کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں ہوگا، پاکستان کا بھارتی بیان پر جواب

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے نمائندہ ذوالقرنین چیمہ - فوٹو:اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے نمائندہ ذوالقرنین چیمہ - فوٹو:اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد بھارتی ردعمل پر پاکستان نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہ تھا اور نہ ہی ہوگا جبکہ نئی دہلی کے پاس 'فوجی قبضے' کے علاوہ اس خطے پر کچھ بھی دعویٰ کرنے کے لیے نہیں ہے۔

فورم میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ذوالقرنین چینہ کا کہنا تھا کہ 'جموں و کشمیر میں بھارت کا فوجی قبضے کے علاوہ کوئی دوسرا دعویٰ نہیں، وہ ناپسندیدہ اور مظلوم لوگوں پر اپنا قبضہ مسلط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہے، یہ بات جموں و کشمیر کے عوام سے پوچھ لیں وہی آپ کو بتائیں گے، جموں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، نہ وہ پہلے کبھی تھا اور نہ ہی ہوگا'۔

قبل ازیں ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے وزیر اعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اسے 'جھوٹ، غلط فہمیوں اور جنگی جنون سے بھرا ہوا' کہا تھا، مزید یہ کہ بھارتی مندوب نے وزیراعظم کی تقریر نشر کیے جانے کے وقت اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

بھارت کے اس بیان کی تردید میں پاکستانی نمائندے نے کہا کہ بھارتی جواب 'اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک اور شرمناک کوشش تھی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تاہم بھارت اپنے جرائم کے احتساب سے نہیں بچ سکے گا، وزیر اعظم نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بھارت پر روشنی ڈالی جس کی تعریف جموں اور کشمیر کی زمین اور وسائل پر اس کے ظالمانہ اور وحشیانہ قبضے سے کی گئی ہے'۔

مزید پڑھیں: بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

انہوں نے کہا کہ 'ریاست جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قرار دادوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے'۔

پاکستانی نمائندے کا کہنا تھا کہ 'ریاست کا حتمی تصفیہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقوں کے مطابق کیا جائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'مقامی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کو استعمال کرنا چاہتی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کشمیریوں کو جائز حق ہے کہ وہ اپنے اختیار میں ہر طرح سے قبضے کے خلاف مزاحمت کریں، اس جدوجہد کی تردید نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اسے دہشت گردی قرار دیا جاسکتا ہے، یہ قابض ریاست ہے جو مقبوضہ عوام کے خلاف دہشت گردی کی قصوروار ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'تمام ظالموں کی طرح بھارت کو بھی یقین ہے کہ وہ ظلم و ستم کے ذریعے کشمیریوں کی جائز مزاحمت کو ختم کر سکتا ہے، اس کی کتاب میں دباؤ کا متبادل اور زیادہ دباؤ ہے لیکن ماضی کے تمام نوآبادیاتی جابروں کی طرح بھارت بھی اپنے قبضے کی حکمت عملی میں ناکام ہو جائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک دن کشمیر آزاد ہوگا، یہ نہ صرف تاریخ کا سبق ہے بلکہ یہ انصاف کا تقاضا بھی ہے'۔

ذوالقرنین چینہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستانی عوام، عالم اسلام اور تمام آزادی پسند لوگ مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں'۔

اقلیتوں کے ساتھ ظلم

جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے نے بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نازیوں کو اکثر جھوٹ بولنے اور جھوٹے پروپیگنڈے کرنے کے فن میں مہارت رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے تاہم بھارتی نمائندے کی بات سن کر یہاں تک کہ نازی بھی تسلیم کرلیں گے کہ یہ تاج بی جے پی-آر ایس ایس کے سر پر منتقل ہوچکا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی حد سے زیادہ پامالی، ہندوتوا نظریہ کا جان بوجھ کر فروغ، پاکستان سمیت بھارت کا دیگر تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف توسیعی منصوبہ اور علاقائی بدمعاش کی حیثیت سے کام کرنا، یہ تمام معروضی حقائق ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'جیسے جیسے ایک فسطائی ریاست کی طرف بھارت کا نظریہ تیزی پکڑ رہا ہے، گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بی جے پی-آر ایس ایس کی پالیسیوں کے بارے میں کی گئی پیش گوئی کی تصدیق ہورہی ہے'۔

ویڈیو دیکھیں: عمران خان کے خطاب کے دوران بھارتی مندوب اٹھ کر چلے گئے

بھارتی حکومت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں ہونے والے فسادات کی مثال دیتے ہوئے ذوالقرنین چینہ نے کہا کہ 'غداروں کو سبق سکھانے کے لیے ہندو شدت پسندوں نے مسلمانوں کا ایک منظم قتل عام کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان گنت مسلمان مارے گئے، ان کے گھر جلائے گئے، ان کی املاک کو لوٹا گیا، ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی ہوئی، یہ سب بھارتی ریاست کی ملی بھگت سے ہوا'۔

انہوں نے کہا کہ 'دہلی کی دیوار اور گلیوں نے نہ صرف ہندوتوا نظریے کو بے نقاب کیا بلکہ انہوں نے 2002 میں گجرات واقعے سے لے کر 2020 میں دہلی واقعے تک ہندوتوا کے اس نظریے کی عکاسی کی جس سے مسلمان خطرے سے دوچار ہیں'۔

پاکستانی نمائندے کا کہنا تھا کہ 'یہ کوئی راز نہیں ہے کہ گجرات کے قتل عام کے پیچھے بھی وہی لوگ تھے جو دہلی واقعے کے ماسٹر مائنڈ تھے'۔

انہوں نے کہا کہ ان جرائم کے مرتکب افراد استثنیٰ سے مستفید ہوتے رہیں گے جبکہ اقتدار پر گرفت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 'مزید مسلمانوں کا خون بہانے' کی ترغیب دی جائے گی۔

ذوالقرنین چینہ کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک المیہ ہے کہ بھارت میں ریاستی ادارے بھی اس بدنما ہندوتوا ایجنڈے کے رضاکار بن چکے ہیں'۔

بھارت میں ریاست کی سرپرستی میں دہشتگردی

پاکستانی نمائندے نے بھارتی ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس ملک کو 'دہشت گردی کی ماں' قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت نے دہشت گردی کو اپنے ہر پڑوسی کے خلاف، اپنے عوام کے خلاف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے بے گناہ لوگوں کے خلاف استعمال کیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'سرحد پار سے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کو منظم کرنے، مالی معاونت، سامان و مدد فراہم کرنے میں بھارت سرگرم ہے، اس نے ہماری مغربی سرحد کے پار واقع منظم جرائم پیشہ گروہوں کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کو انجام دے سکے، خاص طور پر مغربی اور جنوبی خطے کی ترقی کو روکنے کے لیے'۔

انہوں نے کہا کہ جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں گرفتار بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو منظم کرنے اور معاونت فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ذوالقرنین چینہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور ہمارے پورے خطے کو ہندوتوا دہشت گردی کا سامنا ہے'، بی جے پی-آر ایس ایس کے انتہا پسند، ہندو مذہب کے زیر اثر ایک متفقہ برصغیر کے لیے ان کی خواہش کی نمائندگی کرنے والے 'گریٹر انڈیا' کی حمایت کرتے ہیں جہاں اقلیتیں یا تو ہندو مذہب میں تبدیل ہوجائیں گی یا دوسرے طبقے کے شہری بن کر رہیں گی۔

مزید پڑھیں: بھارت میں مسلمان سمیت تمام اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، وزیر خارجہ

پاکستانی نمائندے کا کہنا تھا کہ 'غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگوں کے خلاف بدترین ریاستی دہشت گردی کے لیے بھی بھارتی حکومت ذمہ دار ہے، 7 دہائیوں پر محیط سفاک قبضے میں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، (تاہم) ایک بھی بھارتی فوجی کو انسانیت کے خلاف جرائم اور ان مظالم کی سزا نہیں ہوئی'۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی خواہشات کے باوجود عالمی برادری خود کو دہشت گردی کا شکار بنا کر پیش کرنے کے بھارتی دھوکے کو واضح طور پر دیکھ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے اور اسے شکست دینی ہے، اس نفرت اور عزائم کی دہشت گردی کا مقابلہ کیے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اس وقت بھارت میں فسطائی نظریات سے جنم لے رہا ہے'۔