غلطی کس کی؟ سیاسی جماعتوں کی یا اسٹیبلشمنٹ کی؟

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں لندن سے نواز شریف نے ایسا کچھ نہیں کہا جو اس سے پہلے وہ نہ کہہ چکے ہوں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان سے انتشار کی شکار اپوزیشن جماعتوں کو کم از کم کچھ وقت کے لیے قوت ضرور پخش دی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سابق وزیرِاعظم نے طویل عرصے بعد خاموشی توڑ کر ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو دوبارہ زندہ کردیا، جسے ان کی پارٹی نے پس پشت ڈال دیا تھا۔

طویل عرصے سے ہدف وزیرِاعظم عمران خان ہی رہے اور مبیّنہ طور پر ان کے حمایتیوں کو کچھ نہیں کہا جارہا تھا، لیکن اب نشانہ بدل چکا ہے اور براہِ راست بات سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تبدیلی بلاوجہ نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ احتساب کے نام پر حزبِ اختلاف کے رہنماؤں پر مستقل قانونی کارروائیاں ہیں جس نے انہیں پریشان کردیا ہے۔

ویسے تو گزشتہ 2 سالوں میں متعدد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوچکا ہے، لیکن حال ہی میں حزبِ اختلاف کی ایک درجن سے زائد جماعتوں کی بیٹھک زیادہ منظم لگی۔ پھر اس کانفرنس کی وجہ سے ہی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے بینر تلے اتحاد کو باضابطہ شکل بھی دی گئی۔ کانفرنس کے ذریعے منظور شدہ 26 نکاتی قرارداد میں عوامی تحریک کے ذریعے 'سلیکٹڈ وزیرِاعظم' کو باہر کرنے اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مضبوط وعدوں اور ارادوں کے باوجود عوام کو متحرک کرنے سے متعلق پی ڈی ایم کی اہلیت پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت عملی طور پر ہر محاذ پر اپنی ناکامی کی وجہ سے ایک کمزور سیاسی وکٹ پر کھڑی ہے۔ اس نے اچھی حکمرانی کو قائم کرنے سے متعلق جتنے بھی وعدے اور دعوے کیے تھے اس کو پورا کرنے میں وہ مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

ویسے تو پاکستان میں ایسی کم ہی مثالیں ہیں کہ حکومتیں عوامی احتجاج کی بنیاد پر گری ہوں، خاص طور پر اس وقت صورتحال مزید مشکل ہوجاتی ہے جب انتظامیہ کے پیچھے سیکیورٹی ایجنسی کھڑی ہوجائے۔ یہ مشترکہ اصول ہے جسے چیلنج کیا جارہا ہے لیکن اتحادی جماعتیں کچھ واضح وجوہات کی بناء پر اسمبلیوں سے استعفی دینے کا اپنا مؤثر ترین کارڈ کھیلنے کو تیار نہیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اقتدار کے دائرے میں اپنے قدموں کو کھونا نہیں چاہیں گی۔ مزید یہ کہ انہیں یہ بھی یقین نہیں ہے کہ آیا ان کے ممبران استعفی دینے کے کسی فیصلے کی تعمیل کریں گے یا نہیں۔ اپوزیشن اتحاد جو اس وقت واحد کام کرسکتا ہے وہ عوامی آگاہی کے ذریعے عوام کو براہِ راست متاثر کرنے والے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

لیکن یہاں لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے ان کی صلاحیت پر بھی سوال کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اصل میدانِ جنگ پنجاب ہے جو (ن) لیگ کا گڑھ بھی ہے مگر جب نواز شریف کو جیل بھیج دیا گیا تو یہ پارٹی اس وقت بھی اپنے حامیوں کو سامنے لانے میں ناکام رہی تھی۔

پھر ابھی تو یہ بھی غیر یقینی ہے کہ پوری جماعت نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے پیچھے کھڑی ہوگی یا نہیں، کیونکہ ماضی میں تو پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا، اور اب بھی خیال یہی ہے کہ وہ اس بار بھی اس بیانیے کو قبول نہیں کریں گے۔

بہت سے لوگ ’ریاست سے بالاتر ریاست‘ سے متعلق نواز شریف نے جو تقریر کی تھی اس سے اختلاف نہیں کریں گے، لیکن یہ تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بہت واضح حقیقت رہی ہے۔ کمزور جمہوری اداروں کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کا سایہ ملک کے سیاسی میدان میں کافی حد تک بڑھ جاتا ہے تاہم سیاسی جماعتیں بھی اس پوری صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔

اے پی سی میں موجود زیادہ تر سیاسی جماعتوں کو جب موقع ملا تو وہ اپنے مفادات کی خاطر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوچکی ہیں۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ سینیٹ انتخابات میں دھاندلی کے لیے کس طرح 2018ء میں بلوچستان میں ان کی پارٹی کی حکومت ختم کی گئی۔ انہوں نے اب اس کا ذمہ دار ایک ریٹائرڈ آرمی افسر کو ٹھہرایا مگر اس پارٹی کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے اس طاقتور کھیل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ہوسکتا ہے کہ لوگ دسمبر 2011ء میں اس وقت کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے قومی اسمبلی میں کیے گئے خطاب کو نہ بھولے ہوں جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ’ریاست کے اندر ریاست‘ بننے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ یہ کسی بھی موجودہ وزیرِاعظم کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت ترین بیان تھا۔ لیکن جب ان پر توہینِ عدالت کا مقدمہ چلایا گیا تو مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتیں ان کے استعفے کے مطالبے میں شامل ہوگئیں۔

مزید پڑھیے: کیا کل جماعتی کانفرنس کا اصل ہدف شہباز شریف تھے؟

اتوار کو ہونے والی اے پی سی نے 2006ء کی میثاقِ جمہوریت کا دوبارہ مطالبہ کیا جس پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے دستخط کیے تھے مگر دونوں جماعتوں نے اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے اسے ناکام بنا دیا تھا۔ یہ ملک میں جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اچھا قدم تھا لیکن یہ کبھی کام نہیں آیا کیونکہ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بلوچستان والا معاملہ کوئی واحد معاملہ نہیں تھا۔

اب بھی جب یہ جماعتیں کسی ریاست سے بالاتر ایک ریاست کو نظر انداز کررہی ہیں تو مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بند کمرے کے رابطوں پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں شہباز شریف نے مبیّنہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی تصدیق کی۔

ممکن ہے کہ اس مفاہمت نے کام نہ کیا ہو، لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ جب بھی سیاسی قائدین کو اپنا فائدہ نظر آتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچاتے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ سیاسی قوتوں کے مابین مستقل مخالفت اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

حالیہ اے پی سی سے صرف چند روز قبل، پی ٹی آئی کے وزراء کے ساتھ اپوزیشن کے اعلی رہنماؤں نے آرمی چیف کی طرف سے بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں شرکت کی۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اہم قومی امور پر تبادلہ خیال کے لیے سیاسی رہنماؤں کو طلب کیا گیا تھا۔ حال ہی میں ہونے والا اجلاس گلگت بلتستان کے مستقبل اور حساس خطوں میں ہونے والے انتخابات پر بات کے لیے بلایا گیا تھا۔

یقیناً اس معاملے میں کوئی سیکیورٹی عنصر موجود ہے لیکن یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی معاملہ ہے اور اسے سیاسی فورم پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری وزیرِاعظم پر عائد ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ کو سونپ دی ہے۔ وزیرِاعظم اپوزیشن سے مذاکرات کرنے کے لیے انکار کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ اہم قومی امور کے معاملے پر بھی بات کرنے کے منافی ہیں لہٰذا یہ ذمہ داری بھی اسٹیبلشمنٹ نے لے لی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن نے بھی اس کردار کو ثالثی کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ اس لیے یہ ریاست کے اندر کوئی فوجی نظام یا ان کی ریاست میں ریاست نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ خود ایک ریاست ہے۔

درحقیقت قومی بالادستی قائم کرنے کی ضرورت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس مقصد کو کیسے حاصل کیا جائے گا؟

مضبوط جمہوری ثقافت اور اخلاقیات کے بغیر یہ یقینی طور پر ناممکن ہے کیونکہ ببیشتر سیاسی جماعتوں میں اس کا فقدان ہے۔ جمہوریت کا مطلب صرف منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد نہیں ہے بلکہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بھی ہے۔ تاہم قومی بالادستی کے لیے لڑنے کا وعدہ کرتے ہوئے اپوزیشن اتحادیوں کو خود کو بھی کچھ ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔


یہ مضمون 23 ستمبر کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔