سپریم کورٹ: شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی نیب کی اپیل خارج

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

شہباز شریف اس وقت جیل میں ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
شہباز شریف اس وقت جیل میں ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے سے متعلق نیب کی اپیل کو خارج کردیا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نیب کی اپیل پر سماعت کی، اس دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانا عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت نیب کے وکیل نے دلائل دیے کے ای سی ایل میں نام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ملزمان فرار ہوجاتے ہیں، یہی نہیں انکوائری کے مراحل میں بھی مختلف مقدمات میں نامزد 6 ملزمان بھاگ چکے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملزم شہباز شریف پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے جبکہ ملزم منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہے۔

اس پر عدالتی بینج کے رکن جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ 4 روز قبل ہی عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی فل کورٹ نے منی لانڈرنگ سے متعلق فیصلہ سنایا ہے، آپ فیصلہ پڑھ کر کیوں نہیں آتے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تھی اس وقت صورتحال مختلف تھی، نیب جس فرد کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہتا ہے وہ ملک کی نامور شخصیت ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے نیب کی اپیل کو خارج کردیا۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس وقت منی لانڈرنگ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل میں موجود ہیں۔

گزشتہ دنوں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کو مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 29 ستمبر کو قومی احتساب بیورو نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر انہیں لاہور ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا۔

منی لانڈرنگ ریفرنس

خیال رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں۔

تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔