کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا معاملہ: 'سندھ حکومت ختم ہوجانے کا کہا گیا'

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک مفرور شخص کو سامنے لا کر جعلی مقدمہ درج کرایا گیا — فوٹو: ڈان نیوز
مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک مفرور شخص کو سامنے لا کر جعلی مقدمہ درج کرایا گیا — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر انکشاف کیا ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ حکومت سندھ ختم ہوجائے گی مگر میں نے واضح کردیا کہ مہمان کی عزت ہماری عزت ہے۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کے دوران مراد علی شاہ نے کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری اور پولیس پر دباؤ کے حوالے سے کہا کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی گرفتاری کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور جعلی مقدمہ بنوایا گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے الزام میں کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کے بعد یہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے اور انہوں نے پولیس پر غلط دباؤ ڈال کر مقدمہ درج کرایا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری ہوگی اور معاملے کی تمام جزیات سامنے آجائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مزار قائد کا احترام سب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی عمل خلاف قانون ہوا تھا تو اسے طریقے سے سامنے لاتے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما متعدد مرتبہ مزار قائد میں آکر اس کی بے حرمتی کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک مفرور شخص کو سامنے لا کر جعلی مقدمہ درج کرایا گیا'۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں مہمان نوازی کی روایت قدیم اور اب تک قائم ہے لیکن پولیس پر غیر قانونی طریقے سے دباؤ ڈال کر مہمانوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دنوں میں بہت کچھ ہوا، میں کئی چیزیں بتا سکتا ہوں اور متعدد کا اظہار نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 'چیف سیکریٹری اور آئی جی کو کابینہ میں طلب کرنے کی باتیں ہوئیں، کیا سندھ کوئی کالونی ہے، واضح کردوں کہ دونوں افسران صوبائی حکومت کے ملازم ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ افسوس کا دن تھا لیکن حکومتی اراکین نے خوشیاں منائیں جب پاکستان جیسے گندم میں خود کفیل ملک کے اندر غیر ملکی گندم داخل ہوئی'۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پارٹی قائد نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا تھا کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور ریاست نے ایک اسٹنگ آپریشن کیا۔

کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور اگر ہم آج اس کی مذمت نہیں کریں گے تو کل ہم سب کو اس سے گزرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو کراچی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے منعقدہ اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد میں نعرے بازی کرنے پر علی الصبح ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا

بعد ازاں سندھ پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران کی جانب سے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر بے جا مداخلت پر چھٹیوں کی درخواست سامنے آئی تھی۔

اسی معاملے پر صوبائی پولیس کے متعدد اے آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے انسپکٹر جنرل آئی جی) کو چھٹیوں کی درخواستیں جمع کرا دی تھیں۔

بعدازاں آئی جی سندھ نے ’پولیس پر دباؤ‘ ڈالنے سے متعلق واقعے پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نوٹس لینے کے بعد چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔

سندھ پولیس کی جانب سے جاری متعدد ٹوئٹس میں کہا تھا کہ آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر کے ماتحت افسران کو قومی مفاد میں اپنی چھٹیوں کی درخواستیں 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے۔