بھارت کی اپنے 4 جاسوسوں کی رہائی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 
 جسٹس مذکورہ معاملے پر سماعت کرے گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس مذکورہ معاملے پر سماعت کرے گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارتی ہائی کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان بھارتی شہریوں کی رہائی کی درخواست دائر کردی جنہیں پاکستان کی فوجی عدالتوں نے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی تھی اور وہ اپنی متعلقہ سزا کی مدت پوری کرچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کی اپرنا رائے نے ایڈووکیٹ ملک شاہنواز نون کے ذریعے درخواست دائر کی۔

درخواست میں سینٹرل جیل لاہور میں موجود بجرو دنگ دنگ عرف برچھو، ورگیان کمار گھن شیام اور ستیش بھوگ جبکہ سینٹرل جیل کراچی میں موجود سونو سنگ کی رہائی کی استدعا کی گئی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام سزایافتہ افراد اپنی جیل کی سزا پوری کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس

اس حوالے سے موجود تفصیلات کے مطابق بجرو دنگ دنگ 29 اپریل 2007، ورگیان کمار 19 جون 2014، ستیش بھوگ 6 مئی 2015 اور سونو سنگ 3 مارچ 2012 جو اپنی سزا پوری کرچکے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’یہ قیدی پاکستان میں فوجی عدالت جیسے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کی جانب سے دی گئی اپنی متعلقہ سزا کو پورا کرچکے ہیں‘۔

عدالت عالیہ میں دائر درخواست کے مطابق ’متعلقہ قیدیوں کو پاکستانی فوجی حکام نے گرفتار کیا تھا اور پاکستان آرمی ایکٹ 1954 کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت چارج کیا تھا جبکہ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا‘۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’قیدیوں نے اپنی متعلقہ سزا پوری کرلی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کا آئین واضح الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں رکھا جائے گا، یہ دفعہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 21 سے کافی مماثلت رکھتی ہے جو زندگی اور آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے‘۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ کسی بھی ملک کے کسی بھی فرد کو پاکستانی حکام کی جانب سے رکھا جاتا ہے تو وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اور آزادی کے لیے قانون کے شاندار تحفظ تک ان کو رسائی دی جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک یہ حقوق اور وقار کا معاملہ ہے۔

مزید یہ کہ درخواست میں کہا گیا کہ پاکستانی آئین کا آرٹیکل 10 (اے) تمام کے مصفانہ ٹرائل کو یقینی بناتا ہے اور آرٹیکل 4 میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہر دوسرا فرد پاکستان میں قانون کے تحفظ میں ہے اور اس طرح کے فرد کے حقوق سے قانون کے تحت ہی نمٹا جائے گا‘۔

درخواست میں الزام لگایا تھا کہ ان آئینی شقوں کے باوجود بدقسمتی سے حکام نے ان قیدیوں کو قانونی حقوق سے محروم کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے رواں سال بھارت کا 11واں جاسوس ڈرون مار گرایا

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق اپرنا رائے نے سیکریٹری خارجہ کو کئی مرتبہ زبانی پیغام بھیجے کہ چونکہ یہ قیدی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں تو انہیں رہا اور وطن واپس بھیجا جائے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

اس میں کہا گیا کہ ’انسانیت اور عام اخلاقیات کی خاطر درخواست گزاروں کی جانب سے مدعا علیہ نمبر 2 (سیکریٹری امور خارجہ) سے درخواست کی تھی کہ سابق مجرمان کو جیلوں سے رہا کیا جائے لیکن مدعا علیہ نمبر 5 (اپرنا رائے) کی جانب سے اٹھائے گئے تمام معقول اور حقیقی اعتراضات کو مسترد کردیا گیا‘۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس وقت متعلقہ قیدیوں کی حراست غیر قانونی ہے، لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ سرکاری حکام کو ہدایات جاری کریں کہ وہ انصاف کے تحت ان قیدیوں کو رہا کرے اور انہیں واپس ان کی سرزمین بھارت جانے دے۔

مذکورہ معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی جمعہ کو سماعت کریں گے۔


یہ خبر 16 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی