پی ڈی ایم گوجرانوالہ میں اپنا پہلا پاور شو دکھانے کیلئے تیار

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

حکومت نے اپوزیشن کو جلسہ گاہ بھرنے کا چیلنج دے دیا—فوٹو: ڈان
حکومت نے اپوزیشن کو جلسہ گاہ بھرنے کا چیلنج دے دیا—فوٹو: ڈان

لاہور: اپوزیشن جماعتیں آج گوجرانوالہ میں اپنے پہلے جلسے کی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ آج کا یہ پاور شو عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے سنگ بنیاد ثابت ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت 11 اپوزیشن جماعتوں کے حال ہی میں قائم ہونے والے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گوجرانوالہ ریلی کو ’ایک بڑے پاور شو‘ میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور جلسہ گاہ کچھا کھچ بھرنے کی صورت میں وزیراطلاعات شبلی فراز سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن کو چیلنج کیا تھا کہ وہ جناح پارک کو بھر کر دکھائے چونکہ حکومت نے تو عوامی اجتماع کی اجازت دے دی تھی۔

تاہم اس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے وفاقی وزیر سے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ اگر جلسہ گاہ بھر گئی تو آپ فوری طور پر استعفیٰ دیں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے اپوزیشن کو 'شرائط و ضوابط' کے ساتھ ریلی کی اجازت دے دی

خیال رہے کہ گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا ایک مضبوط گڑھ ہے لیکن پارٹی صرف اسی پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پنجاب بھر میں اپنے ورکرز اور سپورٹرز کو متحرک کیا ہے اور انہیں ریلی کے مقام پر پہنچنے کا کہا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی بڑی تعداد میں اپنے چاہنے والوں کو لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

وہیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گزشتہ روز ہی گجرات میں لالا موسیٰ کے مقام پر قمر زمان کائرہ کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں اور یہ متوقع ہے کہ وہ وہیں سے ریلی تک پیپلزپارٹی کے کارکنان کی قیادت کریں گے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اعلان کیا کہ وہ لاہور جاتی امرا میں اپنی رہائش گاہ سے کارواں کی صورت میں نکلیں گے۔

مسلم لیگ (ن) لاہور چیپٹر کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کارکنوں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد کو یقینی بنائیں۔

اگرچہ وہ دوپہر میں وہاں سے نکلیں گی تاہم پارٹی کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا وہ شام میں جلسہ گاہ کے مقام پر پہنچیں گی۔

اس حوالے سے ایک پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’کسے معلوم کہ مریم نواز کے قافلے کو گوجرانوالہ پہنچنے میں کتنا وقت لگے‘۔

ادھر پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن فیروزپور روڈ لاہور پر واقع جامعہ اشرفیہ سے گوجرانوالہ کے لیے نکلیں گے تاہم جے یو آئی کی قیادت کی جانب سے حامیوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ براہ راست ریلی کے مقام پر پہنچیں۔

آج کے جلسے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ جمعہ کا پاور شو غیرمعمولی ہو کیونکہ یہ پی ٹی آئی حکومت کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے تمام رہنماؤں کو یقین ہے کہ یہ ریلی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک نئی رفتار سیٹ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امید ہے مسلح افواج کو سیاسی تنازع میں شامل نہیں کیا جائے گا، احسن اقبال

ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی کافی تعداد پہلے ہی گوجرانوالہ پہنچ چکی ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے سڑکوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھ دیے ہیں جو ارادے کو ظاہر کرتا ہے جو اپوزیشن کے ورکرز اور سپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ روکنے کےلیے ہوسکتا ہے۔

تاہم اپوزیشن کو یقین ہے کہ بڑی تعداد میں گوجرانوالہ پہنچیں گے اور یہ رکاوٹیں انہیں ریلی کے مقام پر پہنچنے سے نہیں روک سکیں گی۔

دوسری جانب صوبائی دارالحکومت میں انتظامیہ نے اپوزیشن کی ریلی سے متعلق تمام بینرز اور پینافلیکس کو ہٹا دیا اس کے علاوہ گوجرانوالہ اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کےلیے پہلے ہی ہائی الرٹ ہے۔

تاہم اپوزیشن لیڈر کے مطابق انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر پولیس نے جلسے کے مقام تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیدا کیں تو کارکنان اور حمایتی لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل اشرف نے جناح پارک میں ریلی منعقد کرنے کے لیے پی ڈی ایم کو این او سی جاری کی تھی۔

انہوں نے تمام شرکار کو ہدایت کی تھی کہ وہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’منتظمین پر کسی کالعدم تنظیم کے اراکین کو جلسہ گاہ اور اسٹیج پر داخل کرنے پر پابندی ہے اور ان کی تقاریر کی بھی اجازت نہیں ہوگی، مزید یہ کہ ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور نعروں پر بھی پابندی ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ-19 قوانین کی خلاف ورزی کی آڑ میں اپوزیشن کے 400 سے زائد کارکن گرفتار

اس سے قبل پنجاب پولیس پی ٹی ایم کے 400 سے زائد کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کرچکی ہے، جن میں زیادہ تر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگز کے دوران مبینہ طور پر کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔

علاوہ ازیں مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف بھی اس جلسے سے خطاب کریں گے تاہم پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے پہلے ہی نواز شریف کی تقاریر کو نشر کرنے ان کے اشتہاری ملزم ہونے کی وجہ سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔


اس خبر کی تیاری میں گوجرانوالہ س اکرم ملک نے بھی معاونت کی