اردوان کی دوبارہ میکرون کو ’دماغی معائنے‘ کی تجویز، مسلم ممالک کا فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد مسلم ممالک میں احتجاج بھی کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد مسلم ممالک میں احتجاج بھی کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

استنبول: فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل میں شدت آگئی ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر ان پر ’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے جبکہ مختلف مسلم ممالک فرانس کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔

ڈان اخبار میں خبررساں ادارے اے ایف پی کی شائع رپورٹ کے مطابق آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران گستاخانہ خاکے دکھانے پر استاد سیمیول پیٹی کا سرقلم کیے جانے کے بعد بات کرتے ہوئے ایمانوئیل میکرون نے زور دیا تھا کہ فرانس ’’خاکوں سے پیچھے’’ نہیں ہٹے گا جبکہ سیمیول پیٹی کو ’’اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چاہتے ہیں’’۔

تاہم ان کے اس بیان پر ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو انہوں نے کہا تھا کہ میکرون کو ’مختلف عقائد کے گروپس کے لاکھوں اراکین‘ کے ساتھ برتاؤ کے لیے انہیں ’دماغی معائنہ‘ کرانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

ان کے اس ریمارکس کے بعد پیرس نے انقرہ سے اپنے سفیر کو واپس بھی بلا لیا تھا۔

تاہم ترک لیڈر نے اگلے ہی روز ان ریمارکس کو ایک مرتبہ پھر دوہرایا اور الزام لگایا کہ میکرون کو ’دن اور رات اردوان کا وہم ہے‘۔

مشرقی اناطولیہ کے شہر مالاتیا میں ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ (میکرون) ایک کیس ہے، لہٰذا انہیں اصل میں (ذماغی) معائنے کی ضرورت ہے‘۔

واضح رہے کہ یونان-ترک سمندری تنازع سے لیکر ارمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تناؤ تک کے جیوپولیٹیکل معاملات پر اردوان اور میکرون کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر کے بیان نے کئی مسلمان اکثریتی ممالک میں غصے کی لہر پھیلا دی ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ مزید احتجاج بھی متوقع ہے۔

خیال رہے کہ فرانس، یورپ میں مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

تاہم وہاں اسلام مخالف بیانات و اقدامات میں شدت دیکھی گئی ہے اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیانات نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔

فرانسیسی صدر کا متنازع بیان

واضح رہے کہ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو 'ہیرو' اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو 'مجسم' بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے فرانس کے سیکیولر "بنیاد پرست اسلام" کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے 'بنیاد پرست اسلام' کے خلاف 'دفاع' کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کا نام لیتے ہوئے، اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس میں 'اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد' کروانا ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے، حکومت مساجد کی غیر ملکی مالی اعانت کے بارے میں جانچ پڑتال کرے گی اور اماموں کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا فرانسیسی سرزمین پر غیر ملکی مبلغین کی میزبانی پر پابندی لگائے گی۔

مزید پڑھیں: جامعۃ الازھر کی اسلام کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے بیان کی مذمت

جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازھر کے اسکالرز نے ''اسلام پسند علیحدگی'' کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے بیان کو 'نسل پرستانہ' اور 'نفرت انگیز' تقریر قرار دیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔