کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے الزام میں کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2020

ای میل

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے گزشتہ روز مزار قائد پر حاضری دی تھی—تصویر: کیپٹن (ر) صفدر فیس بک
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے گزشتہ روز مزار قائد پر حاضری دی تھی—تصویر: کیپٹن (ر) صفدر فیس بک

کراچی پولیس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرلیا۔

کیپٹن صفدر کو مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے الزام میں گرفتار کر کے عزیز بھٹی تھانے میں رکھا گیا اور آج انہیں عدالت میں پیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

اس حوالے سے مریم نواز نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔

مریم نواز کے بیان کے مطابق جس وقت پولیس ان کے ’کمرے میں گھسی‘ وہ سو رہی تھیں۔

کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کیا گیا۔

مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔

یہ بھی پڑھیں: فوج کے خلاف 'ہرزہ سرائی': کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

خیال رہے کہ مزار قائد آرڈینس کی دفعہ 6 کی رو سے کسی شخص کو بھی مزار قائد کے اندر اور بیرونی احاطے سے 10 فٹ کے فاصلے تک کوئی اجلاس، مظاہرہ، جلسہ یا کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آرڈیننس کی دفعہ 8 کے مطابق کسی شخص کو ایسا فعل یا سلوک اختیار کرنے کی اجازت نہیں جو قائد اعظم کے مزار کے تقدس اور وقار کے لیے توہین آمیز ہو۔

اس کے علاوہ دفعہ 10 کے تحت مذکورہ دفعات کے خلاف عمل کرنے پر قید کی سزا ہے جس کی مدت 3 سال تک بڑھائی جاسکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

سندھ پولیس کا بیان

ادھر سندھ پولیس نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق بذریعہ ٹوئٹ بیان جاری کیا تاہم بعد ازاں اسے ڈیلیٹ کردیا گیا۔

سندھ پولیس نے ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کردیا
سندھ پولیس نے ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کردیا

سندھ پولیس نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری قانون کے مطابق عمل میں آئی اور میرٹ پر تفتیش کی جائے گی۔

بعد ازاں سندھ پولیس کی جانب سے وہی ٹوئٹ دوبارہ کردی گئی۔

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، صوبائی وزیر

صوبائی وزیر تعلیم سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایات پر نہیں ہوئی۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کا یہ اقدام پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ مزار قائد پر کیپٹن صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا لیکن جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔

وفاقی وزرا کا مؤقف

خیال رہے کہ وفاقی وزیر بحری امور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما علی زیدی نے چیف سیکریٹری سندھ اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کو انتباہ دیا تھا کہ ’مزار قائد ہر ہنگامہ کرنے والے غنڈوں‘ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے تنبیہ دی تھی کہ اگر انہیں کراچی سے جانے دیا گیا تو اپ انہیں فرار ہونے دینے کے براہ راست ذمہ دار ہوں گے اور جرم میں معاونت فراہم کرنے والے تصور کیے جائیں گے۔

بعدازاں وفاقی وزیر علی زیدی نے مزارِ قائد کی بے حرمتی کرنے والے ’اوباشوں‘ کے خلاف ’آئی جی سندھ کی فوری کارروائی‘ کی تعریف کی۔

علی زیدی نے کہا کہ قانون ہرحال میں نافذ بونا چاہئیے، مریم نواز ایک مرتبہ پھرجھوٹ بول رہی ہیں کہ ہوٹل کادروازہ توڑاگیا، ویڈیو اس کے برعکس ہے، آپ کو کوئی ہتھکڑی دکھائی دے رہی ہے یا لگتا ہے کہ اسے زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ وفاقی وزیر تعلیم اور قائد اعظم منیجمنٹ بورڈ کے چیئرمین شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے مزار کے تقدس کی پامالی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کے پاس شکایت درج کروائی تھی۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں اس کی توقع نہیں کررہا تھا لیکن مجھے خوشی ہے سندھ پولیس نے قانون پر عمل کیا اور کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا، شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز مزار قائد پر جرم کیا اور قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس کا کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا اقدام قانون کے احترام کا بیانیہ ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر اور ان کا مزار کم ظرف سیاسی قیادت کے کھیل کا میدان نہیں، ہر پاکستانی کے لیے مقدس جگہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم کے مزار پر اٹھکیلیاں، نعرے بازی اور غیرسنجیدہ طرز عمل قانون کے خلاف ہے جس پر سزا ہونی چاہیے۔

مزار قائد پر نعرے بازی کا معاملہ

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

مزید پڑھیں: نیب نے کیپٹن (ر) صفدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا اور یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے۔

مذکورہ واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے توہین آمیز قرار دیا اور مسلم لیگ (ن)، کیپٹن (ر) صفدر پر برہمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان 10 گھنٹے سے مسلسل احتجاج کرتے ہوئے تھانے کے باہر موجود تھے۔

کارکنان کے علاوہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ، راجہ اظہر سمیت دیگر اراکین بھی تھانے کے باہر موجود تھے۔

مقدمے کے حوالے سے ایک ٹوئٹر پیغام میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر نے کہا کہ 10 گھنٹوں کے بعد مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر اور 200 ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، پاکستان میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔