کراچی جم خانہ میں نئی تعمیرات روکنے، کڈنی ہل پارک کی زمین مکمل واگزار کرانے کا حکم

اپ ڈیٹ 10 اگست 2020

ای میل

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: فلکر اسکرین شاٹ
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: فلکر اسکرین شاٹ

سپریم کورٹ نے کراچی کے مختلف معاملات پر سماعت کے دوران کڈنی ہل پارک کی زمین مکمل واگزار کرانے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی عدالت نے کراچی جم خانہ میں نئی تعمیرات بھی روکنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کراچی سرکلر ریلوے، ہل پارک اراضی قبضہ کیس، سی بریز پلازہ کیس، کراچی جم خانہ تعمیرات کیس، رائل پارک ٹاورز کیس سمیت مختلف معاملات پر سماعت کی۔

سیکریٹری ریلوے کا مؤقف مسترد، توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ

سماعت کے دوران کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی بحالی سے متعلق کیس میں عدالت نے سیکریٹری ریلوے کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے ان کی سرزنش کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، ہم نے آپ کو بحالی کیلئے جو وقت دیا تھا وہ ختم ہو رہا ہے۔

کے سی آر اسی سال چلنی ہے، چیف جسٹس—فائل فوٹو: ہیرالڈ
کے سی آر اسی سال چلنی ہے، چیف جسٹس—فائل فوٹو: ہیرالڈ

اسی دوران عدالت میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ سرکلر ٹریک پر 24 مقامات پر پھاٹک تھے، ریلوے ٹریک کی بحالی کے بعد تمام راستے بند ہو سکتے تھے، ہم نے سروے مکمل کرلیا ہے اور 24 میں سے 10 مقامات پر انڈر پاس اور اوور پاس بنائیں جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ریلوے کی زمین پر بڑی عمارتیں ایک ہفتے میں گرائیں، چیف جسٹس

سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے مطابق سروے کے مطابق 10 پاسز ایسے ہیں جہاں 2000 سے زائد گاڑیوں کی آمد رفت ہے، باقی کے 14 گیٹ پر کوئی ٹریفک نہیں ہوتی، لوگوں نے اسے بیٹ بنا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سروے کے مطابق صرف 10 مقامات پر پاسز بنانے کی ضرورت ہے، رواں مالی سال میں 5 ارب روپے پاسز بنانے کے لیے مختص کیے ہیں جبکہ اسی ہفتے ٹینڈر کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اسی طرح وقت بڑھاتے جائیں گے یا عمل مکمل بھی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سپر ہائی وے پر ابھی تک کام مکمل نہیں ہوا، آپ منصوبے میں 5 سے 10 سال لگا دیں گے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کتنے وقت میں یہ گیٹ بن جائیں گے، جس پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت لگ جائے گا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سوچ لیں ٹرین اسی سال چلنی ہے۔

رائل پارک منصوبے کے 7 میں سے 2 ٹاوز گرادیے، کمشنر کراچی

عدالت میں سماعت کے دوران کراچی میں الہ دین پارک کے قریب رائل پارک ٹاور گرانے کا معاملہ بھی آیا جس پر کمشنر کراچی نے رپورٹ پیش کی۔

کمشنر نے بتایا کہ رائل پارک منصوبے کے 7 ٹاورز ہیں، جس میں سے 2 گرادیے ہیں، 5 باقی ہیں۔

اسموقع پر عدالت میں عمارت کے متاثرین کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین بھی موجود تھے اور انہوں نے کہا کہ بلڈرز نے ڈیڑھ ارب روپے وصول کیے ہیں، اس کی 5 ایکڑز زمین ڈی ایچ اے میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: رائل پارک عمارت کو گرانے کے حکم کیخلاف نظرثانی درخواست مسترد

جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کو 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا۔

پی ای سی ایچ ایس نے تو نالوں پر ہی قبضہ کرادیا، چیف جسٹس

سماعت کے دوران ہل پارک کی زمین پر قبضہ و دیگر معاملات بھی زیر غور آئے۔

جہاں عدالت نے زبانی حکم میں کڈنی ہل پارک کی زمین مکمل واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے نجی اسکول کی عمارت بھی منہدم کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے کڈنی ہل پارک مکمل واگزار کرانے کا حکم دیا—فائل فوٹو: فیس بک
عدالت نے کڈنی ہل پارک مکمل واگزار کرانے کا حکم دیا—فائل فوٹو: فیس بک

ہل پارک اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران کمشنر کراچی نے کہا کہ مکینوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں، جس پر کیس کے ایک فریق امبر علی بھائی نے کہا کہ ہل پارک کی مجموعی زمین 56 ایکڑ ہے، پی ای سی ایچ ایس نے 4 بنگلے الاٹ کردیئے ہیں، پہاڑی کاٹ کر بنگلے بنادیے گئے ہیں تاہم کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ یہاں پر 13 گھر بنائے گئے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پی ای سی ایچ ایس نے تو نالوں پر ہی قبضہ کرادیا، سارا کیا دھرا پی ای سی ایچ ایس کا ہی ہے، سارے نالے ختم ہوگئے، شاہراہ قائدین کے ساتھ نالہ اب نظر ہی نہیں آتا۔

بعد ازاں عدالت نے ہل پارک کی زمین پر قائم غیرقانونی تعمیرات و گھروں کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا اور کمشنر کو ہدایت کی کہ قبضہ ختم کرا کر رپورٹ پیش کریں جبکہ ساتھ ہی کہا کہ الاٹیز رقم کی وصولی کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سی اے اے ایئرپورٹ پر مزید کمرشل کام نہ کرے، عدالت

ساتھ ہی سماعت کے دوران کلفٹن میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی زمین سے قبضہ ختم کروانے کا معاملہ جب سامنے آیا تو نمائندہ سی اے اے نے بتایا کہ کام تیزی سے جاری ہے، کورونا کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

نمائندے نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق زمین پر پلانٹیشن کررہے ہیں، جس پر عدالت نے ایئرپورٹ کے قریب سی اے اے کی زمین پر بھی پارک بنانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے جو ہینگرز ہیں یہ کس کام کے ہیں؟ 40، 50 جہاز کھڑے کیے ہوئے ہیں، جس پر سی اے اے کے نمائندے نے کہا کہ ہم کمرشل لگانے والوں کو ری مینٹین کرنے کی ذمہ داری دیتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جتنا کمرشل کرنا تھا کرلیا، ایئرپورٹ پر مزید کوئی کمرشل کام نہ کریں۔

بعد ازاں عدالت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔

نیسپاک نے سی بریز پلازہ کو خطرناک قرار نہیں دیا، وکیل

عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران ایم اے جناح روڈ پر سی بریز پلازہ گرانے سے متعلق کیس بھی زیر غور آیا۔

اس دوران نیسپاک اور کنٹونمنٹ بورڈ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس پر وکیل سی بریز پلازہ نے کہا کہ نیسپاک نے عمارت کو خطرناک قرار نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: 'لوگوں نے اپنے ابّا کی زمین سمجھ کر عمارتیں بنائیں، کسی کو نہیں چھوڑیں گے'

وکیل نے کہا کہ عمارت کی ریکٹر و فٹنگ کرائی جائے گی، جس پر عدالت نے سی بریز الاٹیز کو 5 کروڑ روپے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

سی بریز پلازہ کراچی میں مزار قائد کے قریب واقع ہے—فائل فوٹو: فیس بک
سی بریز پلازہ کراچی میں مزار قائد کے قریب واقع ہے—فائل فوٹو: فیس بک

عدالت نے کہا کہ عمارت کو مضبوط کرانے سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی جائے، 40 سال سے عمارت بنی ہوئی ہے پہلے خیال کیوں نہیں آیا۔

الاٹیز کے وکیل نے کہا کہ ہمیں ایک ماہ کی مہلت دی جائے، تمام ماہرین سے رپورٹ لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے، ساتھ ہی وکیل نے کہا کہ الاٹیز ریکٹر و فٹنگ کا پیسہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے نیسپاک سے استفسار کیا کہ عمارت کی ریکٹر و فٹنگ اور دیگر کاموں کے لیے کتنا پیسہ درکار ہے، جس پر نیسپاک کے نمائندے نے جواب دیا کہ ہمارے اندازے کے مطابق 50 کروڑ روپے درکار ہیں۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 50 کرورڑ روپے جمع کرا دیں اس کے بعد عمارت کی تمام ذمہ داری نیسپاک کی ہوگی۔

کراچی جم خانہ میں نئی تعمیرات روکنے کا حکم

مختلف معاملات کی سماعت کے دوران کراچی جم خانہ میں تعمیراتی کام کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جم خانی میں غیرقانونی تعمیرات ہورہی ہیں، یہ تعمیراتی کام سپریم کورٹ کے حکم اور آثار قدیمہ کے قانون کے برعکس ہیں۔

اس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ تعمیراتی کام بغیر اجازت کے شروع کیا گیا، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے این او سی بھی نہیں لی گئی، ہم نے عدالتی حکم کے مطابق اور آثار قدیمہ قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی۔

کمشنر نے کہا کہ خلاف ورزی پر تعمیرات روکنے کی کارروائی کی، تاہم کارروائی پر ہمارے خلاف ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’کراچی سرکلر ریلوے کا 75 فیصد سے زائد راستہ کلیئر کروالیا‘

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2019 میں پارک اور کھل کے میدان میں نئی تعمیرات روک دی تھیں تاہم سندھ ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر تعمیرات کی اجازت دے دی کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ واضح نہیں ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کا رویہ غیر روایتی ہے، جس پر عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا جم خانہ پارک کی زمین پر کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ بنا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے جم خانہ میں نئی تعمیرات روک دیں—فائل فوٹو: کراچی جم خانہ ویب سائٹ
سپریم کورٹ نے جم خانہ میں نئی تعمیرات روک دیں—فائل فوٹو: کراچی جم خانہ ویب سائٹ

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان کاموں میں بہت پیسہ ہے، (یہ) آپ کے افسران کے بھی ہاتھ لگ جاتا ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھیجیں تو بھی کچھ نہیں ہوگا، پیسے دے کر اپنا ٹرانسفر کرالیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیسہ بنانے والوں کے نصیب میں کھانا پینا تک نہیں ہوتا، یہاں غریب کی طرح رہ رہے ہوتے ہیں اور پیسے باہر بھیج رہے ہوتے ہیں، پاکستان سے پیسے دبئی اور لندن بھیج دیے جاتے ہیں۔

بعدازاں عدالت عظمیٰ نے جم خانہ میں تعمیرات جاری رکھنے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے نئی تعمیرات روک دیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق جم خانہ آثار قدیمہ کی عمارت میں نئی تعمیرات نہیں کرسکتا۔