ایپل کے نئے آئی فونز کا ڈسپلے ہاتھ سے گرنے پر کس حد تک مضبوط؟

26 اکتوبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ آل اسٹیٹ پروٹیکشن پلانز
— فوٹو بشکریہ آل اسٹیٹ پروٹیکشن پلانز

ایپل نے رواں ماہ اپنے آئی فون 12 سیریز کے فونز متعارف کرائے تھے جن میں سے 2 ڈیوائسز اب صارفین کو دستیاب ہے۔

آئی فون 12 اور آئی فون 12 پرو کو خریدنے کے لیے لوگوں کو بہت زیادہ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں اور اکثر صارفین ان ڈیوائسز کو کیمرے کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں۔

تاہم اگر یہ ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر جائے تو کیا یہ آئی فونز اس دھچکے کو برداشت کرسکتے ہیں؟

ایپل نے ان فونز کو متعارف کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے سرامکس شیلڈ اسکرین کا استعمال کیا ہے اور بظاہر یہ اسے کافی پائیدار بھی بناتی ہے۔

ایک کمپنی آل اسٹیٹ پروٹیکشن پلانز نے آئی فون 12 کے دونوں ماڈلز کو مختلف انداز سے 6 فٹ کی بلندی سے گرا کر ان کی مضبوطی کو جانچا، جس کی ویڈیو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

ٹیسٹوں میں دریافت کیا گیا کہ آئی فون 11 اور گلیکسی نوٹ 20 سیریز کے فونز کے مقابلے میں آئی فون 12 کے ان دونوں فونز کا ڈسپلے زیادہ مضبوط ہے۔

آئی فون 12 ان ٹیسٹوں میں زیادہ مضبوط ثابت ہوا جس کے ایجز پر معمولی خراشیں ہی نظر آئیں جبکہ آئی فون 12 پرو کے ڈسپلے کے کافی بڑے حصے پر نمایاں کریک نمودار ہوگئے۔

کمپنی کے مطابق فلیٹ ڈیزائن ممکنہ طو رپر دونوں ڈیوائسز کو بیک سے نیچچے گرانے پر تحفظ فراہم کرتا ہے۔

پہلو کے بل گرانے سے دونوں فونز کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تاہم آئی فون 12 پرو کا بیک گلاس اور ایک وائیڈ اینگل کیمرا ضرور چکناچور ہوجاتے ہیں۔

تاہم اس کی مرمت ممکن ہے مگر اس کے لیے ہزاروں روپے کا خرچہ کرنا پڑسکتا ہے۔

مگر کمپنی کا کہنا تھا کہ صارفین اگر غلطی سے اپنے ان نئے آئی فونز کو گرا دیتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا جس کی وجہ گلاس اور نانو سائز سرامکس کا امتزاج ہے۔

مگر اس نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ صارفین کو خیال رکھنا چاہیے کہ فون ان کے ہاتھوں سے گر نہ سکے تو بہتر ہے۔