پولیس وردی کی بڑی عزت ہے اس کو مجروح نہ کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہر میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے—فائل/فوٹو: محمد عاصم
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہر میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے—فائل/فوٹو: محمد عاصم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معطل ایڈیشنل سیشن جج اور خاتون رکن صوبائی اسمبلی کے شوہر کے درمیان جھگڑے کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ پولیس وردی کی بڑی عزت ہے اس کو مجروح نہ کریں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معطل ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان اور خاتون رکن صوبائی اسمبلی کے شوہر کے درمیان جھگڑے کے کیس کی سماعت کی، جہاں وفاقی دارالحکومت کے پولیس حکام بھی پیش ہوئے۔

عدالت نے شریک ملزم بلال عباسی کی پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران کہا کہ پولیس کی وردی کی بڑی عزت ہے اس کو مجروح نہ کریں۔

مزید :جج پر 'تشدد': ایم پی اے کا کزن گرفتار، شوہر کی تلاش جاری

سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے پولیس حکام سے کہا کہ ریڈزون میں واقعہ پیش آیا لیکن اصل ملزم کو آپ نے تھانے سے ہی چھوڑ دیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ابھی انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) نے کس کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

ملزم کے حوالے سے ایس ایچ او نے کہا کہ ملزم بلال عباسی جھگڑے کے دوران جج کو مارنے والوں میں شامل تھا جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ جھگڑے والی ویڈیو عدالت کو دکھا سکتے ہیں۔

ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں لیکن تھانے میں پڑی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت بار بار کہہ رہی ہے کہ اس شہر میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، جو طاقتور ملزم تھا اس کو پولیس نے تھانے سے ہی چھوڑ دیا تھا۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر حملہ کرنے اور دھمکی دینے کے الزام میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے قانون ساز کے شریک حیات اور کزن کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سابق جج ارشد، ’دباؤ پر فیصلہ‘ کرنے کو ثابت کرنے میں ناکام رہے، انکوائری رپورٹ

تھانہ سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی مدعیت میں پنجاب اسمبلی کی رکن کے شوہر اور کزن کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 337-اے، 337-ایف، 352 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے رکن اسمبلی کے کزن کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ خاتون رکن اسمبلی کے شوہر کوششوں کے باوجود گرفتار نہیں ہوسکے تھے۔

درخواست گزار نے بتایا تھا کہ وہ ابھی کونسٹیٹیوشن ایونیو کے پیٹرول پمپ پر رکے ہی تھے کہ ایک لینڈ کروزر مخالف سمت سے آئی اور اس میں سے دو افراد اترے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے جج کے پاس جاکر تشدد شروع کردیا اور انہیں گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی، جج کے سر، چہرے، آنکھوں، ناک اور ٹانگوں سمیت اس کے جسم پر چوٹیں آئیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اپنے دفاع میں جج نے ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہوگئے تاہم وہ جج کو دوبارہ تشدد کا نشانہ بنانے کے ارادے سے واپس آئے تھے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کی شناخت پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے کے شوہر کے طور پر ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم پی اے کے شوہر کے ساتھ لڑائی اور ہوائی فائرنگ کرنے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو معطل کردیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک سرکلر کے ذریعے بتایا تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو معطل کردیا گیا ہے تاہم سرکلر میں ان کی معطلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔