پارلیمنٹ حملہ کیس: انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیراعظم کو بری کردیا

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

جج نے پی ٹی وی حملہ کیس سے عمران خان کی بریت کا کیس الگ کردیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
جج نے پی ٹی وی حملہ کیس سے عمران خان کی بریت کا کیس الگ کردیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پارلیمنٹ حملہ کیس سے وزیراعظم عمران خان کو بری کردیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کرلیا گیا۔

عدالت کے جج راجا جواد عباس نے عمران خان کی جانب سے بریت کی درخواست کے ساتھ تحریری دلائل جمع کروانے کے بعد 26 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اس مقدمے میں اشتہاری رہ چکے ہیں اور بریت کے فیصلے سے قبل ضمانت پر تھے جبکہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری مقدمے میں بدستور اشتہاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ حملہ کیس: عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

دوسری جانب مقدمے میں نامزد صدر مملکت عارف علوی کو صدارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باعث ان کی حد تک کیس داخل دفتر رہے گا یعنی عہدہ صدارت کے دوران اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

تاہم عدالت نے وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، شفقت محمود اور اسد عمر کے علاوہ صوبائی وزیر علیم خان، شوکت یوسف زئی اور جہانگیر خان ترین کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 21 نومبر کو طلب کرلیا۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں جمع کروائے گئے تحریری دلائل میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں پھنسایا گیا تھا۔

عمران خان کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی کسی گواہ نے ان کے خلاف بیان دیا، سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اس لیے بری کیا جائے۔

مزید پڑھیں: پارلیمنٹ حملہ کیس کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنائے جانے کا امکان

دوسری جانب پراسیکیوٹر نے بھی دوران سماعت عمران خان کی بریت کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سیاسی طور پر بنایا گیا جو صرف وقت کا ضیاع ہو گا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بری کردیا جائے تو پروسیکیوشن کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا.

علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستانی عوامی تحریک کے رکن مبشر علی کو بھی مقدمے سے بری کردیا۔

ک یس کا پس منظر

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے سال 2014 میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دیا تھا جو کئی ماہ جاری رہنے کے بعد آرمی پبلک اسکول حملے کے تناظر میں ختم کردیا گیا تھا۔

دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں۔

حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام پر انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اور سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن پر حملے سیمت سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔

پولیس نے دھرنے کے دوران تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، اور رہنماؤں ڈاکٹر عارف علوی،اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، اعجاز چوہدری اور دیگر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ لاگو کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایس ایس پی تشدد کیس: عمران خان کو بری کردیا

اس معاملے پر استغاثہ پرانے مؤقف کے مطابق 3 افراد ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوئے جبکہ 60 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ استغاثہ نے اپنے کیس کو قائم کرنے کے لیے 65 تصاویر، لاٹھی، کٹر اور دیگر اشیا کو ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیا تھا۔

استغاثہ نے کہا تھا کہ احتجاج پُرامن نہیں تھا۔

11 ستمبر 2018 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دھرنے کے دوران بننے والے 3 مقدمات میں وزیراعظم عمران خان کی مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی تھی۔

بعدازاں جج نے پی ٹی وی حملہ کیس سے عمران خان کی بریت کا کیس الگ کردیا تھا اور پی ٹی وی حملہ کیس کی گزشتہ سماعت میں وزیراعظم کے وکیل کو 12 نومبر تک دلائل سمیٹنے کی ہدایت کی تھی۔