اٹارنی جنرل کے کراچی 'آپشنز' کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی سیخ پا

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آگ سے کھیل رہی ہے اور ایک خطرناک راستے پر چل رہی ہے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آگ سے کھیل رہی ہے اور ایک خطرناک راستے پر چل رہی ہے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان کے کراچی میں وفاق کے آئینی اور قانونی آپریشنز سے متعلق غور کے بیان پر سینیٹ میں شدید ردعمل کا اظہار کیا اور چیئرمین صادق سنجرانی سے وضاحت طلب کرنے کے لیے اعلیٰ سرکاری وکیل کو ایوان کے سامنے طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے کو پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے قومی اسمبلی کے وزراعلیٰ محمد خان اور اعظم سواتی کی جانب سے پیش کیے گئے قومی اسمبلی سے منظور شدہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق پانچ بلز کے پیش کیے جانے کے بعد پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے اٹھایا۔

بلوں کی منظوری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ہوئی تھی، جس میں متعلقہ کمیٹیوں کو سفارشات کی گئی تھیں۔

بعدازاں پیپلز پارٹی کے متعدد دیگر اراکین نے بھی اٹارنی جنرل کے بیان پر وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی حمایت پختون ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے سینیٹر عثمان کاکڑ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی کی تھی اور ان دونوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اس طرح کا بیان دینے پر اٹارنی جنرل کو برطرف کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے نالوں کی صفائی کا کام حکومت سندھ کو دینے کی استدعا مسترد

جب پیپلز پارٹی نے اٹارنی جنرل کے بیان پر حکومت کے خلاف تنقید کا آغاز کیا تو مرکزی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے منگل کو لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کی پیشی پر پارٹی کارکنوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور پارلیمنٹیرین کے خلاف مقدمات کے اندراج کے حوالے سے احتجاج کیا۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں اپوزیشن کے تمام اراکین نے لاہور واقعے پر واک آؤٹ کیا۔

کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری میں اٹارنی جنرل کے بیان کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وفاقی حکومت 'آگ سے کھیل رہی ہے' اور 'ایک خطرناک راستے پر چل رہی ہے جس سے ملک میں پہلے سے موجود فالٹ لائنز تیز ہوسکتے ہیں'۔

بدھ کے روز کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے پیش ہونے والے اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ انہوں نے کراچی کے متعدد شہری اور دیگر امور پر وزیر اعظم سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے امور میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن انہوں نے کہا کہ صوبائی میٹروپولیس کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت ان امور کو طے کرنے کے لیے دستیاب آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کررہی ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ اے جی ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں اور وہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لے سکتے ہیں لہذا انہیں آئندہ اجلاس میں بلایا جائے تاکہ وہ ایسے بیان دینے کی وضاحت دے سکے جس کا سبب ملک میں 'اداروں کا تصادم' بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں، لگتا ہے سندھ اور مقامی حکومت کی شہریوں سے دشمنی ہے'

پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے یاد دلایا کہ 1971 میں جب مشرقی پاکستان سے جوٹ پر ایکسائز ڈیوٹی روکی گئی تھی تو اس ملک کو سانحہ مشرقی پاکستان کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس وقت سے ون یونٹ سسٹم نافذ کیا گیا تھا۔

رضا ربانی نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ ریاست نے سندھ میں لوگوں کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش میں ایک سیاسی جماعت بنائی ہے اور پھر یہ پارٹی ریاست کے کنٹرول سے باہر ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ 'گریٹر سینٹرلائزیشن' کے ذریعے ون یونٹ کو بحال کرنے اور 1973 کے آئین کو 1962 کے صدارتی آئین کے سائے میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر ریاست 1962 کے دور کی بحالی چاہتی ہے تو آپ اس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کے وفاق پر دور رس اثرات ہوسکتے ہیں، میں سندھ حکومت کے دفاع میں بات نہیں کررہا بلکہ آئین کی تعمیل کا خواہشمند ہوں'۔

پیپلز پارٹی کی رہنما سسی پلیجو نے کہا کہ عدالت میں اے جی کے ریمارکس کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف 'مافیا' نہیں ہوتی تو اسے تمام جماعتوں کو ایک سطح کا میدان فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ تقسیم کے وقت پاکستان میں شمولیت کے لیے کسی قرارداد کو منظور کرسکتا ہے تو اس کے عوام اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کا بھی دفاع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے وفاق کو صوبائی امور میں مداخلت کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'انہیں ہمیں ہرگز کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، آپ کو سندھ میں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی'۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی سے بل بورڈز ہٹانے کا کام شروع

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ کسی کو بھی کراچی کو اپنی کالونی نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب سے متعلق حالیہ بیان پر بھی سوال اٹھایا جہاں انہوں نے ریاض کو خبردار کیا تھا کہ اگر سعودی عرب، او آئی سی اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہا تو 'پاکستان او آئی سی کے باہر اجلاس کے لیے تیار ہوگا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جان بوجھ کر کوئی تبدیلی آئی ہے جس سے ملک یا پارلیمنٹ لاعلم ہے؟ کیا پی ٹی آئی کی حکومت کسی سوچ و فکر کے ساتھ بیان جاری کرتی ہے یا پھر یہ معمول کی غلطیاں ہیں؟'

انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کی لاپرواہ بیان بازی سے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو اپنے بیان کے پیچھے منطق پر پارلیمنٹ کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت وزرا پاکستان کا سوچنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پی پی پی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے الزام لگایا کہ کراچی کے ساتھ جان بوجھ کر امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جبکہ ملک کے تقریبا تمام بڑے شہروں کو ایک ہی مسئلہ درپیش ہے۔

مولا بخش چانڈیو نے سخت تقریر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست کا ایک ملازم 'سندھ کے تقسیم' کے بارے میں بات نہیں کرسکتا۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز پرویز رشید، مصدق ملک اور مشاہد اللہ خان نے لاہور میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی اور اس واقعے کو اپوزیشن کو نشانہ بنانے کے لیے حکومت کی جاری مہم کا ایک حصہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی جم خانہ میں نئی تعمیرات روکنے، کڈنی ہل پارک کی زمین مکمل واگزار کرانے کا حکم

انہوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ وہ گرفتاریوں کے بعد بھی 'زہریلی گیس' کا استعمال کررہی تھی اور پارٹی کارکنوں پر تشدد کرتی رہی۔

مشاہداللہ خان نے کہا کہ پارٹی کو بم پروف گاڑی کی فرانزک رپورٹ مل گئی ہے جس میں مریم نواز سفر کررہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کی ونڈشیلڈ کو پتھروں سے نقصان نہیں پہنچا ہے۔

قائد ایوان شہزاد وسیم نے لاہور کے واقعے کو ایک 'ڈراما' قرار دیا۔

انہوں نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صرف کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے جنہیں بے بس نہیں چھوڑا جاسکتا۔

چیئرمین سینیٹ نے لاہور معاملے کو انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کے حوالے کردیا۔