بولی وڈ کا ’مافیا گینگ’ مجھے قتل کردے گا، پائل گھوش

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

اداکارہ کو نوراگ کشیپ کے خلاف 'ریپ' کیس میں نام لیے جانے پر ریچا چڈھا کے ہتک عزت کے دعوے کا سامنا ہے— فوٹو: بولی وڈ ہنگاما
اداکارہ کو نوراگ کشیپ کے خلاف 'ریپ' کیس میں نام لیے جانے پر ریچا چڈھا کے ہتک عزت کے دعوے کا سامنا ہے— فوٹو: بولی وڈ ہنگاما

فلم ساز انوراگ کشیپ کے خلاف 'ریپ' کیس میں نام لیے جانے پر بولی وڈ اداکارہ ریچا چڈھا کی جانب سے دائر ہرجانے کے مقدمے کا سامنا کرنے والی اداکارہ پائل گھوش نے اب ایک اور دعویٰ کیا ہے کہ مافیا گینگ انہیں قتل کردے گا۔

ریچا چڈھا نے پائل گھوش پر ’ریپ‘ واقعے کو بیان کرنے میں اپنا نام لیے جانے پر ایک کروڑ 10 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

ہرجانے کے مقدمے میں پائل گھوش سمیت ایک نیوز چینل اور نام نہاد فلمی ناقد آر کمال کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: عدالت میں معافی مانگنے کی رضامندی کے بعد پائل گھوش کا ریچا سے معافی مانگنے سے انکار

جس پر پائل گھوش نے بومبے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ اپنے بیان سے دستبردار ہونے اور معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم کچھ دیر بعد اداکارہ نے ٹوئٹس کیے کہ وہ کسی سے معافی نہیں مانگیں گی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اب اداکارہ پائل گھوش نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بولی وڈ کا ’مافیا گینگ’ انہیں قتل کردے گا۔

پائل گھوش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ وہ پورا گینگ انہیں دبانے اور ان کی تذلیل کی کوشش کررہا ہے۔

چند روز قبل اداکارہ ریچا چڈھا نے ٹوئٹرپر نیشنل کمیشن فار ویمن کی موجودہ چیئرمین ریکھا شرما کو ٹوئٹ کیا کہ مجھے اب تک این سی ڈبلیو میں 20 ستمبر کو درج کروائی گئی شکایت کا کوئی جواب نہیں ملا جو فلم ساز کے خلاف کیس میں جھوٹ بول کر میرا نام لینے پر پائل گھوش کے خلاف درج کروائی تھی۔

ریچا چڈھا نے مزید لکھا تھا کہ اس معاملے پر آپ کے ٹوئٹس کو دیکھا جائے تو میرے خیال سے میری شکایت ان سے پہلے درج ہوئی تھی۔

مذکورہ ٹوئٹ پر ردعمل میں پائل گھوش نے نہ صرف ریکھا شرما بلکہ بھارتی وزیراعظم کو بھی ٹیگ کیا اور لکھا کہ ریچا چڈھا جب تک سچ سامنے نہیں آجاتا آپ کیسے جانتی ہیں کہ میں نے جھوٹ سے کام لیتے ہوئے آپ کا نام لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ریپ‘ واقعے میں نام لینے پر ریچا چڈھا نے پائل گھوش پر مقدمہ کردیا

پائل گھوش نے سوال کیا کہ آپ انوراگ کشیپ سے متعلق اتنی پریقین کیسے ہیں، انہوں نے مزید لکھا کہ ریکھا شرما دیکھیں کہ یہ پورا گینگ مجھے دبانے اور میری تذلیل کی کوشش کررہا ہے۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ یہ مافیا گینگ مجھے قتل کردے گا اور میری موت کو خودکشی یا کچھ اور قرار دے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 20 ستمبر کو پائل گھوش نے ایک بھارتی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ریچا چڈھا، ہما قریشی اور ماہی گل کے نام لیے تھے۔

پائل گھوش نے مذکورہ انٹرویو میں فلم ساز انوراگ کشیپ کی جانب سے خود کو ریپ کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ کس طرح فلم ساز نے انہیں 6 سال قبل 2014 میں استحصال کا نشانہ بنایا۔

پائل گھوش کے مطابق انوراگ کشیپ انہیں اپنے گھر کے ایک کمرے میں لے گئے، جہاں داخل ہوتے ہی فلم ساز نے اپنے کپڑے اتار کر ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔

پائل گھوش نے انوراگ کشیپ پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کا واقعہ بیان کرنے دوران ریچا کا نام لیا تھا—فائل فوٹو: انڈیا ٹوڈے
پائل گھوش نے انوراگ کشیپ پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کا واقعہ بیان کرنے دوران ریچا کا نام لیا تھا—فائل فوٹو: انڈیا ٹوڈے

اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے انوراگ کشیپ کو کہا کہ آج وہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہیں تاہم فلم ساز نے ان کی بات نہ مانی اور وہ ان کے قریب سے قریب تر آگئے، لیکن انہوں نے مسلسل احتجاج کیا کہ وہ کسی بھی کام کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پائل گھوش کے مطابق ان کی مسلسل منتوں کے بعد انوراگ کشیپ مان گئے تاہم ساتھ ہی انہوں نے اداکارہ کو وارننگ دی کہ دوسری مرتبہ وہ ذہنی طور پر تیار ہوکر آئیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے انوراگ کشیپ سے دوسری بار تیار ہونے کا وعدہ کرکے اجازت لی اور پھر کبھی ان کے پاس نہیں گئیں اور نہ ہی ان کے موبائل پیغامات کا جواب دیا۔

مزید پڑھیں: ’ریپ‘ کیس میں 8 گھنٹے تک تفتیش، انوراگ کشیپ نے تمام الزامات مسترد کردیے

اداکارہ نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے پاس انوراگ کشیپ کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ہے تاہم فلم ساز نے ان کا استحصال کیا تھا۔

پائل گھوش نے دعویٰ کیا تھا کہ انوراگ کشیپ نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران بتایا تھا کہ ریچا چڈھا، ہما قریشی اور ماہی گل جیسی اداکارائیں ایک فون کال پر تیار بیٹھیں رہتی ہیں۔

اگرچہ ابتدائی طور پر پائل گھوش نے انوراگ کشیپ پر ریپ کرنے کا الزام نہیں لگایا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نے فلم ساز کے خلاف ریپ کا مقدمہ دائر کروادیا، جس کی ممبئی پولیس تحقیق کر رہی ہے۔

مذکورہ کیس میں انوراگ کشیپ نے ممبئی پولیس کو بیان بھی ریکارڈ کروادیا ہے جب کہ انہوں نے پولیس کو ایسے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ واقعے والے دن وہ ملک میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ وہ شوٹنگ کے سلسلے میں سری لنکا میں موجود تھے۔