وزیراعظم کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کریں گے

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا — فائل/فوٹو: اے ایف پی
وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا — فائل/فوٹو: اے ایف پی

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کورونا وائرس سمیت اہم معاملات پر خطاب کریں گے جو آن لائن ہوگا۔

ترجمان دفتر خاجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں سالانہ اجلاس 22 ستمبر کو شروع ہوچکا ہے اور 29 ستمبر تک جاری رہے اور کورونا کی وجہ سے پہلی مرتبہ یہ اجلاس آن لائن ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس کا موضوع 'مستقبل جو ہم چاہتے ہیں، اقوام متحدہ کی ضرورت: کووڈ-19 کے خلاف مؤثر مشترکہ اقدامات کو یقینی بنایا' ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی برادری رقوم کی غیر قانونی منتقلی روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے، وزیر اعظم

ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دونوں کا خطاب شیڈول تھا اور اجلاس میں دونوں آن لائن شرکت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کل (25 ستمبر) کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کورونا کی وبا سمیت اہم معاملات پر خطاب کریں گے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بات کی ہے، اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے سارک کونسل برائے وزرائے خارجہ میں بھی آن لائن شرکت کی، جس میں سارک ممالک کی ترقی کے لیے تعاون کے فروغ پر بات کی۔

'کشمیر میں بھارت کا غیر قانونی محاصرہ'

ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے کشمیر کی صورت حال پر سارک ممالک کی توجہ مبذول کرائی کہ مقبوضہ کشمیر میں اب بھی غیر قانونی محاصرہ جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 18 جولائی کو تین کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو ماہ گزر جانے کے بعد بھارتی فوج نے اپنے بیان میں 3 کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارتی فوج کا بیان مظالم اور جرائم کا اعتراف ہے، بھارتی فوج کے سنگین جنگی جرائم کی جوڈیشل انکوائری کے تحت تحقیقات ہونی چاہیے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کا خاتمہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے او آئی سی کے مذمتی بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کو بھی یکسر مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو سارک اجلاس میں 'مصنوعی رکاوٹوں' کے خاتمے کی اُمید

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا کوئی غیر قانونی قدم قابل قبول نہیں، بھارت کشمیریوں سے حق رائے دہی چھیننا چاہتا ہے، جون سے اب تک بھارت نے ہزاروں جعلی ڈومیسائل جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر کے سنگین حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے سیز فائر پر محاذ گرم رکھے ہوئے ہے اور رواں برس اب تک 2300 سے زائد سیز فائر خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقلیتی رکن اور پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ رمیشن کمار نے وزیر خارجہ شاہ محمود سے ملاقات میں بھارت جانے والے ہندوؤں کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کی جانب سے جودھپور میں پاکستانی ہندو خاندان کے قتل پر احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ بھارت نے واویلا کیا کہ پاکستانی ہندو بھارت میں ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ اب صورت حال مختلف ہوئی اور پاکستانی ہندوؤں کو قتل کیا گیا، مرنے والے کی بیٹی شریمتی مکھی اس حوالے سے کام کر رہی ہیں۔

بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کی پراسرار ہلاکت پر انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کی تحقیقات شفاف طریقے سے ہونی چاہیے۔

'بھارت میں اقلیتوں سے متعصب رویہ'

انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری صرف اور صرف سکھوں کے مذہبی جذبات کے پیشِ نظر کھولی گئی، تاہم کووڈ-19 کی وجہ سے کچھ عرصہ بند رہا اور اب ایس او پیز کے تحت دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک کرتارپور نہیں کھولا، بھارتی رویہ متعصب ہے کیونکہ بھارت میں دیگر تفریحی مقامات کھولے جا رہے ہیں مگر کرتارپور بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ دنیا کے سامنے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر و فلسطین اقوام متحدہ میں سب سے نمایاں دو تنازعات ہیں، وزیر خارجہ

ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کلسٹر اسلحہ اور پیلٹ گنز کا استعمال غیر قانونی اور بین الاقوامی کنونشنز کے منافی ہے، اس قسم کے اسلحے کا استعمال ممنوع اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے پاک-افغان سرحد سے متعلق اپنی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشوار گزار سرحد ہے، اسی لیے سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومت پاکستان باڑ لگانے کا عمل جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بارہا باور کرایا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا دورہ طے شدہ ہے جس میں افغان امن عمل پر بات ہوگی، پاکستان واحد ملک جو کہتا رہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔