سوشل میڈیا ایپس پر پابندیوں کے باعث پاکستانی ڈیجیٹل انڈسٹری غیر یقینی صورتحال کا شکار

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

کامیابی کے باوجود مواد تخلیق کرنے والے اپنے ذرائع آمدن کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر پروجیکٹس کا رخ کررہے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
کامیابی کے باوجود مواد تخلیق کرنے والے اپنے ذرائع آمدن کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر پروجیکٹس کا رخ کررہے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں سوشل میڈیا ایپس پر پابندیوں کے رجحان کے باعث ڈیجیٹل انڈسٹری غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور مواد تخلیق کرنے والوں میں آمدن سے محروم ہونے کا خوف پیدا ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب جولائی میں رضا سموں کا اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا تو وہ نہ صرف 10 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز تک رسائی سے محروم ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے اپنی آمدن کا واحد ذریعہ بھی کھودیا تھا۔

لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سموں 2 یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، وہ ثقافت اور معاشرے پر مزاحیہ مواد کے لیے ’کھجلی فیملی’ چینل چلاتے ہیں جس کے 14 لاکھ اور سماجی کمنٹری کے لیے ’رضا سموں’ کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتے ہیں جس کے 5 لاکھ 27 ہزار فالوورز ہیں۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ یوٹیوب نے مکمل طور پر میری زندگی تبدیل کردی، جب میرا اکاؤنٹ ہیک ہوا تو گوگل نے میرے چینلز پر مونیٹائزیشن بند کردی تھی لہذا میں زیادہ دباؤ کا شکار ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

سموں کے لیے یوٹیوب چینلز چلانا ایک کل وقتی ملازمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے چینلز سے ہونے والی کمائی سے اپنا گھر چلارہا اور تمام اخراجات برداشت کررہا ہوں۔

خیال رہے کہ یوٹیوب نے مواد تخلیق کرنے والوں کو مونیٹائز کرنے کے لیے اہلیت کا ایک معیار طے کیا ہوا ہے، اس کی مونیٹائزیشن پالیسی کی تحت کسی بھی چینل کے گزشتہ 12 مہینوں میں ایک ہزار سے زاید سبسکرائبرز، 4 ہزار پبلک واچ آورز ہونا ضروری ہے۔

مونیٹائزیشن کے لیے چینل کا فعال رہنا بھی ضروری ہے، پالیسی میں کہا گیا ہے ’ ہم چینلز پر مونیٹائزیشن روک سکتے ہیں جنہوں نے 6 ماہ یا اس سے زائد عرصے تک کمیونٹی ٹیب پر کوئی ویڈیو اپلوڈ یا پوسٹ نہیں کی‘۔

رامش صفا نے ڈان کو بتایا کہ سب سے بڑا چیلنج مستقل اور مناسب رہنا ہے، یوٹیوب کی آمدن اس پر مبنی ہے کہ آپ کتنی جلدی اور مسلسل مواد اپلوڈ کرتے ہیں۔

وہ ’یار رامش‘ چینل چلاتے ہیں جو کراچی میں جوتوں (sneakers) کی مارکیٹ سے متعلق ہے۔

ان کی ویڈیوز جیسا کہ ’ 20 ہزار روپے کا جوتا ڈیڑھ روپے میں’ اور ’ لائٹ ہاؤس کراچی سستے جوتوں کی جگہ’ کو یوٹیوب پر بالترتیب 2 لاکھ 27 ہزار اور 5 لاکھ 80 ہزار مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

رامش صفا نے کہا کہ شروع میں تو بہت کچھ لگتا ہے، آپ کو کیمرے، گیئر، سیٹ اپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے، آہستہ آہستہ یہ اخراجات پھیل جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر آپ پیسہ کمانا شروع کرسکتے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری واپس لے سکتے ہیں۔

اوسطاً یوٹیوب پاکستان میں ایک ہزار ویوز پر 0.3 ڈالر سے ایک ڈالر ادا کرتی ہے۔

ٹیک وی لاگر بلال منیر نے کہا کہ شروعات بہت ہی سست ہے، برانڈز کو شراکت داری شروع کرنے میں 2 سے 3 سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں ایک دن میں 5 ویڈیوز اپ لوڈ کرتا ہوں تو صرف ایک کو اسپانسر کیے جانے کا امکان ہوتا ہے۔

بلال منیر نے اپنے یوٹیوب چینل ‘ویڈیو والی سرکار’ پر ایک ہزار 300 سے زائد ٹیکنالوجی ریویو ویڈیوز شیئر کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 13 لاکھ 60 ہزار سبسکرائبرز کے ساتھ میری ویڈیوز پر یومیہ 2 لاکھ اوسط ویوز آتے ہیں جو میں روزانہ کی بنیادوں پر اپلوڈ کرتا ہے۔

بلال منیر یوٹیوب سے ماہانہ 3 لاکھ سے 5 لاکھ روپے کماتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک پر مستقل پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے، جنت مرزا

ان کے مطابق کانٹینٹ کرئیٹر کی کامیابی کی کنجی اسپانسر شپس اور برانڈز کی تشہیر ہیں۔

بلال منیر نے کہا کہ یہ اس پر بھی منحصر ہے کہ آپ کس چیز کا انتخاب کرتے ہیں، ٹیک چینلز کو عام طور پر زیادہ اشتہارات اور پارٹنرشپس ملتی ہیں، برانڈز عام طور پر فی کس ویو کے ایک روپے ادا کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں فیس بک پلیٹ فارمز پر مواد کی مونیٹائزیشن کے لیے زیادہ چیلنجز ہیں۔

انسٹاگرام بلاگر، امبر جاوید کا ماننا ہے کہ پلیٹ فارمز کو پاکستان کو بطور بڑھتی ہوئی مارکیٹ تسلیم کرنا چاہیے اور مونیٹائزیشن فیچرز کو فعال کرنے چاہئیں۔

فیس بک کی پالیسی کے مطابق پاکستان میں ایڈمنز کے پیچز اور اردو زبان کے مواد مونیٹائزیشن کے اہل نہیں۔

امبر جاوید ’آ وارڈروب افیئر’ کے نام سے انسٹاگرام اکاؤنٹ چلاتی ہیں جس کے ایک لاکھ 46 ہزار فالوورز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عالمی انسٹاگرام بلاگرز کے مقابلے میں پاکستان میں فالوونگ زیادہ ہے لیکن انسٹاگرام کے زیادہ استعمال کے باوجود ہمیں پلیٹ فارم کی جانب سے ادائیگی نہیں کی جاتی۔

بڑھتا ہوا خوف

حال ہی میں ٹک ٹاک پر پابندی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے یوٹیوب کو اپنے پلیٹ فارم پر قابل اعتراض کو ہٹانے کو یقینی بنانے سے متعلق وارننگز کے بعد کانٹینٹ کریئٹر (مواد تخلیق کرنے والے) انڈسٹری غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

بلال منیر نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق حکومت کا انداز ابھی بہت ناقابل اعتماد ہے، اگر سوشل میڈیا موجود نہیں ہے تو آن لائن کاروبار بھی قائم نہیں رہ سکتے کیونکہ ایڈورٹائز کرنے کی جگہ نہیں ہوگی۔

سوشل میڈیا پر کامیابی کے باوجود مواد تخلیق کرنے والے اپنے ذرائع آمدن کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر پروجیکٹس کا رخ کررہے ہیں۔

امبر جاوید نے کہا کہ موجود ماحول میں پورٹ فولیو کو متنوع بنانا بہترین ہے کہ صرف ایک پلیٹ فارم/ پیج سے آمدن نہ ہو۔

انہوں نے حال ہی میں انسٹاگرام پر فالوونگ کی مدد سے مصنوعات پر مبنی کاروبار شروع کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں لائیو اسٹریمنگ ایپ 'بیگو' پر پابندی، ٹک ٹاک کو آخری نوٹس

تاریخ دہرائے جانے کے بڑھتے ہوئے خوف کے باعث ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے ابھی تک 2012 میں یوٹیوب پر لگنے والی پچھلی پابندی کے اثرات کا شکار ہیں۔

’پتنگیر’ کے نام سے انسٹاگرام اکاؤنٹ چلانے والی ٹریول اور لائف اسٹائل بلاگر امتل باجوہ کا کہنا ہے کہ وہ پابندی پاکستان میں ڈیجیٹل انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی، وہ ہمارے لیے نقصان دہ تھی اور ہے، ہماری یوٹیوب بھارت، امریکا اور دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسٹاگرام ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اور 80 فیصد آمدن وہیں سے ہوتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پلیٹ فارم صارفین کے لیے سخت ہدایات کے ساتھ پہلے ہی بہت منظم تھا۔

امتل باجوہ نے کہا کہ پلیٹ فارمز پر پابندی حل نہیں ہے لیکن اس خوف کی وجہ سے ہم تمام پلیٹ فارمز پر فعال رہنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ کوئی ایک بند ہو تو ہمیں پوری طرح نقصان نہ پہنچے۔


یہ خبر 12 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی