مسئلہ کشمیر و فلسطین اقوام متحدہ میں سب سے نمایاں دو تنازعات ہیں، وزیر خارجہ

22 ستمبر 2020

ای میل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ویڈیو پیغام دے رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شا
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ویڈیو پیغام دے رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے نمایاں دو تنازعات ہیں جو حل طلب ہیں۔

اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا نقطہ نظر ہے کہ آج اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اور ہمیں ان اصولوں اور مقاصد کو دیکھنا ہو گا جن کے باعث اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امن و استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جو اس ادارے کی بنیاد بنی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج اگر ہم نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے تنازعات نظر آئیں گے جو حل طلب ہیں اور ان میں دو تنازعات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں، ایک مسئلہ کشمیر اور دوسرا مسئلہ فلسطین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے عوام حق خود ارادیت کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے لوگوں کو تاریخی اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے اپنے خطاب میں جہاں اقوام متحدہ کی کامیابیوں کا ذکر کیا وہاں ان کی تنازعات کی طرف توجہ دلائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ ہو یا سلامتی کونسل، انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر ان تنازعات کے حل کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیر الجہتی اور اقوام متحدہ کی ناگزیر حیثیت پر یقین رکھتا ہے، پاکستان سیکیورٹی کونسل میں 7 مرتبہ رہ چکا ہے، ایکوسوک کی پانچ مرتبہ سربرابی کر چکا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور جی 77 کی قیادت بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیکیورٹی کونسل کی اصلاحات کے عمل میں متحرک رکن رہے ہیں اور پاکستان 26 ممالک میں 47 مشن میں 2لاکھ سے زائد دستے بھیج چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے کووڈ19 میں عالمی سطح پر ببے انتہا تعاون دیکھا لیکن یہ انسانیت کو متحد کرنے میں ناکام رہا۔

اہوں نے خبردار کیا کہ وہ طاقتیں جو دوسری جنگ عظیم، نسل پرستی اور فاشزم کا سبب بنیں وہ زینوفوبیا اور اسلاموفوبیا کی شکل میں دوبارہ کھڑی ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جب پاکستان نے بھارت کی 32 سالہ بالادستی کا خاتمہ کیا

عموماً عالمی مسائل پر تقسیم ممالک نے اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر متفقہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی اور انتہا پسندی جیسے عالمی چیلنجز کی روشنی میں تمام ملکوں کے ایک ساتھ ملنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دنیا بڑھتی ہوئی عدم مساوات، غربت، بھوک، مسلح تنازعات، دہشت گردی، عدم تحفظ، آب و ہوا کی تبدیلی اور وبائی امراض سے دوچار ہے، غریب اور ترقی پذیر ممالک پیچھے رہ گئے ہیں اور نوآبادیات سے دستبرداری کا عمل مکمل نہیں ہوا اور لوگ پناہ کے لیے خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کئی سالوں سے اقوام متحدہ متحدہ کے فورم پر کشمیر سمیت مختلف مسائل اٹھاتا رہا ہے ، گزشتہ سال بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے یہ مسئلہ چین بھی تین مرتبہ سیکیورٹی کونسل میں اٹھا چکا ہے، وزیر اعظم عمران خان گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت متعدد فورمز پر اس مسئلے کو اٹھا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: سرحدی کشیدگی: بھارت اور چین کے فوجی کمانڈرز کی دوبارہ ملاقات

پاکستان نے نشاندہی کی تھی کہ کشمیر کو اس کے خصوصی درجے سے محروم کرنا اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کشمیر کے رہائشیوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔

اس کے برعکس بھارت کا موقف ہے کہ خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم ہو گئی ہے لہٰذا اسے سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے سے ہٹایا جائے۔