افغانستان میں امریکا کو مطلوب القاعدہ کا اہم رہنما مارا گیا

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

افغان خفیہ ادارے نے آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائی کہ آپریشن کس طرح اور کب کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
افغان خفیہ ادارے نے آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائی کہ آپریشن کس طرح اور کب کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کابل: افغان فورسز نے امریکا کو انتہائی مطلوب اور القاعدہ کے ایک اہم ترین عسکریت پسند کو ہلاک کردیا، ساتھ ہی افغان حکومت نے طالبان پر اب بھی عسکری گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مصری شہری ابو محسن المرسی برصغیر میں دوسرا اہم ترین رہنما سمجھا جاتا تھا جسے افغان مشرقی صوبے غزنی میں نشانہ بنایا گیا۔

افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ آپریشن کس طرح اور کب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں القاعدہ جنوبی ایشیا کا سربراہ ہلاک

افغانستان کے وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت طالبان اور القاعدہ کے مابین تعلقات کو ظاہر کرتی ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے ہاتھوں القاعدہ کے اہم اراکین میں سے ایک کی ہلاکت، طالبان کے دہشت گردوں سے قریبی تعلقات ظاہر کرتی ہے جو افغان حکومت اور عوام کے خلاف کام کررہے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اب بھی دہشت گردوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور مختلف فریقین سے جھوٹ بول رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ امریکا کے ساتھ فروری میں ہونے والے تاریخی معاہدے میں طالبان نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو القاعدہ سمیت غیر ملکی انتہا پسندوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دیں گے جس کے جواب میں امریکا نے اپنی افواج کا انخلا کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: سی ٹی ڈی کی کارروائی میں القاعدہ برصغیر کا 'انتہائی مطلوب دہشتگرد' ہلاک

ابو محسن المرسی امریکی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں حسام عبدالرؤف کے نام سے موجود تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق امریکا کی جانب سے دسمبر 2018 میں اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور اس پر غیر ملکی دہشت گردوں کو معاونت اور وسائل فراہم کرنے، امریکی شہریوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

افغان خفیہ ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ صوبہ غزنی میں آپریشن کے دوران ابو محسن المرسی کے ایک معاون کو گرفتار کیا گیا ہے جو ’طالبان کے ساتھ رابطے میں تھا‘۔

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ابو محسن المرسی بڑی حد تک نامعلوم تھا لیکن اس کی ہلاکت یہ ظاہر کرتی ہے اس طرح کے عسکریت پسند اب بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنگجوؤں کو دوبارہ گرفتار کرنے پر طالبان کی افغان حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ القاعدہ کے چند اور بہت دور ہی اراکین سہی، لیکن اب بھی موجود ہیں۔

عسکری گروہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ ابو محسن المرسی القاعدہ کے دوسرے درجے کی قیادت سے تعلق رکھتا تھا اس وجہ سے زیادہ تر نامعلوم تھا۔