مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے سدباب کیلئے قانون سازی ضروری تھی، شہزاد اکبر

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2020

ای میل

وزیر اطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی شہزاد اکبر پریس کانفرنس کر رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
وزیر اطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی شہزاد اکبر پریس کانفرنس کر رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے انسداد کے سلسلے میں قانون سازی کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی دوسرا اراستہ نہیں تھا۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کی روشنی میں ہمیں ایسے اقدامات کرنے تھے جن سے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں قانون سازی کرنی تھی اور اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق تین بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج

انہوں نے کہا کہ یہ شرط عائد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ماضی میں ہمارے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی اور نہ ہی ایسے اقدامات کیے کہ ادارے اس بیماری کو روکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں بڑے عرصے سے تھے اور ان کی حکومتوں میں تھے، ہمارے پاس دو راستے تھے کہ اس سے نکل جائیں یا بلیک لسٹ میں چلے جائیں اور ہمیں یہ دیکھنا تھا کہ ان میں سے کیا بہتر ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کی یہ کوشش تھی کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے قائدین کے لیے کیا اہم ہے۔

'اپوزیشن نیب کے قانون میں 34 ٹانکے لگانا چاہتی تھی'

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کے سلسلے میں مالی معاملات میں ایسی شقیں درکار تھیں جس سے مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ جیسی چیزوں کا سدباب ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے جائزہ عمل کو بھی سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ کوئی ایک ادارہ نہیں بلکہ اس میں اقوام عالم کے لوگ ہوتے ہیں اور دوسرے ممالک کے لوگ آپ کے ملک کے قوانین کا دوسرے ممالک سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں اور اسی تناظر میں یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کے قوانین اتنے سخت یا نرم ہیں کہ جو چیزیں درکار ہیں اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ موثر ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایک اور بل سینیٹ میں مسترد

معاون خصوصی نے کہا کہ ٹرسٹ، وقف، دہشت گردوں کی مالی معاونت سمیت مختلف قوانین میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے خصوصی اصلاحات کا کہا گیا تھا، ہمارا ایف اے ٹی ایف کا سیکریٹریٹ ہے جس میں تمام اداروں کی نمائندگی ہے، اسٹیک ہولڈرز اس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گرے لسٹ میں چلا گیا تو اب خطرہ تھا ہم بلیک لسٹ میں چلے جائیں گے تو ایسے میں ایک ذمے دار حکومت کا یہ فرض ہے کہ یہ چیزیں نہ ہوں اور پاکستان گرے لسٹ سے نکل کر دوبارہ وائٹ میں آجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارشات کی روشنی میں بل بنائے گئے تو اپوزیشن سے مذاکرات شروع ہوئے، تو اندرونی کہانی یہ ہے کہ اپوزیشن کے مدنظر سب سے اہم چیز یہ تھی کہ اس پورے پیکج کے بدلے ہمیں کیا ملے گا اور ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ نیب کے قانون کی 38 شقوں میں 34 ٹانکے لگا دیے جائیں لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے ان کا یہ مطالبہ ختم ہو گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ آخر میں اپوزیشن کی سوئی اینٹی منی لانڈرنگ بل پر آکر اٹک گئی، اینٹی منی لانڈرنگ بل پہلے آرڈیننس کی صورت میں 2007 میں لاگو ہوا، 2010 میں پارلیمان سے قانون بنا جسے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کہا گیا، جب اس قانون کا جائزہ لیا گیا تو اس میں کافی خامیاں تھیں جس کی نشاندہی کی گئی اور طے کیا گیا کہ ان خامیوں کو دور کر کے قانون کو بہتر کیا جائے گا کیونکہ اس قانون میں کافی خامیوں کی وجہ سے ہی یہ جعلی اکاؤنٹس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی بات کو مدنظر رکھ کر حکومت نے ایک مسودہ تیار کیا، اسے مذاکرات کے لیے اپوزیشن سے شیئر کیا گیا اور ان تمام مذاکرات کے دوران ان کی نیت واضح ہوگئی کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کا ٹی ٹی والا کیس فوراً بند ہو جائے، آصف علی زرداری اور ان کے حواریوں کے جعلی اکاؤنٹس والے کیسز بند ہو جائیں اور اس کے روح رواں شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ اس ڈیل کے چکر میں میرے کیسز بھی بند ہو جائیں۔

مزید پڑھیں: 'پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 53 ممبران اسمبلی غیر حاضر رہے'

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے یہ پراپیگنڈا کیا کہ کسی کو بھی چھ ماہ کے لیے گرفتار کر لیا جائے گا لیکن ایسی کوئی بات ہمارے بل میں موجود ہی نہیں تھی بلکہ یہ بات پہلے سے موجود بل میں تھی کہ گرفتار کیا جا سکتا ہے اور یہ ہم نے بل میں ختم کی ہے لیکن آپ ڈلوانا چاہ رہے ہیں۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف ہم سے یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ہم منی لانڈرنگ کو سنگین جرم سمجھیں جبکہ ہمارے ہاں اس جرم پر فوری ایف آئی آر نہیں کاٹی جا سکتی تھی جس پر انہیں تحفظات تھے، دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ سنگین جرم ہے اور جب ہم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ان کو اس پر تحفظات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے کہا کہ باقی سب رہنے دیں بس یہ کر دیں اور وہ بات یہ تھی کہ ان کے بل میں شق نمبر 18 میں کہا گیا کہ پیراگراف 17 کو 18 سے بدل دیں حالانکہ حکومت صرف اس کے نمبر میں تبدیلی کر رہی تھی کیونکہ نئی شقوں کے آنے سے اس کا نمبر بدل رہا تھا۔

شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا کہ 2010 میں پیپلز پارٹی کے دور میں بننے والے قانون میں تفتیشی اور پراسیکیوٹنگ ایجنسیز میں ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس، کسٹمز اینڈ انویسٹی گیشن انٹیلی جنس، ایف بی آر، کاؤنٹر ٹرارزم ڈپارٹمنٹ اور قومی احتساب بیورو شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ 2010 کے قانون میں موجود تھے لیکن آج اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ آپ اس میں سے نیب کو نکال دیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے پُر اُمید

معاون خصوصی نے کہا کہ یہ تنازع بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسمبلی میں گنتی غلط ہوئی، اس کیمرے کے دور میں گنتی غلط ہو سکتی ہے حالانکہ مانتے ہیں کہ ان کے بہت سے لوگ نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اپوزیشن والے خود کو اسٹیک ہولڈرز کہتے ہیں حالانکہ یہ سارے نیب کے ملزمان ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں قتل کے قوانین کے حوالے سے جیل میں جاکر تمام قاتلوں سے مذاکرات کرنے چاہئیں، اس میں اسٹیک ہولڈرز نیب، پارلیمان، عدلیہ ہو سکتی ہے وہ اراکین پارلیمنٹ جن پر الزام ہے ان کو اسٹیک ہولڈرز میں نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ایک اور تکلیف 19ویں آئینی ترمیم سے ہے حالانکہ یہ خود ان کے دور میں منظور کی گئی لیکن اب انہیں تکلیف یہ ہے کہ ان کے مرضی کے جج نہیں لگ رہے اور عدلیہ آزاد ہے، اس لیے اپوزیشن سے عرض ہے کہ آزاد عدلیہ پر حملے کرنے سے قبل سوچ لیجیے گا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے آل پارٹیز کانفرنس سے ممکنہ خطاب کے حوالے سے شبلی فراز نے کہا کہ سنا ہے کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، ایک شخص عدالت سے سزا یافتہ مجرم ہے اور بیماری کا بہانہ بنا کر چلا گیا اور وہاں سے وہ خطاب کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے سیاست کریں گے لیکن قانون کے سامنے پیش ہونے کے لیے وہ بیمار ہیں لہٰذا وہ عوام کو بے وقوف نہ سمجھیں۔