ایران کا جوابی ردعمل، 'عراق میں امریکی سفیر' پر پابندی عائد

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2020

ای میل

تہران نے امریکی سفیر پر 'دہشت گردی' کا الزام عائد کیا — فائل فوٹو: رائٹرز
تہران نے امریکی سفیر پر 'دہشت گردی' کا الزام عائد کیا — فائل فوٹو: رائٹرز

امریکا کی جانب سے بغداد میں تہران کے سفارتی مشن پر پابندی کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی سفیر پر پابندیاں عائد کردی۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق تہران نے امریکی سفیر پر 'دہشت گردی' کا الزام عائد کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے جوہری سائنسدانوں پر پابندی کا اعلان کردیا

ایرانی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا کہ میتھیو ٹولر اور عراق میں تعینات دو دیگر امریکی سفارت کار ایران کی حکومت یا شہریوں کے مفادات کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں، مالی اعانت اور رہنمائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ایران نے ان پر الزام لگایا کہ یہ سفارت کار جنوری میں بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی ڈرون حملے، انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا نفاذ کرنے میں ملوث تھے۔

علاوہ ازیں تہران نے عراق میں امریکی سفارت کار کے دو ڈپٹی اسٹیو فگین اور روب والرپر بھی پابندی عائد کردی۔

واضح رہے یہ افراد شمالی عراق کے کرد علاقے کے دارالحکومت ایربل میں امریکی قونصل خانے میں تعینات ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران مخالف اقدامات کے بھرپور جواب دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا تصادم، کیا خطرہ ٹل گیا؟

خیال رہے کہ واشنگٹن نے امریکی صدارتی انتخاب میں ممکنہ مداخلت کی کوشش کا الزام لگا کر ایرانی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

تاہم تہران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

امریکا نے بغداد کے لیے تہران کے ایلچی ایرا مسجدی کو بھی بلیک لسٹ کیا اور انہیں جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی مشیر بھی قرار دیا۔

اس کے جواب میں ایرا مسجدی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ وہ یہ خبر سن کر خوش ہوئے ہیں کہ امریکا کی دہشت گردی اور مجرمانہ حکومت نے مجھے ایک مرتبہ پھر 8 کروڑ ایرانیوں کے ساتھ اپنی ناجائز پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین کئی برس سے کشیدگی جاری ہے۔

دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اس وقت غیر معمولی اضافہ ہوا جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو منسوخ کردیا تھا جس کا مقصد خطے میں ایران کو اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور میزائل پروگرام سے دستبرداری تھا۔

ایران ۔ امریکا کشیدگی

27 دسمبر کو بغداد کے شمال میں کرکوک میں عراقی فوجی اڈے پر 30 راکٹ فائر ہونے کے نتیجے میں ایک امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد امریکا نے بڑا آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی فورسز نے 29 دسمبر کو عسکری آپریشن (او آئی آر) کے تحت ایران کی حامی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے عراق اور شام میں 5 ٹھکانوں پر حملہ کیا جس سے 25 جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق میں فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

جنگجوؤں کی ہلاکت پر ہزاروں افراد نے بغداد میں موجود امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا، تاہم اس سے قبل ہی امریکی سفارتکار اور سفارتخانے کے عملے کے بیشتر ارکان کو باحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

مظاہرین نے سفارت خانہ بند کرنے کے مطالبے اور پارلیمنٹ سے امریکی فورسز کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے پر مبنی پوسٹرز تھامے ہوئے تھے، جنہوں نے نہ صرف سفارتخانے پر پتھراؤ کیا بلکہ دیواروں پر نصب سیکیورٹی کیمرے اتار کر پھینک دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا اور تہران کو خبردار کیا تھا کہ اسے اس کی ’بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘۔

اس تمام تر تنازع میں مزید کشیدگی اس وقت شدید تر ہوگئی جب امریکا کے ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ اور انتہائی اہم کمانڈر قاسم سلیمانی مارے گئے، ان کے ساتھ عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی حملے میں ہلاک ہوئے۔

پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس حملے کا مقصد مستقبل میں ایرانی حملوں کی منصوبہ بندی کو روکنا تھا اور امریکا اپنے شہریوں اور دنیا بھر میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر اقدامات کرتا رہے گا‘ـ

قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا اور تہران نے امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے اس قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔

ایران کے ریاستی ٹی وی نے قاسم سلیمانی کے قتل کو جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکا کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کے عوام اب امریکا کو یہاں مزید قیام کا کوئی موقع نہیں دیں گے۔

بعد ازاں 4 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں امریکی فوجیوں کے ایک بیس پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا، جس میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات چند روز بعد آہستہ آہستہ سامنے لائے گئی تھی۔