فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا مزید تقسیم کی قطعاً محتاج ہے اور نہ ہی اس کی متحمل ہے —تصویر: عمران خان فیس بک
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا مزید تقسیم کی قطعاً محتاج ہے اور نہ ہی اس کی متحمل ہے —تصویر: عمران خان فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کر کے اسلام اور ہمارے نبی ﷺ کو ہدف بنا کر مسلمانوں، بشمول اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 'کسی رہنما کی خوبی یہ ہوتی ہے وہ انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرے جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ وہ وقت ہے کہ جب ایمانوئیل میکرون دوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے (جس سے بنیادپرستی کو سازگار ماحول میسر آتا ہے) کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھتے اور شدت پسندوں کو گنجائش دینے سے انکار کرتے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ صدر ایمائیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کر کے اسلام اور ہمارے نبی ﷺ کو ہدف بنا کر مسلمانوں بشمول اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'بدقسمتی سے فرانسیسی صدر نے تشدد پر آمادہ دہشت گردوں، چاہے وہ مسلمان، سفید نسل پرست یا نازی نظریات کے حامل ہوں، کے بجائے اسلام پر حملہ آور ہوتے ہوئے اسلاموفوبیا کی حوصلہ افزائی کا راستہ چنا'۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ کی فرانسیسی میگزین کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی مذمت

انہوں نے کہا کہ اسلام پر اپنے بلا سوچے سمجھے حملے سے صدر ایمانوئیل میکرون یورپ اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ آور ہوئے ہیں اور انہیں ٹھیس پہنچانے کا سبب بنے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ دنیا مزید تقسیم کی قطعاً محتاج ہے اور نہ ہی اس کی متحمل ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ جہالت کی بنیاد پر دیے گئے عوامی بیانات سے مزید نفرت، اسلامو فوبیا اور انتہا پسندوں کے لیے جگہ پیدا ہوگی۔

فرانسیسی صدر کا متنازع بیان

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو 'ہیرو' اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو 'مجسم' بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا۔

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

فرانسیسی نیوز ویب سائٹ دی لوکل کی رپورٹ کے مطابق استاد کی یاد میں منعقدہ تقریب میں فرانس کے صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’ہم خاکے بنانا نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

ایک روز قبل ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب پر مسلمانوں سے متعلق متنازع پالیسیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمانوئل میکرون کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی ضرورت ہے۔

ترک صدر نے اناطولیہ کے شہر قیصری میں ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا تھا کہ ایسے سربراہ مملکت کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں جو مختلف مذہبی گروہوں کے لاکھوں ممبروں کے ساتھ اس طرح سلوک کرتا ہو: سب سے پہلے انہیں اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس: چارلی ہیبڈو کے سابقہ دفاتر کے قریب چاقو کے حملے میں 4 افراد زخمی

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کی سیکیولر کے "بنیاد پرست اسلام" کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے 'بنیاد پرست اسلام' کے خلاف 'دفاع' کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کا نام لیتے ہوئے، اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس میں 'اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد' کروانا ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے، حکومت مساجد کی غیر ملکی مالی اعانت کے بارے میں جانچ پڑتال کرے گی اور اماموں کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا فرانسیسی سرزمین پر غیر ملکی مبلغین کی میزبانی پر پابندی لگائے گی۔

مزید پڑھیں: جامعۃ الازھر کی اسلام کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے بیان کی مذمت

جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازھر کے اسکالرز نے ''اسلام پسند علیحدگی'' کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کے بیان کو 'نسل پرستانہ' اور 'نفرت انگیز' تقریر قرار دیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔