نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، علاج کیلئے لندن میں قیام کی تجویز

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2020

ای میل

سابق وزیراعظم نواز شریف—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق وزیراعظم نواز شریف—فائل فوٹو: اے ایف پی

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی تازہ میڈیل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی گئی، جس میں ڈاکٹرز نے انہیں بہترین علاج کے لیے لندن میں ہی قیام کا مشورہ دیا ہے۔

عدالت عالیہ میں جمع کروائی گئی تازہ میڈیکل رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ماضی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ کے توسط سے جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں کنسلٹنٹ کارڈیو تھوریسک سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کے دستخط ہیں اور انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بہترین علاج کے لیے لندن میں ہی قیام کا مشورہ دیا ہے۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہے کہ نواز شریف معمول کی چہل قدمی جاری رکھیں جبکہ وہ اپنی تھیراپی بھی جاری رکھیں۔

مزید پڑھیں: ’پنجاب حکومت کو نواز شریف کی طبی رپورٹس سے متعلق تحقیقات کا حکم دے دیا‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کے مطابق وہ پاکستان کی جیل میں تنہا قید تھے اور وہاں ان کی حالت زیادہ خراب ہوئی۔

عدالت میں جمع میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف زیادہ خطرے (ہائی رسک) کٹیگری کے مریض ہیں اور ان کے دل کے علاج کے لیے تمام اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کئی مریضوں کے علاج میں خلل آیا ہے جبکہ نواز شریف کے دل کی شریانیں کھولنے کے لیے جلد ہی وقت مقرر کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کا علاج ان کے دل کی بند شریانیں کھولنے کے عمل کے بعد کیا جائے گا۔

مذکورہ رپورٹ میں کنسلٹنٹ کارڈیو تھوریسک سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے کہا کہ نواز شریف لندن میں موجود ہیں اور چونکہ ماہرین اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ان کے کیس کو واضح طور پر سمجھتے ہیں، میں یہ تجویز دوں گا کہ بہتر طبی انتظامات کے لیے وہ لندن میں ہی رہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طبی تحقیقات اور آرا سے نواز شریف کے دل کو خون کی سپلائی میں نمایاں کمی اور اس کی خراب کارکردگی کا عندیہ ملتا ہے۔

گزشتہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لازمی طور نواز شریف کی کورونری کیتھیٹرائزیشن ہونی چاہیے کیونکہ ان کے دل کا ایک اہم حصہ خطرے میں ہے۔

مزید کہا گیا تھا کہ نواز شریف کا علاج روایتی طریقے سے کیا جارہا ہے کیونکہ وہ مختلف بیماریوں سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انویزیو سرجری کے لیے آئی ٹی پی (ٖپلیٹیلیٹس کی غیرمستحکم تعداد) اور دیگر بیماریوں (فشار خون، ذیابیطس اور گردے کی بیماری) کی وجہ سے نواز شریف کی حفاظت کی خاطر کثیر الجہتی نقطہ نظر سے خبردار کیا گیا تھا کیونکہ اس قسم کی سرجری میں خون بہہ جانے کا کافی خطرہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرجری کے باعث 10 ستمبر تک نواز شریف کی وطن واپسی کا امکان نہیں

جمع کروائی گئی گزشتہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث جیسے ہی ہسپتال میں دیگر سرجری شروع ہوگی نواز شریف کی سرجری کی جائے گی اور ان کی صحت کافی خطرے میں ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں ہیں جبکہ حکومت ان کی واپسی کے لیے کوششوں میں مصروف ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں سرنڈر کرنے کا بھی حکم دیا تھا، تاہم اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

نواز شریف کی خرابی صحت اور لندن میں قیام

گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے باعث تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

بعد ازاں ان کی ضمانت پر رہائی کے لیے پہلے لاہور ہائیکورٹ اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جہاں سے انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت دیتے ہوئے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔

جس کے ساتھ ہی حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا کہا تھا لیکن حکومت نے شریف خاندان کو 7 سے ساڑھے 7 ارب روپے تک کے انڈیمنٹی بانڈ جمع کروانے کا بھی کہا تھا، جس پر مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'جانبدارانہ' اور 'بدلے کی سیاست پر مبنی' قرار دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مذکورہ معاملے پر عدالت جانے کا اعلان کیا تھا اور مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم نے انڈیمنٹی بانڈز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور حکومت پر 'گندی سیاست' کرنے کا الزام لگایا تھا۔

بعد ازاں 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو معطل کردیا تھا۔

جس پر سابق وزیراعظم 19 نومبر کو اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف نے سرنڈر کی شرط 'ختم' کرنے کی استدعا کردی

تاہم وقفے وقفے سے پہلے لندن کے ریسٹورنٹ اور پھر ایک کیفے میں نواز شریف کی تصاویر منظر عام پر آنے پر ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا جس پر صوبائی حکومت متعدد مرتبہ ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کی تھیں۔

تاہم حکومت پنجاب نے بعد ازاں ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جبکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے یہ کہا تھا کہ وزیراعظم نے حکومت پنجاب کو نواز شریف کی رپورٹس کی تحقیقات کا حکم دیا۔

ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی درخواست پر 2 ستمبر 2020 کو سماعت کی تھی جہاں نواز شریف کو 10 ستمبر سے قبل سرنڈر کرنے حکم دیا گیا تھا بصورت دیگر کے ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لانے کا کہا تھا۔

تاہم نواز شریف نے سرنڈر کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 10 ستمبر تک سرنڈر کرنا ممکن نہیں، ساتھ ہی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس شرط کو ترک کرے۔