یہ کوئی ریئلٹی شو نہیں ہے، اوباما کی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

سابق امریکی صدر براک اوباما نے جو بائیڈن کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی — فائل فوٹو:رائٹرز
سابق امریکی صدر براک اوباما نے جو بائیڈن کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی — فائل فوٹو:رائٹرز

سابق امریکی صدر براک اوباما نے جو بائیڈن کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی۔

اپنے سابق نائب صدر جو بائیڈن کی جانب سے فلاڈیلفیا میں ایک کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے تنقید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے تفرقہ پھیلانے والے بیانات، اوول آفس میں ان کا ٹریک ریکارڈ اور سازشی نظریات کو ری ٹوئٹ کرنے کی عادت کو ہدف بنایا۔

اوباما نے کہا کہ ’جو بائیڈن اور کمالہ حارث کے ہوتے ہوئے آپ کو ہر روز ان کی پاگل باتوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ بہت بڑا فائدہ ہے، آپ کو ہر روز ان کے بارے میں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ تھکادینے والا نہیں ہوگا‘۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی کام کرنے یا کسی کی مدد کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی‘۔

مزید پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکی انتخابات میں کتنے مراحل ہوتے ہیں؟

دو مرتبہ امریکی صدر رہنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کی مشہور شخصیت براک اوباما نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ کے اقدامات پر تنقید کی اور کہا کہ صدر خود وائرس کا شکار ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ اچانک سے ہم سب کی حفاظت نہیں کریں گے، وہ اپنی حفاظت کے لیے بنیادی اقدامات بھی نہیں اٹھا سکتے‘۔

براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ماضی میں ریئلٹی شو کی میزبانی کرنے کے دور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی ریئلٹی شو نہیں بلکہ خود حقیقت ہے اور ہم میں سے دیگر لوگوں کو بھی اس کے نتائج سے گزرنا پڑا ہے کہ کیونکہ وہ اپنے کام کو سنجیدگی سے کرنے کے لیے خود کو نااہل ثابت کر رہے ہیں‘۔

اوباما کے صدارتی مہم میں شرکت نے جو بائیڈن کی غیر موجودگی کی خلا کو پر کیا جو ٹینیسی کے شہر نیش وِل میں ٹرمپ کے ساتھ جمعرات کے روز ہونے والے مباحثے کے لیے تیاریوں کے لیے پیر کے روز سے ہی ڈیلاویر میں اپنے گھر پر موجود ہیں۔

ڈرائیو ان ریلی فلاڈلفیا کے بیس بال اسٹیڈیم، سٹیزنز بینک پارک کی پارکنگ میں منعقد ہوئی۔

یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران جو بائیڈن مہم کی جانب سے نکالا گیا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی امیدوار جو بائیڈن جیت سکتے ہیں، ٹرمپ کے اتحادی کا دعویٰ

رائٹرز / اِپسوس کے حالیہ سروے میں جو بائیڈن کو پنسلوانیا میں صرف 4 فیصد زائد دکھایا گیا ہے جبکہ براک اوباما نے ڈیموکریٹس کو دھوکے پر خبر دار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں نکلنا ہے، ہم اس انتخاب میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑ سکتے‘۔

چار سال قبل اوباما نے انتخاب سے ایک روز قبل اس وقت کے ڈیموکریٹک نامزد امیدوار ہلری کلنٹن کے ساتھ فلاڈیلفیا میں ایک ریلی میں شرکت کی تھی تاہم ٹرمپ بہت تھوڑے سے فرق سے اس انتخابات میں جیت گئے تھے۔

جو بائیڈن مہم وہاں جیت کو اولین ترجیح سمجھتی ہے۔