اسپیکر قومی اسمبلی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے پُر اُمید

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2020

ای میل

اسد قیصر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ بلز پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا—فائل فوٹو: اے پی پی
اسد قیصر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ بلز پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا—فائل فوٹو: اے پی پی

ٹیکسلا: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بلز کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے قبل تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس قانون سازی پر آن بورڈ لے گی۔

'واہ' میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ بلز پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا جو ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اسے بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے مالیاتی جرائم کی روک تھام کے 27 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف بلز کی منظوری کیلئے آئندہ ہفتے قومی اسمبلی، سینیٹ کا اجلاس طلب

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اجلاس بلانے سے قبل پارلیمان میں متعدد جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی اور اُمید ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔

اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سیاست یا پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترامیم حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ رجیم کو مضبوط بنانے کے ٹھوس عزم کو ظاہر کریں گی۔

دوحہ میں جاری افغان امن عمل کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے پاکستان نے ایک اصولی مؤقف اپنایا ہوا ہے جو یہ ہے کہ 'افغانوں کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے'۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف بلز منظور کرانے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا منصوبہ

خیال رہے کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی منظوری کے لیے اپوزیشن کے ساتھ پہلے بھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے مشاورت کی تھی۔

جس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کی متعدد ترامیم کی تجاویز قبول کرنے کے بعد ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی شرائط سے متعلق مجموعی طور پر 7 بلز قومی اسمبلی سے منظور ہوچکے تھے۔

تاہم 25 اگست کو سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے منظور شدہ 2 اہم بلوں کو مسترد کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اسے اپوزیشن کی جانب سے ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا جبکہ وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کی مجوزہ ترامیم کو این آر او مانگنے سے تشبیہہ دی تھی۔

18 ویں ترمیم کے تحت اگر پارلیمنٹ کے ایک ایوان سے منظور شدہ بل کو دوسرے نے مسترد کردیا ہو تو یہ اس وقت ہی قانون بن سکتا ہے جب وہ دونوں ایوانوں کی مشترکہ نشست سے منظور ہوجائے۔