نیوزی لینڈ نے پاکستان، ویسٹ انڈیز کے کرکٹ دوروں کی منظوری دے دی

26 ستمبر 2020

ای میل

ٹیمیں پہلے آک لینڈ پھر وہاں سے چارٹر فلائٹ کے ذریعے کرائسٹ چرچ پہنچیں گی، ڈیوڈ وائٹ — فائل فوٹو / اے ایف پی
ٹیمیں پہلے آک لینڈ پھر وہاں سے چارٹر فلائٹ کے ذریعے کرائسٹ چرچ پہنچیں گی، ڈیوڈ وائٹ — فائل فوٹو / اے ایف پی

نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ حکومت نے قرنطینہ انتظامات کی منظوری دے دی جس کے بعد آنے والے مہینوں میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں دورہ کریں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ ان دوروں سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے کھیل کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ہماری مالی لائف لائن ہے۔'

ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ 'بین الاقوامی کرکٹ سے پورے نیوزی لینڈ میں کرکٹ کے کھیل کو مالی مدد ملتی ہے، اس لیے یہ ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔'

انہوں نے کہا کہ ٹیمیں پہلے آک لینڈ پھر وہاں سے چارٹر فلائٹ کے ذریعے کرائسٹ چرچ پہنچیں گی، جہاں وہ قرنطینہ میں رہنے کے دوران لنکَن یونیورسٹی میں نیوزلینڈ کرکٹ کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں پریکٹس کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بارش کے سبب تیسرا ٹیسٹ میچ ڈرا، سیریز انگلینڈ کے نام

ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑیوں کو صحت اور ٹیسٹنگ کے حوالے سے حکومت کے طے شدہ پروٹوکولز پر عمل کرنا ہوگا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ 'یہ عمل سستا نہیں ہوگا، ہمیں اخراجات برداشت کرنے ہوں گے لیکن ہم اس پر خوش ہیں اور پوری طرح سمجھتے ہیں کہ میزبان ہی اخراجات برداشت کرتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں حکومت کی رہنمائی حاصل ہو گی، وہ جو بھی مطالبہ کریں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔'

نیوزی لینڈ کے وزیر کھیل گرانٹ رابرٹسَن نے کہا کہ دورہ کرنے والی ٹیموں کے لیے قرنطینہ کے انتظامات آسان نہیں ہوں گے، تاہم بین الاقوامی کھیل کے دوبارہ نیوزی لینڈ میں انعقاد کے لیے یہ کوشش سودمند ہوگی۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'نیوزی لینڈ کے باقی لوگوں کی طرح میں بھی ملک میں بین الاقوامی کھیل کی بحالی کی طرف دیکھ رہا ہوں۔'

مزید پڑھیں: انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان کا دورہ 'ضرور' کرنا چاہیے، چیئرمین ای سی بی

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ثقافت کا بڑا حصہ ہے جس سے ہمیں بطور قوم یکجا ہونے میں مدد ملتی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا کی وبا کے باعث بین الاقوامی کرکٹ میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے جون میں ویسٹ انڈیز نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔

بعد ازاں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان دوسری ٹیم تھی۔

وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام میچز بند دروازوں کے پیچھے خالی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تھے۔