سپریم کورٹ کی نیب عدالتوں کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تمام 24 احتساب عدالتوں کو کرپشن ریفرنسز میں فریقین کو کسی قسم کا التوا دیے بغیر سماعتوں میں تیزی لانے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے احتساب عدالتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو مختلف گواہوں کے ثبوتوں کو ریکارڈ کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

بینچ کی جانب سے یہ توقع بھی کی گئی کہ استغاثہ کی جانب سے کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل احتساب عدالتوں میں تمام گواہوں کو وقت پر پیش کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

بینچ نے کہا کہ مزید یہ کہ نیب چیئرمین جاوید اقبال عدالتی حکم کی من و عن تکمیل کو یقینی بنائیں گے اور عدالتی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیں گے۔

مزید پڑھیں: کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کی جانب سے اس اُمید کا اظہار بھی کیا گیا کہ وفاقی کابینہ ملک بھر میں 120 احتساب عدالت عدالتوں کے قیام سے متعلق 8 جولائی کی ہدایات پر عملدرآمد کے لیے فوری فیصلہ کرے گی تاکہ ایک بہت بڑے بیک لوگ کو ختم کیا جائے۔

قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان نے وزیراعظم عمران خان سے بدھ کو ملاقات کی، جس میں 120 احتساب عدالتوں کے قیام کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں میں زیرسماعت مختلف کیسز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 120 احتساب عدالتوں کے قیام کے لیے ایک جامع مجوزہ حتمی منظوری کے لیے وزارت قانون کی جانب سے پہلے ہی وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جمع کروایا جاچکا ہے۔

اس پر سپریم کورٹ کی جانب سے سیکریٹری قانون کو ہدایت کی گئی کہ وہ 120 احتساب عدالتوں سے متعلق فیصلے پر ایک رپورٹ بینچ کے سامنے پیش کریں۔

ادھر باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ مزید احتساب عدالتیں قائم کی جائیں گی اور ان کی تعداد کسی حد تک بڑھ کر 120 ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کی شق 16 کی روشنی میں احتساب عدالتوں میں ٹرائلز میں تاخیر پر ازخود نوٹس لیا تھا، جو 30 روز میں کرپشن معاملات کا فیصلہ کرنے کو کہتی ہے۔

ازخود نوٹس کی سماعت اس وقت شروع ہوئی تھی جب جسٹس مشیر عالم نے 8 جنوری کو چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ ایک خصوصی بینچ تشکیل دیں اور ٹرائل کورٹس کے سامنے ملزم پر مقدمہ چلانے میں تاخیر پر ازخود نوٹس کی کارروائی شروع کریں۔

دوسری جانب وزارت قانون کی رپورٹ کے مطابق تمام 24 احتساب عدالتیں مکمل فعال ہیں اور اس وقت کسی احتساب عدالت میں کوئی اسامی خالی نہیں ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران جب قائم مقام سیکریٹری قانون پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کیا کہ کیوں وزارت قانون ایک مستقل سیکریٹری تعینات نہ کرکے ایڈہاکزم کی پیروی کر رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ گزشتہ حکم کے مطابق چیئرمین نیب نے مجوزہ نیب رولز 2020 کو حتمی منظوری کے لیے 26 اگست 2020 کو صدر مملکت کے سامنے پیش کیا تھا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون رولز کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور اگر اس میں حکم مل گیا اسی کا اطلاق ہوگا، لہٰذا عدالت کو اس سلسلے میں مزید ایک ماہ دینا چاہیے۔

ضمانت کی درخواست پر نیب کا جواب طلب

علاوہ ازیں ایک علیحدہ کیس میں سپریم کورٹ نے 17 کروڑ روپے کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث محکمہ سیاحت سندھ کے ایک ملازم داؤد پوتا کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر جنرل سے 10 روز میں جواب طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: 120 احتساب عدالتوں کے قیام کیلئے سیکریٹری قانون کو حکومت سے ہدایت لینے کا حکم

اپنی درخواست میں ملزم کا مؤقف ہے کہ نیب نے اس حقیقت کو جانے بغیر کہ ان کی مدد اور تعاون سے اس اسکینڈل کا پتا لگایا گیا تھا نیب نے اپنے ریفرنس میں انہیں کا نام شامل کردیا۔

ایڈووکیٹ نثار اے مجاہد نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل ایک وسل بلور ہیں جبکہ نیب کی جانب سے 17 کروڑ روپے کی لوٹی رقم کی وصولی میں ان کے تعاون کی تعریف کی گئی لیکن جب ریفرنس تیار ہوا تو درخواست گزار کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل تھا اور کرپشن کی رقم کو محض ڈیڑھ کروڑ روپے کردیا تھا۔