پاکستانی ڈراموں میں ’افیئرز‘ کے سوا کچھ نہیں دکھایا جاتا، اہلیہ صدر پاکستان

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

صدر مملکت کی اہلیہ کے مطابق ڈراموں کے موضوعات تبدیل ہونے چاہیے — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
صدر مملکت کی اہلیہ کے مطابق ڈراموں کے موضوعات تبدیل ہونے چاہیے — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

صدر مملکت عارف علوی کی اہلیہ خاتون اول ثمینہ علوی نے پاکستانی ڈراموں میں ایک جیسے ہی غیر مہذب موضوعات دکھائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ڈراموں میں غلط چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں دکھایا جاتا۔

خاتون اول نے اعتراف کیا کہ وہ ایک جیسے ہی ولگر موضوعات کی وجہ سے پاکستانی ڈرامے کم دیکھتی ہیں، کیوں کہ ان میں ’افیئرز‘ اور غلط چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں دکھایا جاتا۔

انڈیپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خاتون اول نے انکشاف کیا کہ انہیں پاکستانی ڈرامے دیکھنے سے ڈپریشن ہوجاتا ہے، کیوں کہ ان میں کوئی بھی ڈھنگ کی چیز نہیں دکھائی جاتی۔

اہلیہ صدر مملکت کے مطابق پاکستانی ڈراموں میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں کیا جا رہا اور انہوں نے اس مسئلے پر کچھ ٹی وی شخصیات سے بات بھی کی، جنہوں نے انہیں بتایا کہ ولگر اور بولڈ موضوع پر بنے ڈراموں کی ہی ریٹنگ آتی ہے۔

خاتون اول کا کہنا تھا کہ ڈراموں میں غلط چیزیں دکھانے کی وجہ سے ہی آج کل لڑکے اور لڑکیاں غلط کام کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

بیگم ثمینہ علوی کے مطابق ڈراموں میں جس طرح کی چیزیں دکھائی جائیں گی، بچے ویسا ہی کریں گے، اس لیے ڈراموں کے موضوعات تبدیل ہونے چاہیے اور انہیں تعمیری ہونا چاہیے۔

ثمینہ علوی ستمبر 2018 سے ایوان صدر میں مقیم ہیں—فائل فوٹو: فیس بک
ثمینہ علوی ستمبر 2018 سے ایوان صدر میں مقیم ہیں—فائل فوٹو: فیس بک

انہوں نے ملک میں نئی نسل میں منشیات کے استعمال کو بھی ڈراموں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترک ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اچھا ڈراما ہے اور اس میں کسی بھی چیز کو غیر مہذب طریقے سے نہیں دکھایا گیا۔

ثمینہ علوی نے یہ بھی بتایا کہ خاتون اول ہونے اور سیاست پر نظر رکھنے کے لیے وہ ٹاک شوز دیکھتی ہیں۔

خاتون اول نے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بی بی بشریٰ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مہذب شخصیت کی مالک خاتون قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ان کے ساتھ ہر موضوع پر کھل کر اور اچھے طریقے سے بات کی۔

بیگم ثمینہ علوی نے وزیر اعظم کی اہلیہ کے حوالے سے عام عوام میں پائے جانے والے خیالات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ ہر موضوع پر اچھی دسترس رکھتی ہیں اور ان کی شائستہ گفتگو سے ان کی مہذبانہ شخصیت کا اقرار ہوتا ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے صدر مملکت سے سیاسی مسائل پر ہونے والی بحث پر بھی بات کی اور بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کرنے سمیت انہیں حل کرنے کے لیے کہتی رہتی ہیں۔

انہوں نےیہ بھی بتایا کہ جب ان کے شوہر کو صدر بننے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کچھ ذاتی وجوہات کی وجہ سے شوہر کے صدر بننے پر اختلاف کیا، تاہم بعد ازاں وہ رضامند ہوگئیں۔

خاتون اول نے پاکستانی ڈراموں کو غیر مہذب بھی قرار دیا—فائل فوٹو: فیس بک
خاتون اول نے پاکستانی ڈراموں کو غیر مہذب بھی قرار دیا—فائل فوٹو: فیس بک

انہوں نے ایوان صدر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک کی اتنی بڑی اہم ترین عمارت میں پانی لیک ہوتا ہے اور ایوان صدر کا ماضی میں اس طرح خیال نہیں رکھا گیا۔

اہلیہ صدر پاکستان نے ملک میں خواتین کے ریپ اور انہیں ہراساں کیے جانے کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ ریپ واقعات کو سخت سزاؤں کے تحت ہی کم کیا جا سکتا ہے تاہم انہوں نے سخت سزاؤں کی وضاحت نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تینوں بیٹیاں اور بیٹا بھی دندان ساز ہے اور وہ اب پریکٹس کر رہے ہیں، جب کہ بیٹے سمیت بڑی بیٹی کو سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی بھی ہے۔

خاتون اول کے مطابق ان کی بڑی بیٹی اپنے خاندان سمیت دبئی میں مقیم ہیں، جہاں وہ بطور ڈینٹسٹ کام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی وہ سیاست میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔

انٹرویو میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور وزیر اعظم عمران خان کی بار بار تعریف بھی کی اور بتایا کہ وہ انہیں بیٹے کو بھی قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑانے کا کہہ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ثمینہ علوی اپنے شوہر کے ہمراہ ستمبر 2018 میں کراچی سے اسلام آباد ایوان صدر منتقل ہوئی تھیں۔

ان کے شوہر عارف علوی 4 ستمبر 2018 کو پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، تاہم پارٹی نے انہیں صدر بنانے کا فیصلہ کیا۔

عارف علوی نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر عہدہ صدارت سنبھالا تھا اور وہ ستمبر میں اہل خانہ سمیت ایوان صدر منتقل ہوگئے تھے۔

خاتون اول کے مطابق ریپ واقعات کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے—فوٹو: انڈیپینڈنٹ اردو
خاتون اول کے مطابق ریپ واقعات کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے—فوٹو: انڈیپینڈنٹ اردو