابل شخص کا تقرر ریاست کے ایگزیکٹو آرگنائزیشن کے خصوصی ڈومین کے تحت ہوتا ہے۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 'پہلی بات تو یہ کہ قانونی دفعات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ اشتہار کے ذریعے تقرر کا طریقہ متعین کیا گیا ہے، موجودہ کیس میں آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ضمانت دی گئی ہے کہ ہر شہری کا بنیادی حق شامل ہے'۔

عدالت کا کہنا تھا کہ 'جس طرح سے اس معاملے کو دیکھا گیا ہے اس سے سراسر بد انتظامی کا اشارہ ملتا ہے، کمرشل پائلٹس کے لائسنس اور ایک انتہائی اہم ریگولیٹری اتھارٹی، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے کی جانے والی کارروائی سے متعلق معاملے کے ملک اور قومی ایئر لائن کے مفادات پر گہرے نتائج ہوں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سول ایوی ایشن کو پائلٹ کے خلاف کارروائی سے روک دیا

اٹارنی جنرل کو نوٹس دیتے ہوئے عدالت نے ان سے 'وفاقی حکومت سے ہدایات مانگنے اور ڈائریکٹر جنرل، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے عہدے پر مستقل بنیاد پر کسی اہل شخص کے تقرر میں غیر معقول تاخیر کی وضاحت کرنے کو کہا'۔

اس سے قبل 9 جولائی کو عدالت نے سی اے اے کو پائلٹ کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا جس کا لائسنس اتھارٹی نے ’مشکوک‘ ہونے کی وجہ سے منسوخ کردیا تھا۔

یکم جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہوابازی کے وزیر کے خلاف ایک درخواست مسترد کردی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وزیر ایوی ایشن نے پائلٹس کی اسناد میں بے ضابطگیوں کا الزام لگا کر پیشہ ور پائلٹس، پی آئی اے، ریاست اور پاکستان کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

عدالت نے کہا تھا کہ وہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے کہ پارلیمنٹ، وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کسی بھی طرح سے وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان اور سی اے اے کے خلاف ریاست کے پیشہ ورانہ پائلٹس اور قومی پرچم بردار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کرنے میں ہچکچائے گی نہیں۔