بھارت: ہراسانی پر خاتون نے ٹریفک کانسٹیبل کی پٹائی کردی

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2020

ای میل

خاتون نے دعویٰ کیا کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر ٹریفک کانسٹیبل نے ہراساں کیا—فوٹو: اسکرین شاٹ
خاتون نے دعویٰ کیا کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر ٹریفک کانسٹیبل نے ہراساں کیا—فوٹو: اسکرین شاٹ

بھارت کے شہر ممبئی میں خاتون نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر ٹریفک کانسٹیبل پر تھپڑوں کی بارش کردی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نے ٹریفک کانسٹیبل کی شرٹ کو ایک ہاتھ سے پکڑے رکھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے تھپڑ مارتی رہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت: ریپ کے الزام میں پولیس افسر کا بیٹا گرفتار

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری طورپر وضاحت جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹریفک کانسٹیبل نے خاتون کو ہراساں نہیں کیا تھا۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ 'خاتون جھوٹ بول رہی ہیں'۔

دوسری جانب خاتون نے دعویٰ کیا کہ 'ہیلمٹ نہ پہننے پر ٹریفک کانسٹیبل نے ہراساں کیا'۔

واقعے کے بعد پولیس نے 30 سالہ سدویکا رامکانت تیواری اور ان کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار محسن خان کو ٹریفک کانسٹیبل پر تشدد کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

ایل ٹی مارگ پولیس کے مطابق دونوں افراد کے خلاف سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے، قصداً تکلیف پہنچانے اور امن کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کے مطابق کلبدوی ٹریفک ڈویژن سے منسلک ٹریفک پولیس کانسٹیبل ایکناتھ پورٹے نے موٹر سائیکل پر سوار محسن خان اور سدویکا تیواری کو روکا۔

یہ بھی پڑھیں: دہلی فسادات میں بھارتی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، امریکی اخبار

ایکناتھ نے محسن خان کو جرمانہ ادا کرنے کو کہا کیوں کہ انہوں نے ہیلمٹ نہیں پہننا ہوا تھا جس پر سدویکا اور ٹریفک کانسٹیبل کے مابین شدید تلخ کلامی ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق اچانک سے خاتون نے ٹریفک کانسٹیبل کا گریبان پکڑا اور مارنا شروع کردیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ ٹریفک کانسٹیبل نے انہیں ہراساں کیا۔

اس دوران خاتون کے ہمراہ محسن خان نے اپنے موبائل سے واقعے کی پوری ویڈیو بنائی۔