حکومت کی نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے برطانیہ سے پھر درخواست

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

حکومت نے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کے سلسلے میں تیسری مرتبہ برطانوی عدالت کو خط لکھا ہے — فائل فوٹو: اے پی
حکومت نے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کے سلسلے میں تیسری مرتبہ برطانوی عدالت کو خط لکھا ہے — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے برطانیہ کی حکومت سے تیسری بار درخواست کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو پاکستانی جیل میں سزا پوری کرنے کے لیے واپس بھیجیں اور اس مرتبہ یہ خط ذاتی طور پر اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کو دیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ خط نواز شریف کے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس (ایم پی سی) میں کی گئی تقریر کے تین ہفتوں بعد برطانوی سفارت کار کے حوالے کیا گیا جہاں مذکورہ تقریر میں انہوں نے سیاست میں اس کے مبینہ کردار پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو باہر بھیج کر ہم سے غلطی ہوگئی، وزیراعظم

خط کے ذریعے حکومت پاکستان نے برطانوی حکام سے نواز شریف کے وزٹ ویزا کو منسوخ کرنے پر غور کرنے کو کہا ہے جس نے انہیں طبی بنیادوں پر نومبر سے لندن میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

اس خط میں 1974 کے برطانیہ کے اپنے امیگریشن قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو اگر چار سال سے زیادہ کی قید کی سزا سنائی جائے تو اسے برطانیہ سے ڈی پورٹ کردیا جاتا ہے۔

جب وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ حکومت نے برطانیہ کے حکام کو نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے تین درخواستیں کی ہیں، آخری درخواست 5 اکتوبر کو کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلا خط اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے کے بعد گزشتہ ماہ بھیجا گیا تھا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اپنے تازہ خط میں حکومت نے سابق وزیر اعظم کی 'مخصوص ملک بدری' کے ممکنہ طریقوں کی طرف اشارہ کیا ہے، یہ گیند اب برطانوی حکومت کے کورٹ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف نواز شریف کی درخواستیں نمٹا دیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 ستمبر کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جبکہ ان کی جانب سے دائر تین درخواستوں کی سماعت کی تھی جن میں عدالت میں حاضری اور ہتھیار ڈالنے سے استثنیٰ کی درخواسیں بھی شامل تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم برطانیہ روانہ ہو گئے تھے، انہوں نے عدالت میں ایک معاہدہ پیش کیا تھا کہ وہ چار ہفتوں کے اندر یا جیسے ہی ڈاکٹروں نے صحت مند اور سفر کے قابل قرار دیا تو وہ واپس آ جائیں گے۔

نواز شریف نے ناصرف آل پارٹی کانفرنس میں بلکہ حال ہی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ جلسے میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے کے ایک دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب کیا اور اعلان کیا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ اور بھی سخت رویہ اپنائیں گے اور انہوں نے نواز شریف کو واپس لانے اور سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے ہر ممکن کوششوں کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

انہوں نے کہا کہ اب میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو واپس لاؤں اور آپ کو وی آئی پی کے بجائے ایک عام جیل میں رکھا جائے۔

اس سے قبل اے پی پی نیوز ایجنسی کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے شہزاد اکبر کی جانب سے برطانوی سیکریٹری داخلہ پریتی پٹیل کو بھیجے گئے خط کے جزوی مواد کا انکشاف کیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ پریتی پٹیل نواز شریف کو ملک بدر کرنے کی پابند ہیں تاکہ وہ بدعنوانی کے الزام میں دی گئی جیل کی سزا بھگت سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو 10ستمبر سے قبل 'سرنڈر' کرنے کا حکم

شہزاد اکبر نے اس خط میں لکھا کہ سابق وزیر اعظم ریاست سے لوٹ مار کرنے کے ذمہ دار تھے، مجھے یقین ہے کہ آپ بدعنوانی کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہماری کوششوں کے حامی ہوں گے۔

اخبار نے مزید کہا کہ پریتی پٹیل کو لکھے گئے خط میں برطانوی سیکریٹری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے اپنے 'وسیع اختیارات' استعمال کریں۔