کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکی انتخابات میں کتنے مراحل ہوتے ہیں؟

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

لوگوں کی اکثریت امریکی انتخابات کےتکنیکی پہلوؤں سےآگاہی نہیں رکھتی اور اسے براہ راست صدارتی انتخابات کا سادہ سا طریقہ تصور کرتی ہے—فوٹو: اے ایف پی
لوگوں کی اکثریت امریکی انتخابات کےتکنیکی پہلوؤں سےآگاہی نہیں رکھتی اور اسے براہ راست صدارتی انتخابات کا سادہ سا طریقہ تصور کرتی ہے—فوٹو: اے ایف پی

خواہ آپ امریکا کے مخالف کیمپ میں ہوں یا امریکی پالیسیوں سے اتفاق رکھتے ہوں، ہر صورت میں امریکا کے صدارتی انتخابات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

بطور واحد یونی پولر طاقت اپنی پالیسیوں کی شکل میں دنیا کے کسی بھی خطے پر براہِ راست اثر انداز ہونے اور دنیا کے سیاسی توازن میں بھونچال کی کیفیت پیدا کرنے والی طاقتور مملکت، 250 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار بحرانی کیفیت کا شکار نظر آرہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45ویں صدر ہیں۔ وہ پچھلے کچھ عرصے میں مسلسل ٹیلی وژن پر آکر انتخابات کو ملتوی کروانے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ اس بار ووٹرز کی جانب سے انتخابی عمل میں عدم دلچسپی کا امکان ہے، کورونا کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرسکتے ہیں اور ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کا رجحان بڑھے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس بار الیکشن کے نتائج میں غیر معمولی تاخیر ہونے کے امکانات ہیں جس سے انتخابی عمل میں گڑبڑ کے خدشات بھی ہوسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات ملتوی کرنے کی خواہش بظاہر کتنی ہی زمینی حقائق کی عکاسی کرتی نظر آئے لیکن تجزیہ نگار اسے ان کے اس خوف سے تعبیر کرتے ہیں کہ کہیں خراب کارکردگی کی وجہ سے عوام انہیں مسترد نہ کردیں۔

ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ 3 نومبر کے عام انتخابات میں 15 کروڑ سے زائد امریکی اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں، جو 1908ء کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہوگی۔

77 سالہ جو بائیڈن اب ایک مقبول امریکی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ ناصرف اس سے قبل 2 بار صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آچکے ہیں بلکہ انہوں نے صدر باراک اوباما کے ساتھ بھی 8 سال تک بطور نائب صدر فرائض انجام دیے ہیں۔ انہیں بطور ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیٹ ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک طاقتور مدمقابل سمجھا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکی انتخابات میں ’اکتوبر سرپرائز‘ کا کھیل جانتے ہیں؟

امریکا میں 150 سال سے 2 ہی پارٹیوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا ہے۔ ان میں سے ایک ریپبلکن پارٹی ہے جسے گرینڈ اولڈ پارٹی یا جی او پی بھی کہا جاتا ہے۔ اس پارٹی کا حلقہ اثر زیادہ تر امیر لوگ ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا نشان ہاتھی ہے جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ڈیموکریٹس ہے جس کا نشان گدھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی چند چھوٹی پارٹیاں ہیں جن میں گرین پارٹی بھی شامل ہے لیکن انہیں کبھی بھی عوامی سطح پر مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔

اس وقت پوری دنیا کی نگاہیں امریکا کے صدارتی انتخابات اور اس کے نتائج پر پر لگی ہوئی ہیں۔ امریکا کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گہری دلچسپی لی جارہی ہے، لیکن عمومی سطح پر ان انتخابات میں دلچسپی لینے والوں کی ایک بڑی تعداد ان انتخابات کے تکنیکی پہلوؤں اور ساخت سے آگاہی نہیں رکھتی اور اسے براہِ راست صدارتی انتخابات کا ایک سادہ سا طریقہ تصور کرتی ہے، حالانکہ صورتحال مختلف ہے۔

امریکی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان انتخابات کے تمام مراحل کو سمجھیں۔ تو چلیے ہم آپ کو امریکی انتخابات کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے حقائق بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • امریکی انتخابات ہر 4 سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں۔
  • صدارتی انتخابات سے 2 سال پہلے ہی اس کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔
  • امریکا کے صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم 35 سال ہو اور وہ امریکا ہی میں پیدا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ متواتر 14 سال سے امریکا ہی میں رہتا ہو یعنی اس کی رہائش امریکا سے باہر نہ ہو۔
  • امریکی ایوان کو کانگریس کہتے ہیں جس کے 2 ایوان ہوتے ہیں۔ ایک ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان کہلاتا ہے اور دوسرا ایوانِ بالا جسے سینیٹ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں ایوانوں کے کل اراکین کی تعداد 435 ہوتی ہے جن کو ووٹ دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ 6 مزید اراکین بھی ہوتے ہیں جنہیں ووٹ دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
  • ان 435 اراکین میں سینیٹ کے 100 ممبران بھی شامل ہیں جو ہر ریاست سے 2 ممبران کے طور پر امریکا کی 50 ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ کانگریس کا الیکٹرول کالج کی گنتی کے علاوہ صدر کے انتخاب میں کوئی اور کردار نہیں ہوتا۔
  • صدارتی انتخابات میں عام ووٹر براہِ راست صدر کو منتخب نہیں کرتا جبکہ انتخابی مہم شروع ہونے سے صدر بننے تک ایک طویل مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے 5 مراحل ہوتے ہیں۔ آئیں ایک نظر ان مراحل پر بھی ڈالتے ہیں۔

پرائمریز اور کاکسیز کا مرحلہ

امریکی انتخابات ہر 4 سال بعد نومبر کے مہینے میں ہوتے ہیں۔ انتخابات جس سال ہوتے ہیں، اسی سال فروری اور مارچ میں پرائمریز اور کاکسیز کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو جون کے مہینے تک چلتا ہے۔

واضح رہے کہ پرائمریز اور کاکسیز 2 علیحدہ طریقے ہیں اور دونوں ہی رائج ہیں۔

پرائمری مرحلہ

پرائمری مرحلے میں پارٹی ممبران اور عام ووٹر خفیہ رائے شماری سے ڈیلیگیٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔ پرائمری کے تحت ابتدائی مرحلے میں مختلف جماعتوں کے 8 سے 10 وہ امیدوار ہوتے ہیں جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور پھر ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس انتخاب میں کامیابی کے لیے امیدوار کو پارٹی کے دیگر ممبران کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انتخابات میں عام افراد بھی ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں۔ ان کامیاب ہونے والے افراد کو ڈیلیگیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیلیگیٹس ہر ریاست کی آبادی کے تناسب سے 50 سے لے کر 700 تک بھی ہوسکتے ہیں جو آگے چل کر اپنی ریاست سے انتخابی امیدوار کو چنتے ہیں۔

کاکسس مرحلہ

پرائمری کے برعکس کاکسس ایک غیر رسمی طریقہ انتخاب ہے، یعنی پارٹی ممبران ٹاؤن ہال میں سب کے سامنے ہاتھ اٹھا کر اپنے حمایت یافتہ امیدوار یا ڈیلیگیٹس کے لیے حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہ ملے تو اکثریت کے حمایت یافتہ امیدوار کا ساتھ دے کر اس کی جیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں کامیاب ہونے والے ڈیلیگیٹس اگلے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں، جسے نیشنل کنونشن کہا جاتا ہے۔

نیشنل کنونشن

یہ امریکی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ہر پارٹی کے تمام ڈیلیگیٹس جولائی کے مہینے میں ایک بڑے اسٹیڈیم میں جمع ہوتے ہیں۔ اس اجتماع کا مقصد اپنی اپنی پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں کا انتخاب ہوتا ہے۔ صدارتی امیدوار 3 سے 4 لوگ ہوتے ہیں جن میں سے ڈیلیگیٹس صدارتی امیدوار چنے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ کنونشن میں آنے والے ڈیلیگیٹس کو اس بات کا پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی کا مضبوط صدارتی امیدوار کون ہے اور عموماً انہی مضبوط امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

اس کنونشن کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ اسی میں صدارتی امیدوار اپنے نائب صدر کا انتخاب بھی کرتا ہے۔ اس طرح صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ یعنی نیشنل کنونشن بھی مکمل ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد یہ انتخابات اپنے تیسرے مرحلے یعنی مباحثے کے دور میں داخل ہوجاتے ہیں۔

مباحثے

اس مرحلے میں ہر پارٹی کا صدارتی امیدوار مختلف ٹی وی چینلز پر اپنا پروگرام اور مستقبل کا خاکہ پیش کرتا ہے جسے پورے ملک میں موجود افراد کے ساتھ دنیا بھر میں موجود ہر وہ فرد دیکھتا ہے جو امریکی انتخابات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان مباحثوں کے ناظرین کی تعداد 8 سے 10 کروڑ تک ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ اگلے مرحلے یعنی نومبر کے عام انتخابات تک چلتا ہے۔

مباحثوں کا سلسلہ عام انتخابات تک چلتا ہے—فوٹو: اے پی
مباحثوں کا سلسلہ عام انتخابات تک چلتا ہے—فوٹو: اے پی

عام انتخابات

ان انتخابات میں 18 سال سے زائد عمر کے تمام امریکی شہری ووٹ دینے کے اہل تصور کیے جاتے ہیں۔ ان انتخابات کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہوتی بلکہ روایتی طور پر نومبر کے مہینے میں آنے والے پہلے پیر کے بعد آنے والا منگل جس تاریخ کو بھی ہو، اسی روز انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔

ان انتخابات میں براہِ راست صدر کے لیے ووٹ دینے کے بجائے الیکٹورلز کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ الیکٹورلز دراصل اپنی اپنی پارٹیوں کے نمائندے ہوتے ہیں جو اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ان الیکٹورل کو ووٹ دینے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ووٹر اسی پارٹی کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے۔

پورے امریکا میں الیکٹورل کی کل تعداد 538 ہوتی ہے اور تمام الیکٹورل کو ملاکر ایک الیکٹورل کالج بنتا ہے۔ ہر ریاست کے الیکٹورل کی تعداد اس ریاست کی آبادی کے مطابق کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔

امریکی انتخابی مرحلے میں ایک اور دلچسپ جزو winner takes all کا اصول ہوتا ہے۔ یہ اصول ایک مثال کے ذریعے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کیلیفورنیا میں مختلف جماعتوں کے 55 الیکٹورل انتخاب لڑ رہے ہیں، اور ان میں سے ڈیموکریٹس کے 30 اور ریپبلکن کے 25 الیکٹورل کامیاب ہوتے ہیں تو ناصرف ڈیموکریٹس فاتح تصور ہوں گے بلکہ انہیں تمام 55 نشستوں پر کامیاب تصور کیا جائے گا۔

اسی winner takes all کے تحت ایک اور اصطلاح swing متعارف ہوئی۔ اسے سمجھنے کے لیے بھی ہم ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔

امریکا میں کیلیفورنیا کو ہمیشہ سے ڈیموکریٹس اور ٹیکساس کو ریپبلکن کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن چند ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں دونوں پارٹیوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک ریاست فلوریڈا بھی ہے جہاں کبھی تو ڈیموکریٹس کا پلہ بھاری ہوتا ہے تو کبھی ریپبلکنز کا۔ یہاں دونوں جماعتیں انتخاب جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ بعض مرتبہ تو یہ بھی ہوتا ہے کہ کل 20 نشستوں میں سے ایک جماعت 11 اور دوسری 9 حاصل کرلے۔ ایسی صورت میں 50 فیصد کے تناسب سے صرف ایک نشست زیادہ حاصل کرنے والی جماعت کو تمام نشستوں پر کامیاب تصور کیا جاتا ہے اور یہ swing ریاست کہلاتی ہیں۔ عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخابات اگلے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جسے الیکٹورل کالج کا انتخاب کہا جاتا ہے۔

الیکٹورل کالج کا انتخاب

یہ انتخابات 8 نومبر کو منعقد ہوتے ہیں اور اسی روز یہ پتہ چل جاتا ہے کہ فاتح کون ہوگا۔ ہر الیکٹورل 2 ووٹ ڈالتا ہے، یعنی ایک صدر اور دوسرا نائب صدر کے لیے۔ ان ووٹوں کی گنتی کانگریس کے ذریعے جنوری میں کی جاتی ہے۔ سادہ اکثریت یعنی 538 میں سے 270 ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد 20 جنوری کو inauguration کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے جس میں نئے صدر اور نائب صدر حلف اٹھاتے ہیں اور سابق صدر اپنا استغفی پیش کرتا ہے اور یوں امریکی صدارتی انتخاب کا یہ مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

امریکا میں انتخابات کا یہ طریقہ 16ویں صدی سے رائج ہے۔ اس دور میں اتنے لمبے دورانیے کی وجہ ذرائع نقل و حمل کا دشوار ہونا اور سفر کی دقتیں بتائی جاتی ہیں تاہم اب جدید دور کی سہولیات ہونے کے باوجود ان تمام مراحل سے گزرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اب بھی روایات کو اہمیت دیتے ہیں۔ امریکی انتخابات اب تقریباً اپنے آخری مراحل میں داخل ہونے کو ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار امریکی صدر کا قرعہ فال کس کے نام کھلتا ہے۔ آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ اقتدار کا ہما شاید جو بائیڈن کے سر پر بیٹھے گا مگر ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔