کراچی کے نالوں کی صفائی کا کام حکومت سندھ کو دینے کی استدعا مسترد

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

سپریم کورٹ نے کراچی میں نالوں کی صفائی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے بجائے حکومت سندھ کو دینے کی استدعا مسترد کردی۔

ساتھ ہی عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ این ڈی ایم اے جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کراچی میں مدد کے لیے وفاقی حکام کے آنے کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے این ڈی ایم اے کو کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کا کام دیکھنے کا ٹاسک دیا تھا اور اسے 3 ماہ کے عرصے میں تجاوزارت کے خاتمے کی ہدایت کی تھی۔

آج (جمعرات کو) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شہر میں نالوں کی صفائی سے متعلق کیس کی سماعت کی، جہاں صوبائی اور مقامی حکومت کے نمائندوں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر حکام پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے کے حوالے کرنے کا حکم

سماعت کے آغاز میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے صوبائی حکومت کی جانب سے 3 اگست تک نالوں کی صفائی سے متعلق رپورٹ پیش کی، ساتھ ہی بتایا کہ شہر میں 514 چھوٹے نالے ہیں جبکہ شہر کے بڑے نالوں میں سے 3 نالے این ڈی ایم اے کے پاس ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ گجر، مواچھ گوٹھ اور سی بی ایم نالا این ڈی ایم اے کے پاس ہے، گجر نالے پر 50 اور دیگر پر 20 سے 25 فیصد کام کردیا تھا، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ نالوں کی صفائی اگر ہورہی ہے تو پانی کیسے بھر گیا، جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ کچرہ بھرا ہوا تھا تو پانی کھڑا ہونا تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے ہی کام ہوا تھا جیسے اور جگہوں پر ہوتا ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ نالوں کی صفائی کا کام ورلڈ بینک کے پیسوں سے ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ خود نالوں کی صفائی کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ حکومت سندھ نالوں کی صفائی کر رہی تھی تو این ڈی ایم اے کیوں آئی، اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ پتا نہیں کیوں آئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ہمیں نالوں کی صفائی کے لیے 30 اگست کا وقت دیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہاں نالوں کی صفائی کی تصاویر پیش کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، 2 نالوں کی صفائی کی تصاویر دکھا کر کہتے ہیں کراچی صاف کردیا۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے پوچھا کہ گزشتہ روز کے حکم نامے کی وضاحت کردیں، این ڈی ایم اے سے نالے صاف کرانے کا مقصد حکومت سندھ تو مکمل آؤٹ ہوگئی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو اب آپ کو فکر ہورہی ہے، کل تو کسی نے نہیں کہا کہ کراچی میں بڑا کام ہورہا ہے، نالے صاف کردیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ 5 سے 6 نالے حکومت سندھ نے صاف کیے ہوں لیکن آپ نے کہا کہ 514 نالے ہیں، ناجانے کراچی میں اور کتنے نالے ہوں۔

ساتھ ہی جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جو تصویر آپ دکھا رہے ہیں، اتنا نیلا پانی تو شاید سمندر میں بھی نہ ہو، این ڈی ایم اے نالے صاف کردے گا تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ این ڈی ایم اے جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں : 'کراچی کی سٹرکیں ندی نالے بن گئیں'

انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم این ڈی ایم اے کو کام کرنے سے روک دیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ مشینری ہماری، لوگ ہمارے، این ڈی ایم اے کا ایک سپروائزر کھڑا ہوگا۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت سندھ لوگوں کی مشکلات کم کرے، اگر آپ کو عوام کے لیے کچھ کرنا ہے تو ان کو این ڈی ایم اے کی جانب سے نالے صاف کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کے بجائے حکومت سندھ کو دینے کی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی زبانی استدعا مسترد کردی۔